6

انسانی زندگی میں صبر کی اہمیت

صبر کے معنی روکنے اور جمنے کے ہیں۔ یعنی اپنے نفس کو اضطراب اور گھبراہٹ سے روکنا اور اس کو اپنی جگہ ثابت قدم رکھنا۔ یہی صبر کی معنوی حقیقت ہے۔ صبر کا مطلب بے اختیاری کی خاموشی اور انتقام نہ لے سکنے کی مجبوری نہیں، بلکہ پامردی، دل کی مضبوطی، اخلاقی جرأت اور ثبات قدم کے ہیں۔ اشتعال انگیز حالات میں قوت اور طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو بے قابو نہ ہونے دینا صبر ہے۔ مخالفین کی زیادتیوں اور اتہام تراشیوں کو سکونِ خاطر کے ساتھ نظر انداز کر دینا صبر ہے۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:

’’ان کی باتوں پر صبر کرو اور خوب صورتی کے ساتھ ان سے الگ ہوجاؤ۔‘‘ (مزمل:۱۰)

صبر، راہِ خدا میں جدوجہد کے لیے ایک لازمی صفت ہے۔ دنیا میں آج تک بھلائی کی خواہش اور اس کے نفاذ کو دنیاوی مفاد کے پرستاروں نے آسانی سے برداشت نہیں کیا۔ بگاڑ پیدا کرنے والوں نے اس کی ہمیشہ پوری شدت سے مخالفت کی ہے، اور جو لوگ اس راہ میں نکلے ہیں ان پر ہر قسم کے مظالم ڈھائے ہیں۔ ان حالات میں اگر اہل خیر صبر کا دامن چھوڑ دیں تو وہ اپنے مقدس مشن کی تکمیل نہیں کرسکتے۔

’’جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام کے بعد انتقام لے اس پر کوئی گرفت نہیں، گرفت ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ بڑے ہی حوصلے کا کام ہے۔‘‘ (الشوریٰ: ۱ تا ۴۳)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسلام نے صبر و ثبات کو کیوں غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو کامیابی کے مراحل سے گزارنے کے لیے صبر وضبط ہر حال میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور دنیا کی ہر قوم نے اس صفت سے متصف ہوکر ہی اس دنیا میں فلاح و کامرانی حاصل کی ہے، مگر اسلام میں اس کی اہمیت اس بنا پر غیر معمولی ہے کہ یہاں ایک طرف تو منزل مقصود ایک غیر مرئی ذات کی رضا جوئی ہے اور دوسرے اس ذات کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے جو معیارات قائم کیے گئے ہیں وہ بھی ایسے نہیں کہ انھیں حواس کے پیمانوں سے ناپا جاسکے۔ ان کو وزن کرنے کے لیے ایک دوسری میزان اور ایک دوسرا مقوم ہے اور وہ ان کا دینی نفع اور آخری اجر ہے۔

ایک مسلمان جب اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس کا رب، اللہ ہے اور وہی بلا شرکت غیرے اس کا خالق، مالک اور فرماں روا ہے تو پھر اسے صادق القول ثابت ہونے کے لیے مختلف آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی اس پر رزق کے دروازے کشادہ کردیے جاتے ہیں اور وہ اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ان مادی وسائل اور اسباب کو اپنا الٰہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ ان کا امین ہے اور انھیں صرف اپنے رب کی خوشنودی کے لیے ہی خرچ کرتا ہے۔ کبھی اسے تنگی اور مصیبت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنے عمل سے یہ بتاتا ہے کہ یہ دنیاوی مصائب اصل مقصد سے اسے باز نہیں رکھ سکتے بلکہ مقصد کے ساتھ وابستگی کو اور بڑھاتے ہیں۔ کبھی راستے کی مشکلات خود بخود اس پر کھول دی جاتی ہیں، مگر ایک مسلمان اسے اپنے تدبر اور تفکر کی کرشمہ سازی سمجھنے کے بجائے فضل ایزدی سمجھتا ہے اور اگر کبھی مصلحت الٰہی اس کی راہ میں سنگ گراں حائل کردیتی ہے تو وہ ہاتھ پاؤں توڑ کر نہیں بیٹھ جاتا بلکہ تائید ربانی کے بھروسہ پر اسے راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ غرض مختلف طریقوں سے خداوند تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور خدا کے یہ فرماں بردار بندے اس کے فضل کے سہارے زندگی کی ان پرپیچ راہوں میںثابت قدم رہ کر اپنی متاعِ ایمان کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ آزمایش ایمان کی ایک لازمی اور ضروری شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار کہتا ہے:

’’اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ ایمان والوں کو اسی حالت پر چھوڑ دے جس پر تم لوگ اس وقت ہو (کہ مومن اور منافق سب خلط ملط ہیں) وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کر کے رہے گا۔‘‘ (آل عمران:۱۹۷)

’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لائے، چھوڑ دیے جائیں گے اور انھیں آزمائش کی بھٹی میں تپایا نہ جائے گا؟حالاں کہ ان سے پہلے جو گزر چکے ہیں وہ ضرور تپائے گئے ہیں۔ ضرور ہے کہ اللہ دیکھے کہ سچے کون ہیں اور ۔۔۔۔ جھوٹے کون۔‘‘ (العنکبوت:۱-۳)

’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم سستے چھوڑ دیے جاؤگے حالاں کہ ابھی اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون ایسے ہیں جنھوں نے سعی وجہد کا حق ادا کیا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے سوا کسی سے قلبی تعلق نہ رکھا۔‘‘lll (توبہ:۱۶)

شیئر کیجیے
Default image
عبد الحمید صدیقی

تبصرہ کیجیے