6

اسلامی معاشرے میں علماء کا مقام اور کردار

ہر شخص کی ذمہ داری اس کو ملی ہوئی نعمت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ ایک بااختیار شخص کی ذمہ داری ایک بے اختیار شخص سے بڑی ہوتی ہے۔ صاحب اقتدار کی ذمہ داری اس سے بڑی ہوتی ہے، جس کے پاس اقتدار نہیں، ایک فقیر کی نسبت مال دار کی ذمہ داری بڑی ہوتی ہے۔ صاحب علم کی ذمہ داری اَن پڑھ سے زیادہ ہے۔ عالم دین پر عاید ہونے والی ذمہ داری دیگر لوگوں کی نسبت بہت بڑی ہے۔ بلکہ اس کے اوپر تو کئی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ مثلاً لوگوں کے سامنے حقائق دین کو واضح کرنا، دین کے اصلی اور صاف شفاف مصادر سے لوگوں کو دین کی تعلیم دینا، اور دین کو اسی طرح لوگوں کو سکھانا جیسا اللہ تعالیٰ نے نازل کیا، جیسا نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعوت دی اور جیسا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس کو سمجھا۔۔۔۔ یعنی شائبوں، بدعتوں اور تحریفات سے پہلے کا دین وہ لوگوں کے سامنے پیش کرے اور انھیں اس کی تعلیم دے کیوں کہ آج ہمیں یہ مشکل در پیش ہے کہ دین میں ایسی اشیاء داخل ہوگئی ہیں، جو دین کا حصہ نہیں ہیں۔

آج لوگ ایسا دین چاہتے ہیں، جس کی ریاست نہ ہو، ایسا عقیدہ چاہتے ہیں، جس کی شریعت نہ ہو، ایسا اخلاق چاہتے ہیں، جس میں جہاد نہ ہو، ایسی شادی کے متمنی ہیں جو طلاق کے بغیر ہو، اور عبادات بلا قاعدہ و قانون کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ دین نہیں ہے۔ دین تو اِن تمام چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ یعنی عقیدہ، عبادت، اخلاق، شرائع، آداب اور ایسی ریاست جو ان تمام چیزوں کے ساتھ حکمران ہو۔ بعض علماء سے اپنی ذمہ داری اور کردار ادا کرنے میں کوتاہی ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے امت کبھی گمراہی پر یکجا نہیں ہوگی۔ اس میں ہمیشہ ایسے علماموجود رہیں گے جو امت کو صراطِ مستقیم کی طرف لانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔ لوگوں کو تمام حقائق کی تعلیم دیں گے، اسی طرف ان کی رہنمائی کریں گے، جس طرف رسول کریمﷺ نے ان کی رہنمائی فرمائی تھی۔ ایک عالم دین کی ذمہ داری تو بلاغ مبین (صاف شفاف تبلیغ) ہے جیسا کہ قرآن نے یہ نام دیا ہے۔ یعنی حقائق دین کو کھول کھول کر بیان کرنے والا اور دین کی امانت کو لوگوں کے دل و دماغ میں اتار دینے والا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔‘‘ (ابراہیم:۴)

ایک عالم دین کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ صاف شفاف دعوت پیش کرے، لوگوں کو دین سکھائے، انھیں دین کے اوپر یکجا کرے، منتشر کرنے کا ذریعہ نہ بنے، تعمیری جدوجہد کرے، تخریبی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنے، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کو ہرگز نہ چھپائے۔ ایک عالم کی یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں سے حق نہ چھپائے خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، طاقتور ہوں یا کمزور، حکمراں ہوں یا عوام، وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام بلا کم و کاست پہنچائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔‘‘ (لاحزاب:۳۹)

ایک داعی کے لیے تو علم اور جدید تعلیم نہایت ضروری ہے۔ ایک کامیاب داعی کے لیے لازمی ہے کہ وہ متعدد علوم سے بہرہ ور ہو۔ مثلاً وہ دینی علوم، ادبی و لسانی علم، نفسیات انسانی کے علم، تاریخ کے علم اور سائنس کے علم سے آشنا ہو۔ اس کے پاس طبیعی، واقعی اور حالات حاضرہ کا کچھ نہ کچھ مطالعہ ہونا ضروری ہے۔ وہ مسلمانوں کے حالات سے آگاہ ہو، دشمن کی صورت حال سے باخبر ہو، ان چیزوں کو وہ کسی کمی بیشی کے بغیر ٹھیک ٹھیک جانتا ہو۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ ان علوم کا اچھا خاصا علم اس کے پاس ہونا چاہیے۔ کم از کم انسان ہر پہلو پر ایک کتاب تو پڑھ لے۔ وہ انسانی علوم اور سائنسی علوم کا کچھ حصہ تو جان سکے تاکہ وہ جب فتویٰ دے تو بصیرت کے مطابق فتویٰ دے، دعوت دے تو دلیل کی بنیاد پر دے۔ حتی کہ اگر وہ فیصلہ کرے تو وہ اپنے ارد گرد کے تمام امور سے آگاہ ہو۔ اگر وہ زندگی اور زندگی کے رجحانات اور اس کی مشکلات سے لاعلم ہوگا تو اس کے فتوے صحیح نہیں ہوں گے۔

عالم وہ ہے جو دین کا علم اس کے صاف شفاف سرچشموں سے حاصل کرے اور یہ علم ایک نہیں ہے بلکہ متعدد علوم ہیں اور ہر علم کے اپنے اپنے تخصصات ہیں۔ کوئی فقہ و شریعت کا عالم ہوتا ہے، کوئی دعوت کا عالم ہوتا ہے، کوئی تفسیر اور حدیث کا عالم ہے، لیکن ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کو ٹھیک طرح سے جانتا ہو۔ بعض لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں جو معمولی چیزوں کو جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم عالم ہیں۔ کوئی شخص اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس علم کو ہضم نہ کرلے، اور اس کے اصول یعنی بنیادوں سے واقف نہ ہو، اس کے مصادر کو ان سرچشموں سے نہ جانتا ہو اور امور و مسائل کے موازنے کی قدرت نہ حاصل کرلے۔ اس کا تجزیہ و تحلیل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔

علمی صلاحیت اور فقہی بصیرت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عالم دین غلطی نہیں کرسکتا۔ عالم دین بھی ایک انسان ہے اور ہر انسان غیر معصوم ہے۔ یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ وہ بھی لغزش کا شکار ہوجائے یا خطا کا ارتکاب کر بیٹھے۔

اسی لیے احادیث رسولؐ اور آثار صحابہؓ عالم کی لغزش سے بچنے کی تنبیہ کرتی ہیں۔ اس بنا پرکہا جاتا ہے کہ عالم کی لغزش پر ڈھول پیٹا جاتا ہے لیکن جاہل کی لغزش پر اس کی جہالت پردہ ڈال دیتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ عالم کی لغزش سے ایک جہان غلطی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لیے ایک عالم کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کا طالب رہنا چاہیے اور شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔ عمل سے بھی کوئی اظہا رایسا نہ ہونے پائے جو ارادی خطا کے زمرے میں آتا ہو۔ہمارے لیے ضروری ہے کہ عصر حاضر کی معرفت کے دائرے کو مزید وسعت دیں۔ علماء کے آفاق کو کشادہ اور وسیع کریں۔ یہ تو مطلوب اور وقت کا تقاضا ہے۔ ہم اس کی ترغیب بھی دیتے ہیں اور اسے ضروری بھی سمجھتے ہیں۔

عصر حاضر کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک ایسے طرز اور منہاج کی ضرورت ہے کہ امت کے اندر مجتہدین موجود ہوں۔ یہ ایسے لوگ ہوں جو اسلام کے مسائل کا علاج اسلامی فارمیسی کی تیار کردہ ادویات سے کریں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ اسلامی مسائل کا علاج باہر سے درآمد کی گئی ادویات سے کرتے ہیں لیکن اسلام کے جسم کا علاج لازماً اسی سرزمین میں بنی ادویات ہی سے ہوسکتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو مصادر اسلام سے احکام کے استنباط کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسلامی نصوص اور شرعی مقاصد کو باہم جوڑ سکتے ہوں۔ بعض علماء جزئی نصوص میں ہی معاملات کو دیکھتے ہیں مقاصد شریعہ کو پیش نظر نہیں رکھتے اور بعض علماء معاملات کا حل ماضی کے تناظر میں نکالتے ہیں، عصر حاضر کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں، اس کے تقاضوں کو اہمیت نہیں یتے۔

اس کے ساتھ علماء کو اخلاص، ذاتی قوت و صلاحیت اور ایمانی قوت کو بھی ملانا ہوگا تاکہ جو عقیدہ عالم رکھتا ہے، اس کا اظہار بھی زبانی طور پر کرسکے اور کسی کی ملامت کی کوئی پروا نہ کرے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
علامہ یوسف القرضاوی — ترجمہ: ارشاد الرحمن

تبصرہ کیجیے