کارِ دعوت میں ترتیب

دعوت الی اللہ انسانوں کی فکری وعملی اصلاح کا وسیع کام ہے۔ یہ اہل خانہ کے اندرونی دائرے سے شروع ہو کر ، خاندان ، محلّہ ، شہر، ملک، تمام عالم اور نوع انسانی تک پھیلنے کا عمل ہے۔ دعوت کے مخاطب وہ لوگ بھی ہیں جو اسلام کو ماننے کے باوجو د اس کی تعلیمات سے بے خبر ہیں یا جانتے بوجھتے اس پر عمل کے لیے تیار نہیں ہیں، اور وہ لوگ بھی جو اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہیں اور اسے قبو ل کرنا بھی نہیں چاہتے۔ اس وسیع میدان میں اپنے حصے کی ادایگی میں داعیات کو ایک خاص ترتیب ملحوظ رکھنا ہو گی جو اس کام میں حسن اوراستحکام پیدا کرے گی۔ بصورت دیگر انسان بعد میں پہنچنے والے میدان میں پہلے سے محنت کر رہا ہو گا اور ابتدائی دائرہ اس کی نگاہوں سے اوجھل رہ جائے گا۔ یہ بے ترتیبی دعوت کے کام میں عدم توازن کے ساتھ مطلوبہ نتائج نہ دے سکے گی۔

اہلِ خانہ کے درمیان دعوت و اصلاح

یقیناً ہمارے اہل خانہ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں دین کی حقیقت سمجھائی جائے، اللہ سے محبت اور اس کے تقاضے واضح کیے جائیں۔ داعیہ کو گھر اور بچوں کے حوالے سے ایک راعی، یعنی نگران کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ اس بارے میں مسؤل ہوگی۔ البتہ شوہر، قوام کی ذمہ داری کی بنا پر تمام اہل خانہ بشمول بیوی اور بچوں کے لیے مسؤل ہے، جب کہ خاتونِ خانہ کی مسؤلیت میں شوہر کی ذمہ داری شامل نہیں ہے۔ تاہم شوہر سے محبت اور خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر وہ دین کی بنیادوں اور جزئیات سے ناواقف ہے تو پیار و محبت اور حکمت سے اس تک بھی دین کی دعوت پہنچائی جائے اور اصلاح طلب امور میں اصلاح کا راستہ سمجھایا جائے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش(جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تندخو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں۔ جوارشاد، اللہ ان کو فرماتا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے، اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ (التحریم ۶۶:۶)

اس ارشاد میں قطع نظر مردوعورت کے اپنے گھر والوں کو اللہ کی ناراضگی اور اس کے انجام سے بچانے کی فکر کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک داعیہ اگر اپنے گھر کو اپنی دعوت کا پہلا میدان قرار دیتے ہوئے اس منزل کو سر کرے گی تو شوہر ، بچوں اور دیگر اہل خانہ کا تعاون اس کے لیے اگلی منزلوں کو حاصل کرنے میں ممدومعاون بن جائے گا۔ جو داعیات اپنے گھر کی اصلاح کو اہمیت نہیں دیتیں یا بوجوہ نظر انداز کرتی ہیں تو ان کے لیے شوہر اور بچے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

خاندان میں دعوت و اصلاح

اپنے گھر کی اصلاح کے ساتھ داعیات کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ اس دائرے کو وسیع کرتے ہوئے خاندان اور برادری کے بڑے دائرے تک اپنی دعوت کو پھیلا ئیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، خالہ پھوپھی، چچا ماموں، بھانجے بھانجیاں، یہ سب عزیز رشتے تمام انسانوں کی بہ نسبت ہماری توجہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ حکم ربانی ہے:

’’ اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو [یعنی، ڈراؤ]۔‘‘ (الشعرا ۶۲: ۴۱۲)

خاندانی زندگی میں تانے بانے یوں جڑے رہتے ہیں کہ قدم قدم پر دوسرے کے محتاج اور تعاون کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس میل ملاپ میں ہمیں خوشیاں بھی حا صل ہوتی ہیں اور یہی تعلقات ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ داعیات کو اس بات کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے کہ خاندان میں دینی اقدار کے فروغ سے خاندانی تعلقات کو استوار رکھنا بھی آسان ہو گا اور دعوت دین کی راہ میں ان کی حمایت اور تعاون بھی حاصل ہو سکتا ہے۔خاندان میں دعوت کے کام سے غفلت ہمیں دوسروں کی نگاہ میں بھی غیر معتبر بنانے کا باعث ہو گی اور اللہ کے ہاں گرفت کی بھی۔

اہلِ محلہ کے درمیان د عوت و اصلاح

گھر اور خاندان کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے اس علاقے یا محلے میں دعوت دین کا کام آپ کی ذمہ داری ہے جہاں آ پ رہتی ہیں۔یہ ذمہ داری والدین کے گھر ر ہتے ہوئے بھی ادا ہوسکتی ہے جہاں آپ پلی بڑھی ہیں اور شادی کے بعد سسرال میں یا جہاں شوہر رہایش پذیر ہیں۔

اسلام میں ہمسایوں کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔پڑوس کوچار اطراف۴۰ گھروں تک محیط قرار دیا گیا ہے۔ دیوار برابر پڑوسی کے اور بھی زیادہ حقوق بتائے گئے ہیں۔منجملہ حقوق کی ادایگی یا حسن سلوک اور دین کے راستے کی طرف دعو ت دینا ،قرآن سے تعلق جوڑنا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف راہنمائی کرنا دیگر دینی و دنیاوی معاملات میں اللہکی رضا کا راستہ واضح کرنے کے لیے انھی کے درمیان رہنے والافرد بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔ ایک داعیہ کو اپنے ہمسایوں کے درمیان محبت سے میل ملاقات،ان کی خوشیوں اورغموں میں شرکت ،تحفہ و تحائف کا لین دین دعوت کے بے شمار مواقع فراہم کرتاہے۔ اپنے سماجی تعلقات کے دوران موقع کی مناسبت سے قرآن کے احکام پہنچانا ،دینی کتب کی فراہمی، دعا کا اہتمام یا باہم گفتگو میں دین کے مبادیات و جزئیات کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے اہل محلہ کو دین کے قریب لانے کی کوشش ضروربار آور ہوں گی۔

رفقاے کار کے درمیان دعوت و اصلاح

ایسی داعیات جو کسی ادارے میں ملازمت کرتی ہوں ان کے رفقاے کار بھی ان کے لیے کسی قدر اہل خاندان اور اہل محلہ کے زمرے میں شا مل ہوں گے۔ ملازمت کے میدان میں ماتحت خواتین اسی طرح آپ کی رعیت میں شمار ہوں گی جس طرح گھرپر بچے اور ماتحت افراد ہوتے ہیں۔ ان پر ایک درجہ احکامی فوقیت ہونے کے ناطے آپ پر لازم ہے کہ دیگر دفتری احکام کے ساتھ ان کی توجہ اسلام کے تقاضے پورے کرنے پر بھی دلائیں دیگر ساتھیوں کو بھی خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دین کی متبادل تعلیمات کے ساتھ ساتھ ملازمت کے دوران مطلوب رویوں پر توجہ دلانا بھی دعوت کے کام کا حصہ ہے۔ مثلاً رزق حلال کی اہمیت، وقت کی پابندی اور ادارے میں ملازمت کے اوقات کار کی پابندی کارزق حلال کے حصول سے تعلق ،دفتری امور کی ذمہ داری سے ادایگی، ادارے کے وسائل کو امانت سمجھتے ہوئے استعمال کرنا، دفتری رفقا کے ساتھ حسن سلوک اور خیرخواہی کی تاکید، دفتری سیاست اور توڑ جوڑ کی کوششوں سے اجتناب وغیرہ۔

خصوصی توجہ کے حامل طبقات

lمؤثر طبقات:داعیات دین کے لیے ایک اہم سوچ یہ ہونی چاہیے کہ تبلیغ میں اوّل مخاطب و ہ طبقات ہوں جن کے افکار ونظریات کی قیادت میں معاشرے کا نظام چل رہا ہے۔ درحقیقت معاشرے کے ذہین ، مقتدراور مؤثر طبقے ہی عوام الناس کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور وہی معاشرے کے طرزِ فکروعمل کی تشکیل کرتے ہیں۔ان کی اصلاح ہو جائے تو سارا نظام خود بخود راہ راست پر آجاتا ہے اور بصورت دیگر نیچے کے طبقات میں ہونے والی اصلاح بھی عارضی ثابت ہوتی ہے۔ اس کی مثال قلب اور اعضا و جوارح کے مابین تعلق سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر دل کمزور ہو تو اعضا وجوارح پر کوئی عمل جسم کو طاقت نہیں پہنچا سکتا۔

انبیاے کرام کی دعوت میں بھی ہمیں اس پہلو سے راہنمائی ملتی ہے کہ انھوں نے ہمیشہ پہلے سوسائٹی کے مقتدر ، باحیثیت اور فرماں روائی کے حامل طبقات کو مخاطب کیا۔حضرت ابراہیمؑ نے اپنے باپ آزر کو ، جو کہ مذہبی رہنماتھے، وحدانیت کی دعوت دی۔ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف بھیجا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے معزز افراد کو اپنی اولین دعوت کا ہدف بنایا۔

l نوجوان طالبات: نوجوان نسل نہ صرف جسمانی اور ذہنی اعتبار سے قوت کی حامل اور فعال ہوتی ہے بلکہ آنے والے دور کی باگیں بھی اسی کو سنبھالنی ہوتی ہیں۔ صنفی مساوات کی فضا اور تعلیم کے اعلیٰ مواقع کی وجہ سے طالبات ایک کثیر تعداد میں بڑے شہروں میں نمایاں حیثیت میں موجود ہیں۔ خصوصاً اسکولوں سے فارغ طالبات، پرائیویٹ یونی ورسٹی کی طالبات ، پروفیشنل کالجوں میں زیر تعلیم طالبات، سب سے زیادہ نمایاں طبقے کے طور پر سامنے آتی ہیں جہاں داعیات دین کو اپنے رابطوں، اپنے علم اور اپنے فہم کو بروے کار لاتے ہوئے دین کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچانا لازم ہے۔ انھی اداروں سے وابستہ خواتین اساتذہ اپنے منصب کے اعتبار سے دعوت دین کا فریضہ سر انجام دے سکتی ہیں۔

l معمار قوم: ایک کھلی حقیقت جو مشرق و مغرب کے فلاسفر تسلیم کرتے ہیں یہ ہے کہکسی بھی قوم کی معمار درحقیقت ایک عورت بحیثیت ماں ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی سمجھنے اور ماننے کی ہے کہ جیسے ایک ماں میں بچے کی جسمانی اور جذباتی ضروریات پوری کرنے کا جذبہ فطرتاً موجود ہے جو کسی تعلیمی اور معاشی پس منظر کا متقا ضی نہیں ہوتا، ویسا جذبہ بہر طور بچے کی تربیت اور کردار سازی کے لیے محرّک نہیں ہوتا۔ کتنی ہی مائیں اپنے بچوں کے نفسیاتی، ذہنی اور روحانی تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتیں۔ یہیں وہ فساد رونما ہوتا ہے کہ ایک بچہ مستقبل میں پراعتماد، با حوصلہ، باکردار، بہادر اور قائدانہ صلاحیتوں سے محروم نوجوان بن کر معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔

داعیاتِ دین کے لیے انتہائی اہم اور ضروری ہے کہ وہ ماؤں میں شعور بیدار کریں کہ ان کے ذمے بچوں کو محض لذیذ اور انواع و اقسام کے کھانے کھلانا، خوش نما لباس پہنانا اور مروّجہ تعلیمی نظام کے تحت تعلیم کے مراحل مکمل کروانا ہی نہیں ہے، بلکہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، فکری ، جذباتی، نفسیاتی ، روحانی اور دینی تربیت کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تربیت کے ان مراحل میں والدین کی مسلمہ حیثیت کے حوالے سے والدکے کردار کو روشناس کروانا بھی بالواسطہ داعیات کی ذمہ داری ہے۔

بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو جاں گزیں کرنا،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے متعارف کروانا، آپؐ کی محبت اور ا تباع سکھانا ، نماز اور روزے کا عادی بنانا، اخلاقِ حسنہ، مثلاً سچائی، غنا، بہادری ، حیا کو ان کے کردار کا حصہ بنانا، نیز اخلاقِ سیئہ، مثلاً: جھوٹ، چوری، بزدلی،بے حیائی، خود غرضی، غیبت وغیرہ سے بیزاری پیدا کرتے ہوئے ان کی شخصیت کا حصہ نہ بننے دینا۔ اسی طرح ماں باپ کے ادب و محبت کے ساتھ اساتذہ کی عزت اور محبت سکھانا، بہن بھائیوں سے محبت کے رویوں کو اسکول کے دوستوں اور پھر معاشرے کے دیگر روابط میں بروے کار لانا، جنت کا واضح نقشہ اور چاہت دل میں رکھتے ہوئے زندگی بھر اس کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کی خواہش پیدا کرنا، ان تمام پہلوؤں سے واعیات دین کو گھروں میں رہنے والی یا ملازمت کرنے والی ماؤں کو متوجہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ بچوں کو نقصان پہنچانے والے مادی ، جذباتی، روحانی ، نفسیاتی اور فکری افکار و اعمال سے ممکنہ حد تک بچانے پر بھی توجہ دینی ہو گی۔lll

(بشکریہ: عالمی ترجمان القرآن، لاہور)

شیئر کیجیے
Default image
شگفتہ عمر