BOOST

توبہ و استغفار کی اہمیت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور میں نے کہا: اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو) بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال اور اولادسے نوا زے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہر یں جاری کر دے گا۔‘‘ ( نوح 10۔12)

یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ اللہ سے بغا وت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیامیں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کر دیتی ہے، اور اس کے برعکس اگر کوئی قوم نافرمانی کے بجائے ایمان وتقوی اور احکام الٰہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرے تو یہ آخرت ہی میں نا فع نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی اس پر نعمتوں کی بارش ہو نے لگتی ہے۔

سورہ طٰہ میں ارشاد ربانی ہے: ’’اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اورقیا مت کے روز ہم اسے اندھا اٹھا ئیں گے۔‘‘(سورہ طٰہ:124)

سورہ مائدہ میں اہل کتا ب کو خطاب ہے: ’’اور اگر ان اہل کتاب نے تورات اور انجیل اور ان دوسر ی کتا بوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا‘‘۔ (سورہ مائدہ : 66) سورہ اعراف میں فرمایا: ’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی روش اختیار کر تے تو ہم ان پرآسمان سے اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘۔ (سورہ اعراف: 96)

سورہ ہود میں ہے کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا: ’’اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسا ئے گا اور تمہاری موجو دہ قوت پر مزید قوت کااضا فہ کرے گا‘‘۔ (سورہ ہود آیت 53)

خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی اسی سورہ ہود میں اہل مکہ کو مخاطب کر کے یہ بات فرمائی گئی :’’اور یہ کہ اپنے ر ب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤتو وہ ایک مقررہ وقت تک تم کو اچھا سامانِ زندگی عطا کردے گا‘‘۔ ( سورہ ہود: 3)

حدیث میں آتا ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں سے فرمایا کہ ’’ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہو جاؤ تو عرب وعجم کے ما لک بنا دیے جاؤ گے‘‘۔ (طبرانی وا بن سعد)

قرآن مجید کی اسی ہدا یت پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ قحط کے موقع پر سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ لوگوںنے عرض کیا: امیر المومنین! آپ نے بارش کے لیے تودعا کی ہی نہیں۔ فرمایا: میں نے آسمان کے ان دروازوں کوکھٹکھٹا دیا ہے جہاںسے بارش نازل ہوتی ہے، اور پھر سورہ نوح کی یہ آیات بینات لوگوں کو پڑھ کر سنائیں۔ (ابن جریر،ابن کثیر)

اسی طرح ایک مرتبہ حسن بصری رحمہ اللہ کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا: اللہ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگ دستی کی شکا یت کی، تیسرے نے کہا: میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی، چوتھے نے کہا: میری زمین کی پیدا وار کم ہورہی ہے، ہر ایک کو وہ یہی جواب دیتے چلے گئے کہ استغفار کرو۔ لوگوں نے کہا: یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکا یتوں کا ایک ہی علاج بتا رہے ہیں؟ جواب میں انہوں نے سورہ نوح کی مذکورہ آیات تلاوت کیں۔ (کشاف)lll

شیئر کیجیے
Default image
اسلام الدین

تبصرہ کیجیے