4

سوچ کا فرق

گنجان آبادی والے بڑے سے محلے کی تنگ گلی کے اس چھوٹے سے مکان میں پانچ لڑکیاں یکے بعد دیگرے ساڑھے پانچ فٹ کی ہوگئیں۔ خدیجہ بانو کی تو راتوں کی نیند اڑ گئی۔ حسین احمد کے کندھے جھک گئے اور محلے کی بڑی بوڑھیاں آتے جاتے پرسوچ نگاہوں سے انہیں گھورنے لگیں۔

کہیں کوئی بات چلا رہی ہو؟ رازداری سے سوال کیا گیا۔

جواب میں خدیجہ نے ایسی سرد آہ بھری کہ روبی اندر تک کانپ گئی۔

’’کوشش تو کر رہے ہیں۔‘‘

گھر میں بیٹھے ہاتھ پر ہاتھ دھرے؟ ضعیفہ ناراض ہوئیں۔ ناراض وہ اس لیے ہوئی تھیں کہ خدیجہ انہیں اس راز میں شامل ہی نہیں کر رہی تھیں۔

اب وہ انہیں کیا بتاتیں کہ پانچ لڑکیوں کی ماں ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر میں کیسے بیٹھی رہ سکتی ہے؟ بڑی اماں خود سمجھ دار تھیں اور اس درد سے گزر چکی تھیں۔

تم کہو تو کہیں بات چلائیں؟ انہوں نے پوچھا۔

خدیجہ نے بڑی ممنونیت سے انہیں دیکھا۔

آپ ہی کی بچیاں ہیں۔ انہوں نے اپنے پن کی حد کردی۔ بڑی اماں کو بات کچھ خاص پسند نہ آئی۔ انہوں نے یہ بوجھ محلے میں بانٹتے دیر نہ لگائی۔

بہرحال انہوں نے رشتہ لانے کی ذمہ داری اٹھالی تھی۔ خدیجہ اسی میں مشکور تھیں۔ اب تو اکثر دونوں سر جوڑے کھسر پھسر کرتی نظر آتیں۔

لڑکا کھاتا کماتا ہے۔ ایک ہی لڑکا ہے۔ دو بہنیں بیاہی ہیں۔ باپ نہیں ہے۔ ماں بھی سمجھو آج نہیں تو کل مری۔ بڑی اماں نے لڑکے کی خوبیاں بیان کیں۔ ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں جھانک کر آنے والے وقت کی خوش خبری بھی دی۔

وہ سب تو ٹھیک ہے بھابھی! لیکن مانگ بھی تو دیکھیں۔ اتنا کچھ کہاں سے لائیں۔ پیٹ کاٹ کاٹ کر جو کچھ جمع کیا ہے۔ اگر ایک ہی بیٹی کو سب دے دیں تو باقی چار ۔۔۔۔؟ خدیجہ نے ہمت ہار دی۔

تب تو تم بیاہ چکی انہیں۔ اتنا لین دین تو اب عام سی بات ہے، تمہاری لڑکیوں میں کوئی سرخاب کے پر تو لگے ہیں نہیں کہ کوئی انہیں مفت میں بیاہ لے جائے۔ بڑی اماں برہم ہوئیں۔

٭٭

خدیجہ کسی مجرم کی طرح خاموش تھیں۔ باورچی خانے میں کھڑی روبی اور زیبا ایک دوسرے سے نظریں چرا کر اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئیں۔

اب خدیجہ کی تو بس ایک ہی مصروفیت رہ گئی تھی کہ کس طرح یہ پانچ کی پانچ سلیں ان کے سینے سے سرک جائیں۔ اس سلسلے میں بڑی اماں کے شہر بھر کے تعلقات کام آرہے تھے۔

وہ آس پاس لڑکوں کا سراغ لگاتیں۔ اور جب خود مطمئن ہوجاتیں تو خدیجہ کی صلاح مشورہ سے لڑکی دکھانے لے آتیں۔

آج بھی اسی سلسلے میں گہما گہمی چھائی ہوئی تھی۔

نصف درجن عورتوں اور ایک درجن بچوں سے گھر بھر گیا تھا۔ ڈیڑھ درجن لوگ ایسے بے چین فطرت تھے کہ ایک جگہ ٹک کر بیٹھ ہی نہیں رہے تھے۔

کبھی اس کمرے میں تو کبھی اس کمرے میں، کبھی دالان میں تو کبھی باورچی خانے میں پائے جاتے۔

آپ لوگ یہاں آئیے۔ یہاں آکر بیٹھئے، زیبا نے سب کو بٹورنے کی کوشش کی۔

ہاں! ہاں! چلو چلو، ایک فربہی مائل خاتون نے نعرہ لگایا مگر خود وہیں باورچی خانے میں کھڑی رہیں۔

خدیجہ نے الجھن بھری نگاہوں سے انہیںدیکھا۔

ایک بات کہیں آنٹی!

ہاں! کہو، خدیجہ نے سوچا کہیں بڑی کو چھوڑ کر دوسری تیسری کا چکر تو نہیں۔

ذرا لڑکی کے بال دکھادیں۔ انہوں نے جھجکتے ہوئے کہا۔

بال۔۔۔؟ سمی ہنس پڑی۔ یہاں نہیں ہے۔ وہیں آپی کے پاس ہے۔ وہ محترمہ بھی ہنس دیں۔

ہم کو معلوم ہے۔ ہم نے دو پٹہ ہٹاکر اس لیے نہیں دیکھا کہ آپ لوگوں کو برا لگے گا۔ کیا ہے کہ ہمارے یہاں۔۔۔

انہوں نے اپنے گنتی کے چند بالوں کو بڑی حسرت سے چھوا۔

خدیجہ کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔

بڑی مشکل سے تو انہوں نے گنجے داماد کو قبول کیا تھا۔ جب کہ بال کے معاملے میں ان کی سب لڑکیاں خوش قسمت تھیں۔

٭٭

اللہ نے بیٹا دیا بھی تو سب سے پیچھے۔ جب تک کسی قابل ہوگا۔ لڑکیوں کی عمر نکل چکی ہوگی۔ خدیجہ نے ناشکری کی۔

نہ دیتا تو کیا کرتے؟ شکر کرو کہ دیا ہے۔ حسین احمد کاغذ قلم لے کر کچھ حساب کتاب کر رہے تھے۔ قلم روک کر تنبیہ کی۔

خدیجہ نے دل ہی دل میں توبہ کی اور حساب میں تاک جھانک کرنے لگیں۔

بہت مشکل ہے۔ ان سے کہو نقد میں کچھ کم کروادیں۔ انہوں نے بڑی اماں کی بابت کہا۔

نہ! انہوں نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ بیٹے کی دوکان ہے؟ جو یہ بھاؤ تاؤ۔ زیادہ کھچ کھچ کروگی تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ پھکڑ لوگ ہیں۔ کنی کتراتے دیر نہیں کریں گے۔ خدیجہ نے بڑی اماں کے جملے لفظ بہ لفظ دہرائے۔حسین احمد خاموش رہے۔

آپ ہی کوشش کریں۔ خدیجہ نے نہ نظر آنے والا راستہ دکھایا۔

کہاں سے کریں؟ کیسے کریں؟ ایک آمدنی میں کیا کیا جٹائیں۔ اگر کہیں سے قرض لیں بھی تو کس آس پر؟ آج ایک کی شادی کردیں۔ کل دوسری کی فکر، پھر تیسری کی۔ اور آمدنی کی وہی صورت۔ حسین احمد ہر طرف سے مایوس تھے۔

خدیجہ خاموش ہوگئیں۔

سوچوں کا سیلاب تھا۔ لیکن کہنے کے لیے الفاظ ختم ہوگئے تھے۔

آگے پیچھے دیکھ کر ہی انتظام کرنا تھا۔ پھر بھی ان لوگوں نے ہمت کی۔

ادھر بات طے ہوئی۔ ادھر لڑکے والے مزید شیر ہوگئے۔ آئے دن نئی نئی فرمائشیں۔ باراتی اتنے ہوں گے۔ فلاں ہوٹل میں ٹھہریں گے۔ خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ ہونی چاہیے۔ ان لوگوں نے یہ بھی قبول کرلیا۔

مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ حسین احمد نے بات ختم کی۔

ایک دن بڑی اماں ایک کاغذ پکڑے چلی آئیں۔

یہ کیا ہے؟ خدیجہ نے کھول کر دیکھا۔

مگر ایسی تو کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ آپ نے کہا تھا کہ وہ لوگ صرف نقد لیں گے۔ باقی سامان ہم لوگ اپنی مرضی سے جو دیں۔ خدیجہ پریشان ہوگئیں۔

ہاں تو ہم نے اپنے من سے تو نہیں کہا تھا۔ جو ان لوگوں نے بولا تھا ہم سے کہہ دیا۔

پھر یہ؟ خدیجہ نے پرزہ دکھایا۔

کہتے ہیں کہ کمپنی کا نام لکھ کر دیا ہے۔ کون سا سامان کس کمپنی کا اچھا ہوتا ہے۔

خدیجہ کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوگئے۔ انہوں نے فوراً گلی کے بچے کو دوکان بھیج کر حسین احمد کو بلوایا۔

انہوں نے کاغذ دیکھا اور قلم نکال کر اس پر کچھ لکھ دیا۔ ان لوگوں سے جاکر کہہ دیجئے گا کہ اپنے لڑکے کے لیے کوئی اور گھر دیکھ لیں۔ انہوں نے کاغذ تہہ کر کے بڑی اماں کی طرف بڑھایا۔

خدیجہ نڈھال سی چوکی پر بیٹھ گئیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ لیکن ہم کوشش تو کرسکتے ہیں نا؟ یہ ایک کوشش ہے۔ خود کو اتنا نہیں گرانا چاہیے کہ لوگ روندتے ہوئے گزر جائیں۔ حسین احمد نے تسلی دی۔

اور شام تک لڑکے کی ماں بہنیں ہنستی مسکراتی حاضر تھیں۔

یہ کیا آنٹی؟ ہمیں سامان اپنے لیے تھوڑی چاہیے؟ آپ جو دیں گی اپنی بیٹی کو دیں گی۔ ہم نے تو چچی جان سے کہا کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے ہیں۔ انہیں کہاں علم ہوگا کہ کون سا پروڈکٹ کس کمپنی کا اچھا ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ پیسہ خرچ کریں اور سامان خراب نکل جائے۔ اس سے اچھا ہے کہ یہ لسٹ لے جائیں۔ اب آپ کی مرضی کیا دیں گی کیا نہیں اس سے ہمیں کیا مطلب؟ ہمیں تو اپنی بھابھی سے مطلب ہے۔ محترمہ نے لگاتار بولتے ہوئے اپنا مطلب واضح کیا اور آخر میں لاڈ بھی جتایا۔

آخر انہیں اپنے گنجے بھائی کے لیے گھنے اور لمبے بالوں والی لڑکی درکار تھی تاکہ ان کے خاندان کو اس دائمی گنجے پن سے نجات حاصل ہو۔

٭٭

روبی کی شادی ہوگئی۔ اور اب زیبا کے لیے لیفٹ رائٹ شروع ہوگئی تھی۔

لڑکی تو کالی ہے۔ آنے والی عورتوں نے کھسر پھسر کی۔

تصویر میں تو گوری تھی۔ ایک نے حیرت سے کہا:

لو! تمری بات؟ لگے آج پیدا ہوئی ہو؟ تصویر میں کالے کو گورا اور بدصورت کو خوبصورت بنانا اب کون سا مشکل ہے؟ کمپیوٹر کا زمانہ ہے، کمپیوٹر کا۔ عاقلہ نے بیوقوف کو جھاڑ دیا۔

یہاں تو دیکھنے سے زیادہ دکھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ آنے والیاں شاید بھول گئی تھیں کہ یہاں پر جو ایک گونگی لڑکی بیٹھی ہے بہری ہرگز نہیں ہے۔

معاملہ اسی دن ختم ہوگیا۔ زیبا کی رنگت نے مسئلہ پیدا کر دیا تھا۔ گاڑی آگے بڑھ ہی نہیں رہی تھی۔

لوگ آتے اورناک بھنو چڑھانے لگتے۔ کوئی کسی کو کچھ اشارہ کرتی۔ کوئی ٹہوکے مار رہی ہوتی۔ زیبا کادل برا ہو جاتا۔

اب تو لوگ دھڑلے سے سمی کے بارے میں بات کرتے تھے۔ لیکن خدیجہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اگر وہ ایسا کردیتیں تو اور مشکل ہوجاتی، سمی کے بعد آسیہ تھی پھر فرحانہ۔ سب ایک ساتھ کی لگتی تھیں زیبا کا راستہ اور تنگ ہو جاتا۔

خدیجہ، سمی کو ہٹا دیا کرتیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ زیبا اپنی رنگت تبدیل نہیں کرسکتی تھی اور لوگ اپنا معیار بدل نہیں سکتے تھے۔ خدیجہ کو ہی اپنی سوچ بدلنی پڑی، سمی بھی اپنے گھر کی ہوگئی۔

زیبا کے متعلق خدیجہ کی فکر مندی بڑھتی گئی۔

حسین احمد نے سمجھایا۔ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔ زیبا کی شادی بھی اپنے وقت پر انشاء اللہ اچھی جگہ ہو ہی جائے گی۔ لیکن خدیجہ پریشان تھیں کہ وہ وقت آہی نہیں رہا تھا اور وقت نکلا جا رہا تھا۔ رشتہ ملتا بھی تو ایسا نامناسب کہ خدیجہ کا دل راضی نہیں ہوتا۔

انہوں نے ملنے ملانے والے ہر فرد کو زیبا کے رشتے کے لیے کہہ رکھا تھا۔ آخر سہلہ چچی کی بھاگ دوڑ کچھ کام آئی۔

تم بس دو لاکھ روپے کا انتظام رکھو۔ وہ لوگ ایک دم چاروں ہاتھ پیر سے تیار ہیں۔ لوگ آئے بھی اور پسند کر کے چلے گئے۔ سہیلہ چچی خدیجہ کو سمجھا رہی تھیں۔

خدیجہ تو دو لاکھ سن کر ہی پریشان تھیں۔

ابھی ہماری دو لڑکیاں اور ہیں۔ انہوں نے کمزور سی آواز میں کہا۔ وقت آنے پر سب انتظام ہو جائے گا، تم فی الحال زیبا کے بارے میں سوچو۔

بھابھی! لڑکا کچھ خاص کرتا بھی نہیں ہے۔ کپڑے کی دوکان میں اسے کیا ملتا ہوگا؟ خدیجہ ہچکچائیں۔

تمہارے یہی نخرے آج یہ دن لے آئے۔ ارے لڑکا ہے نا؟ کچھ نہ کچھ کرے گاہی۔ اور پھر یہ جو نقد دوگی اس سے اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہے۔ دیکھنا زیبا کی قسمت سے خوب پھلے پھولے گا۔

خدیجہ نے حسین احمد سے مشورہ کیا۔

طے پایا کہ دیہات کے کھیت بیچ دیے جائیں۔ خدیجہ اداس ہوگئیں۔ یہ کھیت انہیں دختری میں ملے تھے، جس سے بٹائی پر سال بھر کا اناج مل جایا کرتا تھا۔

لڑکیوں کی شادیاں ہوجائیں گی تو جھنجھٹ ہی ختم ہوجائے گا۔ رہ جائیں گے ہم تینوں، گزر بسر ہو ہی جائے گی۔ حسین احمد نے دلاسہ دیا۔

خدیجہ سوچ رہی تھیں کہ اللہ نے پانچ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ڈھیر ساری دولت بھی دی ہوتی تو وہ بھی من چاہا داماد خریدتیں۔ وہ بھی خوش، ان کی لڑکیاں بھی خوش۔

بہرحال زیبا کا مرحلہ طے ہوگیا۔ اس کے بعد آسیہ اور فرحانہ بھی اپنے گھر کی ہوگئیں۔

٭٭

پانچ لڑکیوں کی شادیوں میں دس سال گزر گئے۔ خدیجہ اور حسین احمد مزید بوڑھے ہوگئے۔ اور عامر جوان ہوگیا۔ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا تھا۔ اب ماں اور بہنوں کے دل میں اس کے سر پر سہرا سجانے کا ارمان جنم لینے لگا۔

دیکھنا میں اپنے بھائی کے لیے ایسی لڑکی ڈھونڈوں گی کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ روبی نے اپنے گبرو جوان برسرِ روزگار بھائی کو دیکھتے ہوئے کہا:

ہاں بھئی! لڑکی خوبصورت ہونی چاہیے۔ باقی چیزوں میں سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔ سیمی نے اپنی لڑکی کے بال گوندھتے ہوئے کہا۔

اور گھر، گھرانہ؟ کوئی اسٹیشن ہونا چاہیے۔ ایسے ہی کسی ٹٹ پونجئے کے یہاں کردیں؟ زیبا خفا ہوئی۔

ایسے ہی محلے والوں نے جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ لوگوں کا بس نہیں چل رہا ہے کہ لڑکے کو پکڑ کر نکاح پڑھا دیں۔ آسیہ نے بڑھا چڑھا کر بات پیش کی۔

ہاں! ابھی لوگوں کی رال ٹپک رہی ہے اور جب اس گھر میں پانچ پانچ لڑکیاں بیٹھی تھیں، تب لوگوں نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔ زیبا نے تلخی سے کہا۔

چھوڑو بھی۔ ہم لوگ کسی کے آسرے پر بیٹھے تو نہیں رہ گئے۔ روبی وہ تکلیف دہ باتیں یاد بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

آپ کی نظر میں کوئی لڑکی ہے؟ سیمی نے جلدی جلدی اپنی لڑکی کے بال گوندھے اور اسے تقریباً دھکا دیتے ہوئے روبی کے پاس آبیٹھی۔

ہم بتائیں؟ آنگن میں بچوں کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلتے ہوئے عامر نے شرارت سے پوچھا۔

خبردار! خبردار! جو تم نے ادھر ادھر نگاہ ڈالی۔ روبی نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی۔ عامر نے ہنسنے کی ایکٹنگ کی۔

ایک ہی تو بھائی ہے ہمارا۔ ہمارے بھی کچھ ارمان ہیں۔ فرحانہ نے لب کھولے۔ سبھی بہنوں نے ہاں میں ہاں ملائی۔

خاندان میں تو خیر سوچنا بھی نہیں ہے۔ محلے میں بھی ایک سے ایک مضحکہ خیز صورتیں ہیں۔ روبی نے دو دروازے ایسے ہی بند کردیے۔

تو پھر؟ سب نے سوچا۔

میری سسرال میں ۔۔۔۔ سیمی نے کچھ کہنا چاہا۔

اے! تم اپنی سسرال کا نام مت لو۔ وہاں کی لڑکیوں اور ہاتھیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ زیبا نے ہاتھ جوڑے۔

سمی منہ بنا کر چپ ہوگئی۔

کیوں نہ بڑی اماں سے رابطہ کریں؟ روبی نے مشورہ دیا۔

ارے نہیں۔ ان کی پہنچ تو بس عام سے گھرانے تک ہے۔ وہ تو پیچھا ہی پکڑ لیں گی۔ ناک میں دم کردیں گی، فرحانہ نے بات رد کی۔

سہیلہ چچی؟ زیبا کو اپنی محسنہ یاد آگئیں۔

کیوں نہ اخبار میں اشتہار دے دیں؟ رشتوں کی برسات ہوجائے گی۔ اب اس میں سے اپنی پسند کا جو رشتہ چاہو چن لو۔ کسی کا احسان اٹھانے سے بھی بچ جائیں گی۔

فرحانہ نے پتے کی بات کی۔ ساری بہنیں متفق ہوگئیں۔

روبی کاغذ قلم سنبھال کر بیٹھ گئی۔ اور سب نے مل جل کر ایک اچھا سا اشتہار تیار کرلیا۔ اور اسے ایک مشہور روزنامہ میں بھیج دیا گیا۔

اشتہار کا چھپنا تھا کہ واقعی رشتوں کی برسات ہوگئی۔ اب تو آئے دن تفریح کا ذریعہ نکل آیا۔

٭٭

اف توبہ! پکوڑے جیسی ناک اور بٹن جیسی آنکھیں تھیں لڑکی کی۔ سمی نے گال پیٹے۔

اور ہونٹ؟ روبی کے لڑکے نے اشتیاق سے پوچھا۔

چقندر جیسے کالے۔ روبی نے غصے سے کہا۔

ایک تو جھوٹ سچ کر کے بلوا لیا۔ بھول گئے تھے کہ ہماری آنکھیں صحیح سلامت ہیں۔ ہم نے سوچا کہ باپ انجینئر ہے، پڑھا لکھا معقول گھرانہ ہوگا۔ کیا پتہ تھا کہ انجینئر کے گھر سے ایسا نمونہ برآمد ہوگا۔

روبی کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے بے ربط سی بات کی۔

اچھا چلو! ہوگیا۔ صورتیں تو سبھی اللہ کی بنائی ہوئی ہیں۔ ناپسند ہے۔ خاموش رہو۔ حسین احمد نے معاملہ رفع دفع کیا اور مسجد چلے گئے۔

کل چلیں گے توفیق صاحب کے یہاں۔ آسیہ نے اپنے بچے کو تھپک تھپک کر سلاتے ہوئے کہا۔

سوچ لو! پرائمری کے ٹیچر ہیں، کیا دیں گے اپنی لڑکی کو؟ روبی نے آگے کی سوچی۔

چلو بھی تو! لڑکی اچھی ہوئی تو کچھ کم کردیں گے۔ زیبا نے مارجن دینے کی سوچی۔

دیکھو نقدمیں کچھ کم نہیں کرنا ہے۔ لڑکے کو جتنا زیادہ کیش ملتا ہے سمجھو اتنی ہی زیادہ اس کی اہمیت ہے۔ روبی آخر بڑی تھی، کہیں بھی کسی کو پھسلنے نہیں دے رہی تھی۔

ہاں! اور اس کے بعد لڑکی چاہے ڈھنڈھناتی ہوئی چلی آئے۔ سمی نے غصے سے کہا۔ لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ سامان کیا کیا ملا؟

ارے بھئی چل کر ایک بار دیکھ تو لیں۔ کچھ گھٹ جائے گا کیا؟ عزت ہی بڑھ جاتی ہے۔ آسیہ نے ہنس کر کہا۔ ماحول ایک دم ہلکا پھلکا ہوگیا۔ کل کی تیاریاں ہونے لگیں۔

توفیق صاحب کی لڑکی دیکھ کر تو ان سب کی بولتی بند ہوگئی۔

دیکھا؟ میں نہ کہتی تھی کہ چل کر دیکھ لو۔ آسیہ نے سب کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھا۔

روبی نے نظروں سے ان سب کو کچھ اشارہ کیا۔ جسے وہ سب سمجھنے سے قاصر تھیں۔

لڑکی تھوڑی دیر بیٹھ کر چلی گئی۔

لڑکی تو ٹھیک ہے۔ روبی نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے زور سے کہا۔

ٹھیک؟ وہ سب حیران ہوئیں۔

لڑکی کی ماں مطمئن نظر آئیں۔

اب رہا لین دین کا معاملہ۔ روبی نے بات آگے بڑھائی۔

ہمارے یہاں بغیرلین دین کی شادی ہوتی ہے۔ نہ ہم لوگ ایک روپیہ نقد دیتے ہیں نہ ہی ڈالا بری کی کوئی فرمائش کرتے ہیں۔ہمارے یہاں شرعی شادی ہوتی ہے۔

یہ کیا۔۔۔۔؟ سب کو سانپ سونگھ گیا۔

ایسا بھی کہیں ہوتا ہے؟ یہ سب تو ۔۔۔۔؟ بولتی تو صحیح معنوں میں اب بند ہوئی تھی روبی کی۔ لڑکی کی ماں پراعتماد تھیں۔

ہمارے یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ جو نکاح جتنی سادگی سے ہوتا ہے اتنا ہی بابرکت ہے۔ لڑکی کی ماں ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ ان لوگوں کو ہی کھسکنا پڑا۔

ماں کا یہ حال ہے تو باپ کا کیا ہوگا؟

کیسے کیسے لوگ ہیں اس دنیا میں؟ وہ سب حیران تھیں۔

ارے جن لوگوں کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا نا وہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ سمی جل کر بولی۔

لڑکی ڈھونڈنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پانچوں فکر مند تھیں۔

لڑکی ڈھونڈو گی تو ضرور ملے گی، مگر تم لوگ تو پتہ نہیں کیا ڈھونڈ رہی ہو؟ خدیجہ عاجز آگئیں۔ وہ جلد از جلد اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھنا چاہتی تھیں۔

’’ہاں تو کسی کو بھی پکڑ کر بہو بنا لیں۔ لڑکیوں کی کمی ہے کیا؟ روبی جھنجلا کر بولی۔

ہم لوگ اچھی لڑکی کی تلاش میں ہیں۔ زیبا نے وضاحت کی۔ حالاں کہ اچھی لڑکی بڑی شدت سے اسے یاد آئی تھی۔

اب کیا کریں؟ سب نے بیٹھ کر سوچا۔

کل چلتے ہیں حق صاحب کے یہاں۔ روبی نے ڈائری کھولی۔

کیا کرتے ہیں وہ؟ آسیہ نے ڈائری میں جھانکا۔

ہائی اسکول میں پرنسپل تھے۔ ریٹائر ہوچکے ہیں۔ روبی نے بتایا۔

تب تو کافی پیسہ ملا ہوگا۔ کل ہی چلیں؟

ہاں یہ ٹھیک ہے۔ گرمی کی چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں۔ سمی کو اپنے سسرال واپس جانا تھا۔ ساری بہنیں پٹنہ میں ہی بیاہی تھیں۔ ایک اسی کی شادی شہر سے باہر ہوئی تھی۔

اگلے دن حق صاحب کے یہاں جانے کے لیے کپڑے وغیرہ منتخب کیے جانے لگے۔

لیکن وہاں سے بھی وہ سب منہ بناتی ہوئی واپس آئیں۔

نام ہے چاندنی اور شکل دیکھو تو الٹا توا۔ سمی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئی۔ ساری بہنیں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

پتہ نہیں کیوں؟ ماں باپ اپنے بچوں کو دیکھتے نہیں ہیں اور نام رکھ دیتے ہیں چاندنی، حسینہ، مہ پارہ، زیبا کی ہنسی رک ہی نہیں رہی تھی۔ وہ شاید بھول گئی تھیں۔ حالاں کہ خدیجہ نے کئی بار ان سب کو یہ کہانی سنائی تھی کہ اس کی سانولی رنگت اور معمولی نقوش دیکھ کر ہی انہوں نے اس کا نام زیبا رکھ دیا تھا کہ شاید نام کا ہی کچھ اثر آجائے۔

ادھر روبی پریشانی سے سوچ رہی تھی کہ دنیا سے ’’اچھی‘‘ لڑکیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے کیا؟lll

شیئر کیجیے
Default image
واصفہ غنی

تبصرہ کیجیے