دعا

قبولیت دعا

خالق کائنات نے قرآن مجید میں انسان کو ناشکرا اور جلد باز قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروردگار کی طرف سے بے بہا انعامات کے باوجود انسان ناشکرا ہی رہتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر ہونے والے انعامات کو تو کوئی شمار ہی نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود سورہ ابراہیم (آیت34) میں فرمایا: ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمارکرنا چاہو تو نہ شمار کرسکو گے۔ بے شک انسان ظلم کرنے والا اور ناشکرا ہے‘‘۔ اسی طرح سورۂ رحمن میں اللہ تعالیٰ نے تکرار کے ساتھ فرمایا: ’’پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ اس حقیقت کے باوجود بہت ہی کم لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

اسی طرح قرآن مجید نے انسان کی ایک صفت ’’جلد باز‘‘ بیان کی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیت11) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بے شک انسان بہت جلد باز ہے۔‘‘ انسان کی یہ جلد بازی ہمیں بہت سے مواقع پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان میں ایک موقع دعا کی قبولیت کا ہے۔ دعا کی قبولیت کے حوالے سے انسان چاہتا ہے کہ اس کی دعا کو فوراً قبولیت کا درجہ ملے اور اْس کی مانگ جلد سے جلد پوری ہوجائے۔ اگر ایک دو بار مانگے سے کسی انسان کو اپنی مانگ نہیں ملتی تو وہ فوراً شکوہ شروع کردیتا ہے کہ میری دعائیں تو قبول ہی نہیں ہوتیں۔ آہستہ آہستہ یہ شکوہ اْس کے دل میں گھر کرلیتا ہے اور وہ مایوس ہوکر رب العالمین سے دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔

دعا کی عدم قبولیت کے حوالے سے مایوسی کا یہ رویہ ہماری نوجوان نسل میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ نوجوان نسل بہت جلد اس قدر مایوس ہوجاتی ہے کہ انتہائی قدم اْٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ مثلاً اگر دعاؤں کے باوجود کسی نوجوان کے امتحان میں اچھے نمبر نہ آئیں، یا اچھی نوکری نہ ملے، یا پسند کی شادی نہ ہو تو وہ مایوس ہوکر خودکشی کرلیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین اور گھر والوں کو بھی تکلیف کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ تقریباً ہر روز یہ خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں کہ ایک طالب علم نے فیل ہونے یا نمبر کم آنے پر خودکشی کرلی، محبوبہ سے شادی نہ ہونے پر نوجوان پنکھے سے لٹک گیا، نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے نے زہریلی گولیاں کھاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، وغیرہ وغیرہ۔ ابھی چند دن پہلے میٹرک کے رزلٹ والے دن کئی طالب علموں نے خودکشیاں کیں، وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نااْمید ہوگئے اور اپنی جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔

دعا کے قبول نہ ہونے کی اگر وجوہ کا تذکرہ کریں تو اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا اپنا رویہ ہے۔ بایں طور کہ ہم جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور اس طرح اپنی دعاؤں کو ضائع کرلیتے ہیں۔ یہ جلد بازی اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ نبی اکرمؐ نے واضح طور پر فرمادیا: ’’تمہاری دعائیں اْس وقت تک قابلِ قبول ہوتی ہیں جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لیا جائے کہ بندہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی مگر وہ قبو ل نہیں ہوئی‘‘ (بخاری ومسلم)۔ یعنی جب انسان کی دعا جلدی قبول نہیں ہوتی تو وہ ایک طرف تو شکوہ کرتا پھرتا ہے اور دوسری طرف مایوس ہوکر دعا مانگنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ یہ انسان کی وہ غلطی ہے جس سے اس کی دعا قبولیت کا درجہ نہیں پاتی۔ گویا اس کی جلد بازی ہی اس کی دعا کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

دعا کے قبول نہ ہونے کی دوسری اور اہم وجہ حرام خوری ہے۔ انسان اگر اپنی ضروریاتِ زندگی حرام کی کمائی سے پوری کرتا ہے تو اس کی دعا کسی صورت قبول نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ نبی اکرمؐے فرمایا:’’بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز ہی قبول کرتا ہے‘‘۔۔۔ اس کے بعد آپؐنے اْس شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرے، اس کے بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہو، اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اْٹھا اْٹھا کر یارب! یارب! کہے (یعنی دعا مانگے)، مگر اس کی حالت یہ ہو کہ اس کا کھانا، پینا، لباس اور غذا ہر چیز حرام ہو تو اس کی دعا کیونکر قبول کی جائے!‘‘(صحیح مسلم)۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے اس سے وہ شخص مراد لیا ہے جو احرام کی حالت میں کسی دوردراز علاقے سے پیدل حج کرنے آیا ہو اور جبلِ رحمت کی سب سے اونچی چوٹی پر کھڑا ہوکر گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہا ہو، لیکن حرام خوری کی وجہ سے اْس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔

اس حوالے سے ہمیں چاہیے کہ اپنا محاسبہ کریں اور سوچیں کہ دعا کے قبول نہ ہونے کی ماقبل بیان کردہ دو وجوہ میں سے کوئی مجھ میں تو نہیں پائی جاتی، کیا میں بہت جلد بازی سے کام تو نہیں لے رہا ہوں یا میں حرام خوری تو نہیں کررہا ہوں۔ اگر ایسا ہے تو پھر شکوہ کس بات کا؟ اس لیے کہ پھر تو دعا قبول ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ خود ہیں۔ اور اگر ان دونوں وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی آپ میں موجود نہیں ہے اور پھر بھی آپ کو ایسے لگتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی تو اس حوالے سے یہ یاد رکھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی قبولیت کے چار درجات بتائے ہیں۔ اگر انسان ان درجات کو جان لے تو پھر نہ کوئی شکوہ کرتا نظر آئے گا اور نہ ہی کوئی نوجوان خودکشی کرتا دکھائی دے گا۔ وہ چار درجات یہ ہیں:

(1) انسان نے جو مانگا ہے اللہ تعالیٰ وہ دے دے۔ انسان تو بس اسی کو قبولیت مانتا ہے کہ جو مانگا وہ مل گیا۔

(2) جو مانگا ہے اس کے بجائے اللہ تعالیٰ اْس کا نعم البدل عطا کردے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی قبولیت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت کے مطابق ہمیںہمارے فائدے کی چیز عطا فرما دے۔ اس لیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا چیز ہمارے لیے بہتر ہے اور کیا نقصان دہ۔ اسی بات کو سورۂ البقرہ (آیت33) میں بایں الفاظ بیان کیا گیا: ’’ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لیے ناپسند کرو مگر وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ یا (اس کے برعکس) تم اپنے لیے کسی چیز کو پسند کرو مگر حقیقت میں وہ تمہارے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ (وہ کچھ) جانتا ہے جو تم نہیں جانتے۔‘‘

(3) اس دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہم سے مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کردے۔ یقینا یہ بھی دعا کی قبولیت کا ایک بڑا درجہ ہے کہ انسان کو وہ تو نہ ملے جو اس نے مانگا ہے، مگر جو مصائب اْس پر آنے تھے اللہ تعالیٰ اس دعا کے ذریعے انسان کو اْن سے بچا لے۔

(4) اللہ تعالیٰ اس دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کرلے، بایں طور کہ یہ دعائیں قیامت کے دن نیکیوں کی شکل میں آئیں گی۔ ایک روایت کا مفہوم ہے کہ جب بندہ ان نیکیوں کو دیکھے گا تو کہے گا کہ یہ میری نیکیاں تو نہیں ہیں۔ تب اْسے بتایا جائے گا کہ یہ وہ دعائیں ہیں جو دنیا میں قبولیت کا درجہ نہ پا سکیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ذخیرہ کرلیا۔ آج یہ دعائیں نیکیوں کی شکل میں تیرے سامنے ہیں۔ اس پر بندہ کہے گا: ’’کاش میری کوئی دعا دنیا میں قبول نہ ہوئی ہوتی اور ہر دعا کا پھل مجھے یہیں ملتا۔‘‘

بہرحال بہت سے لوگ ناواقفیت کی بنا پر دعا کی قبولیت کا مطلب بس اسے سمجھتے ہیں کہ بندہ اللہ سے جومانگے وہ اسے مل جائے۔ اور اگر وہ اسے نہیں ملتا تو وہ سمجھتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ ماقبل بیان کردہ دعا کی قبولیت کے درجات سے ہر شخص آسانی سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ دعا کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی اور دعا کرنے والا محروم نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم وحکمت کے مطابق مذکورہ بالا چاروں صورتوں میں سے کسی نہ کسی طرح بندے کو ضرور نوازتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ نہ تو دعا کی عدم قبولیت کا شکوہ کریں اور نہ مایوس ہوکر خودکشیاں کرنے لگ جائیں، بلکہ ہمیں چاہیے کہ مسلسل دعائیں کرتے رہیں۔

آخر میں دعا کی اہمیت کے حوالے سے نبی اکرمؐ کے چند فرمان ملاحظہ ہوں۔ آپؐ نے فرمایا:

٭…دعا عین عبادت ہے۔ (ابوداؤد)

٭…دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی)

٭… اللہ کے نزدیک کوئی عمل دعا سے زیادہ عزت والا (پسندیدہ) نہیں ہے۔ (ابن ماجہ)

٭… بے شک تمہارے پروردگار میں حددرجہ حیا وکرم ہے اور جب کوئی بندہ اس سے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اللہ کو شرم محسوس ہوتی ہے کہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے۔ (ترمذی)

شیئر کیجیے
Default image
حافظ محمد زاہد

تبصرہ کیجیے