تجارت

تجارت کی اخلاقیات

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَحِلُّ لِاَحَـدٍ اَنْ یَّبِیْعَ شَیْئـًا اِلاَّ بَیَّنَ مَا فِیْہِ، وَ لاَ یَحِلُّ لِاَحَدٍ یَعْلَمُ ذٰلِکَ اِلاَّ بَیَّنَہٗ۔ (المنتقٰی، واثلہؓ)

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جائز ہے کسی تاجر کے لیے کہ وہ کوئی چیز بیچے مگر یہ کہ جو کچھ اس کے اندر عیب ہے اسے بیان کردے اور نہیں جائز ہے کسی کے لیے جو اِس عیب کو جانتا ہو مگر یہ کہ یہ عیب خریدار کو بتا دے۔

تشریح: تاجر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ گاہک سے اپنے مال کا عیب چھپائے، اسی طرح مال خریدتے وقت کوئی ایسا شخص موجود ہے جو عیب سے واقف ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ خریدار کے سامنے عیب رکھ دے، خلاصہ یہ کہ مسلمان تاجر پر حرام ہے کہ خریدار کو دھوکا دے۔ نبیؐ ایک غلہ کے تاجر کے پاس پہنچے اور غلہ کے اندر اپنا ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ اندر کا حصہ پانی سے تر تھا، آپؐ نے پوچھا یہ کیا؟ اس نے جواب دیا حضور بارش سے یہ بھیگ گیا ہے، آپؐ نے فرمایا پھر اسے اوپر کیوں نہ رکھا؟ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’جو لوگ ہم کو دھوکا دیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔‘‘(مشکوٰۃ)lll

شیئر کیجیے
Default image
مولانا جلیل احسن ندویؒ

تبصرہ کیجیے