5

آج کی عورت

آفس سے باہر نکلتے نکلتے اس کی رہی سہی طاقت بھی جواب دے گئی تھی۔ ابھی اس کے سامنے ایک لمبا راستہ تھا۔ بس پکڑ کر دھکے کھاتے ہوئے اپنے اسٹاپ تک جانا، وہاں سے رکشہ لے کر اپنے اپارٹمنٹ تک۔ راستہ تو سچ میں لمبا تھا اور وہ برسوں سے سفر کر رہی تھی۔ منزل کہاں ہے؟ اور کب ملے گی؟ یہ اسے پتہ نہ تھا۔

تم ٹھیک سے چلی جاؤگی نا؟ نیہا نے اس سے پوچھا۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا۔

نیہا اس کا کندھا تھپک کر مسکرائی۔ اس کی دوستانہ طبیعت کی وجہ سے آفس میں ہر کسی سے اس کی دوستی تھی۔ ہنستی مسکراتی نیہا اپنے راستے ہولی۔

وہ بس میں سوار ہوگئی۔ بھیڑ دیکھ کر اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ حالاں کہ یہ سب اس کی روٹین کا حصہ تھا مگر اسے ابھی تک عادت نہیں ہوئی تھی۔ آج کچھ زیادہ چڑچڑاہٹ اس لیے ہو رہی تھی کہ چار دن کے موسمی بخار نے اسے توڑ دیا تھا۔ پھر بھی آج ہمت کر کے آفس آگئی تھی۔ یہاں اس کی نئی جاب لگی تھی تنخواہ اچھی تھی لیکن مالکان سخت تھے۔ سیلری کٹتی تو برداشت کرلیتی نوکری سے جواب مل جاتا تو کیا کرتی؟

آپ ٹھیک سے کھڑے رہیں۔ اس نے بار بار دھکے لگاتے آدمی سے کہا۔

ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں۔ اس نے بتیسی دکھائی۔

سیما کا دل چاہا کہ وہ ہتھوڑا مار کر اس کے سارے دانت توڑ دے تاکہ وہ ایسی کمینی مسکراہٹ مسکرانے سے پہلے سو بار سوچے پھر بھی نہ مسکرائے۔

وہ ایک بار پھر اس پر لد گیا۔

میں کہہ رہی ہوں نا! ٹھیک سے کھڑے رہیں آپ! اس نے ڈانٹ کر کہا۔

اے بہن جی! ایسی ہی ستی ساوتری ہو تو گھر پر بیٹھ کر جاب کرتیں۔ ایک تو مردوں کے بیچ میں گھس کر کھڑی ہو اور آنکھیں دکھا رہی ہو؟ اس نے مذاق اڑایا۔

کچھ لوگ مسکرانے لگے تھے اور کچھ بیزاری سے بیٹھے یا کھڑے تھے ۔

اس کا دل چاہا کہ وہ چیخیں مار مار کر رونا شروع کردے۔

عورتوں کو آزادی کا نعرہ دے کر باہر بلانے والا مرد گالیاں دے کر بے عزت کردینے میں ایک پل بھی نہیں لگاتا۔

اس کا اسٹاپ آگیاتھا۔ وہ آنسو پیتی بس سے اتر گئی۔ رکشے کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہیں دوڑائیں۔ آنسو بہنے کو بے چین تھے اس نے ہاتھ دے کر رکشہ روکا۔

دھیان ہٹانے کے لیے سڑک پر ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی۔ راجدھانی روشنیوں میں نہانے لگی تھی۔ اگست کے مہینے کی شام تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اسے سکون پہنچانے لگی۔

اپارٹمنٹ آگیاتھا۔ اس نے رکشے والے کو پیسے دیے۔ ابھی سیڑھیاں چڑھ کر تیسری منزل تک جانا تھا، اس کی تھکان بڑھ گئی۔

’’بخار پلٹ کر آگیا تو اور مشکل ہوجائے گی۔‘‘خود کو گھسیٹی ہوئی دروازے تک لائی۔ گھنٹی پر ہاتھ رکھتے ہی دروازہ کھل گیا۔

کیسی طبیعت ہے؟ ماں نے بے تابی سے پوچھا۔

ٹھیک ہوں۔ وہ زبردستی مسکرائی۔ اور بستر پر ڈھے گئی۔ ماں نے ماتھا چھوکر دیکھا۔

میں تھیک ہوں ممی! اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

ایک دو دن اور چھٹی لے لیتی۔

کیا کروں گی چھٹی لے کر؟ ایسے تو من بھی بہل جاتا ہے اس نے جھوٹ بول کر اسے تسلی دی۔

منہ ہاتھ دھولو دیدی، روبی کچن سے جھانک کر بولی۔

وہ اٹھ گئی۔

منہ ہاتھ دھو کر آئی تو روبی چائے لاکر رکھ چکی تھی۔

٭٭

کیا پڑھ رہی ہو ممی؟ کون سی دلچسپ خبر ہے؟ وہ آفس جانے کے لیے نہا کر آئی تو ماں کو اخبار پڑھتے دیکھ کر بولی۔

یہ دیکھو رشتہ ہے دو مہینے بعد ساحل کی پریکچھائیں ہوجائیں گی، پھر تو وہ کوئی جاب کر ہی لے گا۔ میں سوچ رہی ہوں کوشش کروں۔

وہ چپ رہی۔

لڑکا MCAہے۔ لڑکی بھی ویسی ہی چاہیے۔ ماں نے آگے کہا۔

بے کار ہے، رہنے دو، وہ لاپروائی سے بولی۔

کیوں؟ ماں نے حیرانی سے پوچھا۔

اس نے ماں کے ہاتھ سے اخبار لے لیا۔

پروفیشنل لڑکی چاہیے۔ یہ کیوں نہیں چھپوا دیتے کہ چلتا پھرتا جہیز چاہیے۔ اس نے تیکھے پن سے کہا۔

میں زندگی بھر گھر سے آفس تک کی دوڑ لگانا نہیں چاہتی ممی! مجبوری کی بات الگ ہے۔ مگر مجھے ایسا کوئی شوق نہیں ہے۔

ماں کی سمجھ میں اس کی بات آگئی۔ لیکن آج کل وہ ’’ودھو چاہیے‘‘ کالم پابندی سے دیکھنے لگی تھیں۔

ساحل کا امتحان ہوگیا۔ سیما کا جیسے مقصد پورا ہوگیا تھا۔ اس کے کندھے سے ذمہ داری کا بوجھ ہٹ گیا تھا۔

ساحل جاب کے چکر میں ادھر ادھر گھومتا رہتا اور ماں فون پر نہ جانے کون کون سے نمبر لگاتی رہتی۔

٭٭

ساحل کا رزلٹ بھی آگیاتھا۔ اور اسے اچھی سی جاب بھی مل گئی تھی۔ سیما نے جاب چھوڑ دی۔ اب وہ گھر پر رہ کر اس آزادی کے احساس کا مزا لینا چاہتی تھی۔

ماں کی تلاش جاری تھی۔ آخر ماں نے اپنی طرف سے پوری تسلی کر کے ایک رشتے پر بات آگے بڑھائی۔

اتوار کو وہ لوگ آرہے ہیں۔ انہوں نے خبر دی تیاریاں ہونے لگیں۔ اتوار بھی آگیا۔ لوگ آئے مگر سیما کی بجائے روبی کو دیکھنے لگے۔

کیا نام ہے؟ کیا پڑھتی ہو؟ سبھی کی نظریں روبی پر ٹکی تھیں۔ گلابی رنگت اور بھرے بھرے چہرے والی روبی کے آگے سانولی سی تھکی تھکی پتلی دبلی سیما انہیں کہیں نظر ہی نہ آئی۔

یہ نہیں ہوسکتا ممی! آپ انہیں منع کردیں۔ساحل یہ سنتے ہی بدک گیا۔

بات ختم ہوگئی مگر معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا تھا۔ لوگ آتے سیما کے لیے اور پسند روبی کو کر جاتے۔

آخر ماں نے روبی کو چھپانا ہی بہتر سمجھا۔ مگر پھر بھی بات بنتی نظر نہ آئی۔

کسی کو ایکٹو لڑکی چاہیے تھی۔ کسی کو گوری تو کسی کو اسمارٹ۔ اگر دیکھنے دکھانے سے بات آگے بڑھ جاتی تو لوگ جہیز کی اتنی لمبی فہرست بغیر رُکے گنوادیتے جیسے رٹ کر آئے ہوں۔

ماں کا دل برا ہوگیا۔ اور سیما روز روز کے اس تماشے سے پریشان ہوگئی۔

تبھی نیہا کی شادی کا کارڈ آگیا۔ وہ خود لے کر آئی تھی اور ماں سے درخواست کر کے گئی تھی کہ وہ سیما اور روبی کو لے کر ضرور آئیں۔ سیما تو جانے کو بالکل تیار تھی۔ نیہا اس کی اچھی دوست تھی اور اس نے سیما کو جذباتی طور پر بہت سہارا دیا تھا۔

وہیں نیہا کی شادی میں منیش کی ماں نے سیما کو پسند کرلیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ طے ہوگیا۔

ان لوگوں نے روبی کے آگے سیما کو پسند کیا تھا۔ ماں بہت خوش تھی۔

ہمیں پڑھی لکھی بہو چاہیے، جو میرے بیٹے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔ لڑکے کی ماں نے وجہ بتائی۔ انہیں بارہویں پاس روبی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ جس نے ابھی ابھی BA میں داخلہ لیا تھا۔

ماں اپنی ذمہ داری نبھا کر خوش تھی اور سیما اپنی منزل پاکر۔

٭٭٭

تمھیں کتنی سیلری ملا کرتی تھی۔ شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد منیش نے پوچھا تھا۔

پچیس ہزار، اس نے بتایا۔

تم نے وہ جاب کیوں چھوڑ دی تھی؟ منیش نے حیرانی سے پوچھا۔

ساحل کو جاب مل گئی تھی نا! اسی لیے۔ اس نے سادگی سے بتایا۔

تو کیا ہوا؟ گھر میں اگر پچیس ہزار ایکسٹرا آرہے ہوں تو کیا برا ہے؟

مجھے پیسوں کا کوئی لالچ نہیں ہے۔ نہ ہی مجھے جاب کرنے کا کوئی شوق ہے؟ اسے بہت کچھ یاد آگیا تھا۔ اس ڈرپوک قسم کی لڑکی نے بہادر بن کر جو کچھ جھیلا تھا، وہ اس کی مجبوری تھی۔ لیکن جس دن ساحل نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ اب وہ اس لائق ہوگیا ہے کہ ماں بہنوں کی ذمہ داری اٹھا سکے‘‘ وہ آسمان میں اڑنے لگی تھی۔

دولت کی چاہت الگ بات ہے اور لالچ الگ بات۔ اس نے بات کلیئر کی۔

اس میں لالچ کی کیا بات ہے؟ اگر کوئی محنت کر کے پیسہ کمانا چاہے تو؟

اور اگر کوئی کمانا ہی نہ چاہے تو؟ منیش گھما پھرا کر جو کچھ کہنا چاہ رہا تھا وہ اس کی سمجھ میں آگیا تھا۔

گھر بیٹھ کر کروگی کیا؟ اس نے بھی ڈائرکٹ پوچھا۔

اسے حیرت ہوئی؟ منیش کو کچھ نظر نہیں آتا؟ شادی کے کچھ ہی دنوں بعد اس کی ماں بہنیں جیسے ہاتھ پیر توڑ کر پلنگ توڑنے بیٹھ گئی تھیں۔ صفائی دھلائی سے لے کر کھانا بنانا تک وہ کر رہی تھی۔ اس پر اسے کوئی اعتراض نہ تھا مگر منیش کی باتیں اسے دکھ پہچا رہی تھیں۔

وہ آسمان جو ساحل نے اسے فراہم کیا تھا، وہاں سے کھینچ کر منیش نے اسے زمین پر لا پٹکا تھا۔

گھر پر بھی کئی کام ہوتے ہیں منیش! اس نے دھیمی آواز سے کہا۔

گھر کے کام تمھارے آنے سے پہلے بھی ہو جایا کرتے تھے۔ منیش نے لاپروائی سے کہا۔ وہ چپ رہی۔

میں نے ایک دو ویکنسیز دیکھ رکھی ہیں۔ چل کر انٹرویو دے دینا۔ اس نے تو سب کچھ طے کر رکھا تھا۔

میں جاب نہیں کروں گی۔ اس نے اٹل لہجے میں کہا۔

تمھارے ساتھ پروبلم کیا ہے؟ وہ جھنجلا گیا۔

میرے ساتھ پروبلم یہ ہے کہ میں پرانے زمانے کی لڑکی اس نئے زمانے میں پیدا ہوگئی ہوں۔ میں اس دوڑتی بھاگتی دنیا کا پیچھا نہیں کرسکتی منیش! میں سکون سے گھر کی چار دیواری میں رہنا چاہتی ہوں۔ اس نے اپنی بات رکھی۔

میں نے تم سے شادی اس لیے نہیں کی تھی کہ گھر بٹھا کر تمھارے نخرے برداشت کروں۔ نخرے ہی اٹھانے تھے تو روبی میں کیا کمی تھی؟ مجھے پتہ ہوتا کہ تم اتنی جاہل گنوار ہو تو میں تم سے شادی ہی نہیں کرتا۔ منیش نے اسے گالی دی تھی۔ صرف اسے ہی نہیں اس کی بہن کو بھی۔

تو کیا صرف پیسہ کمانے کے لیے ۔۔۔۔؟ اس نے دکھ سے سوچا۔ اس کے آنسو بہہ نکلے۔

پھر؟ کیا سوچا تم نے؟ منیش خوش تھا اسے اس کی اوقات یاد دلاکر۔

سوچ رہی ہوں ’’میری اوقات کیا ہے؟‘‘

سیدھے سیدھے کہو۔ وہ چڑ گیا۔

میں نے سوچ لیا ہے۔ میں جاب نہیں کروں گی۔ اس نے سیدھا جواب دیا۔

یہ گھر میں کیا ڈرامہ پھیلا رکھا ہے لڑکی؟ ہماری تو کبھی ہمت نہ ہوئی پتی کی بات پر نہ کہنے کی اور تم ہو کہ زبان لڑا رہی ہو۔ اس کی ساس نے اسے شرم دلائی۔

آپ کے پتی نے کبھی آپ سے یہ نہیں کہا ہوگا کہ باہر جاکر دھکے کھاؤ، دھول چاٹو، آنسو پیو، اسے اپنے کمرے میں ساس کی بے دھڑک آمد اچھی نہیں لگی تھی۔ ایسا کرارا جواب سن کر ان کی آنکھیں حیرت سے ابلنے کو تھیں۔

تم آج کی ناری ہو۔ پڑھی لکھی ہو۔ آج تو عورت مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے۔ تم کیسی جاہلوں جیسی باتیں کر رہی ہو؟ اس کی ساس اسے چمکار کر بولیں۔

قدم سے قدم ملا کر چلنا آج اس کی سمجھ میں آیا تھا۔

آج کی عورت مرد سے کہیں آگے چل رہی ہے ممی! آج وہ کچن بھی سنبھالتی ہے، بچے بھی پال رہی ہے، پتی کے نخرے بھی سہتی ہے۔ باس کی جھڑکیاں بھی سنتی ہے۔ گھر سے آفس تک کی دوڑ میں مردوں کی گندی ذہنیت بھی برداشت کرتی ہے۔

آج کا مرد تو کمزور ہوگیا ہے۔ وہ اکیلے کما بھی نہیں سکتا۔ سیما کے اندر زہر بھر گیا تھا۔ وہ پھٹ پڑی۔

شٹ اپ سیما! تم ایسے جاہلوں کی طرح چلا کر کیا بتانا چاہتی ہو؟ منیش دہاڑا۔

ہاں! یہاں عورت مرد سے پیچھے ہے۔ وہ اپنے اوپر ہو رہے اس ماڈرن اتیاچار کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتی اور اگر اٹھائے تو اسے جاہل اور بیک ورڈ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

لگتا ہے بات تمھاری سمجھ میں آگئی ہے۔ فیصلہ کرلو۔ اس گھر کی چہار دیواری تمہیں پسند ہے یا نہیں۔ بہت بکواس کرچکی ہو۔ کل مجھے فیصلہ سنا دینا۔ اس نے آخری تیر بھی چلا دیا۔ اور تڑپنے پر روک بھی لگا دی۔ وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔

٭٭٭

وہ ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب ہوگئی تھی۔ اسے اس بات کا دکھ تھا کہ اس کا شوہر ایک لالچی انسان ہے۔ جو خود بھی اچھا خاصہ کمانے کے باوجود صرف بینک بیلنس بڑھانے کے چکر میں اسے گھر سے دھکے دے کر باہر نکالنا چاہتا ہے۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کیا کرے؟ روئے تو کس کے پاس جاکر روئے؟ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنی وجہ سے ماں کو دکھ دے۔

اسے نیہا یاد آگئی۔ اس نے اپنے بہت سے چھوٹے بڑے مسائل اس سے شیئر کیے تھے۔ اور اس نے اس کی پریشانی دور بھی کی تھی۔

پتہ نہیں کہاں ہوگی؟ اس نے نیہا کا نمبر ملایا۔

کہاں ہو؟ کچھ خبر ہی نہیں ہے تمہاری؟ اس نے آواز کو تھوڑا فریش بنا کر پوچھا۔

یہیں ہوں گھر پر۔ اس کی بیزار سی آواز آئی۔

گھر مطلب؟ سسرال؟ اس نے کلیئر کرنا چاہا۔

نہیں یار اپنے گھر پر۔ اس نے تھوڑا جھنجلا کر کہا۔

اپنا گھر؟ مائیکے آئی ہو؟

یہیں ہوں۔ اس نے بتایا۔

اچھا ٹھیک ہے۔ میں ملنے آتی ہوں۔ اس نے لائن کاٹی اور تیار ہوکر پہنچ گئی۔

کب آئی؟ بتایا بھی نہیں۔ میں ملنے آجاتی۔ اس نے شکایت کی۔

لڑ کر آئی ہوں، اس نے ڈائرکٹ کہا۔

لڑکر آئی ہو؟ مگر کیوں؟ سیما مایوس ہوگئی۔

بیک ورڈ! جاہل لوگ۔ مجھے گھر میں قید کر کے رکھنا چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں کون سے یگ میں جیتے ہیں؟ وہ بڑبڑائی۔

سمیر کہتا ہے ’’عورت کی دنیا کچن میں بستی ہے۔ گھر ، آنگن کے ارد گرد گھومتی ہے۔‘‘ میری ساس کہتی ہے جنز پہننا چھوڑ دو سسر کے سامنے پلو لے کر جاؤ۔ میں یہ سب نہیں کرسکتی۔

پہلے تو یہ کہہ کر جاب چھڑوادی کہ کچھ دنوں کے بعد کرلینا۔ اب کہتا ہے کہ گھر میں کھانے پینے کی کون سی کمی ہے۔

وہ چپ رہی۔ یہاں تو کہانی ہی دوسری تھی۔ خیالات کا ٹکراؤ تھا یا قسمت کا کھیل۔

تم ہی بتاؤ سیما! کیا میرے گھر میں کھانے پہننے کی کمی تھی جو میں جاب کرتی تھی۔

سمیر کہتا ہے کہ شادی سے پہلے تم کیا کرتی تھیں۔ یہ میں نہیں جانتا لیکن اب تمہیں ہمارے انوسار زندگی گزارنی ہے۔

میں نے بھی کہہ دیا کہ تم نے مجھے نہیں خریدا ہے بلکہ میں نے تمھیں خریدا ہے۔ جہیز لیتے وقت جو دونوں ہاتھ پسار کر تم لوگوں نے روپے لیے تھے نا وہ میری ہی کمائی کے تھے۔

بات سچ تھی۔ بھڑک گیا۔ مجھے تھپڑ مارا اس نے بے حیا کہا، زبان دراز کہا۔ نیہا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

سیما کو دکھ ہوا۔

میں چھوڑوں گی نہیں اسے۔ کیس کردوں گی۔ جیل میں سڑا دوں گی۔ وہ چلائی۔

آج کی عورت اتنی کم زور نہیں ہے کہ ہر اتیاچار چپ چاپ سہتی جائے، اس نے اپنے آنسو پونچھے۔

سیما کا دل برا ہوگیا۔

آج کی عورت؟ کیا ہے آج کی عورت؟ عورت آج بھی وہی ہے جو کل تھی۔ ہاں ! فرق صرف اتنا ہے کہ آج کبھی اسے آزادی کا نعرہ دے کر گھر سے باہر دھکیلا جاتا ہے۔ اور کبھی جب وہ باہر کی کھلی فضا کی عادی ہوجاتی ہے تب اسے گھسیٹ کر اندر کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی اندر باہر کا کھیل اس کی قسمت بن گیا ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
واصفہ غنی

تبصرہ کیجیے