3

اسلامی معاشرے کی تشکیل اور سیرت نبویؐ

بعثت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاشرے کی تبدیلی کے لیے عقیدہ و اخلاق کی تبدیلی سے ایک نئی تحریک کا آغاز کیا۔ جو چند نفوس میسر آئے ان کے سیرت و کردار کی تعمیر اور تزکیے کے لیے دارِ ارقم میں مرکز بنایا گیا، اس لیے کہ معاشرے کی تبدیلی کا عمل اس مشن کے علم برداروں کے تزکیہ و تربیت کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔ معاشرہ رول ماڈل سے متاثر ہوتا ہے، چناں چہ اسلامی عقیدے و اخلاق پر ایمان لانے والے اس تربیت کی بھٹی میں پک کر ایسے کندن بن کرنکلے کہ تبدیلی کے عمل کے مخالفین نے انگاروں پر لٹایا، سینوں پر سلیں رکھیں، تپتے صحرا میں گھسیٹا لیکن کوئی ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی کے پائے استقامت میں لغزش بھی آئی ہو۔ تبدیلی یا انقلاب کی شناخت ہی یہ ہے کہ اس کی قیادت اور پیرو کار ستائے جاتے ہیں، انھیں تعذیب کا نشانہ بنایا جاتا ہے، معاشی مقاطعہ سے نقل مکانی تک کے ایسے مراحل آتے ہیں کہ وہ معاشرے میں اجنبی بن جاتے ہیں۔ شعب ابی طالب اور سفر طائف محض واقعات نہیں ہیں بلکہ انسان ساز تاریخی ادارے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ طائف کی گلیوں میں اتنے پتھر برسائے گئے کہ جسد مبارک سے بہنے والا لہو نعلین مبارک میں جمع ہوگیا۔ قدرت کے باوجود اس تعذیب پر بھی عفو و درگزر سے کام لیا۔ فرد اور معاشرہ سازی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا سفر ہے، جس کے لیے مستقل آرام و آسائش اور چین و سکون کی قربانی دینی ہوتی ہے۔ اور یہ قربانی دنیا کے سب سے بڑے انسان اور معاشرہ ساز نے دے کر اسلامی معاشرے کی تشکیل کا آغاز کیا۔

مکہ کا تیرہ سالہ دور اسلامی معاشرے کی تشکیل کا یک طرفہ سفر نہیں تھا، اس سفر کی راہ میں وہ وہ رکاوٹیں تھیں جن کا تصور محال ہے۔ یہ دو تہذیبوں کے درمیان کشمکش کی تاریخ کا پہلا باب تھا۔ ایک طرف طاغوت اپنی طاقت اور تمام ترحشر سامانیوں کے ساتھ خندہ زن تھا، تو دوسری طرف محمد رسول اللہﷺ اور ان کے رفقاء صبر و استقامت کے ساتھ کردار اور ذہن سازی میں مشغول تھے۔ ہر ہر قدم پر آزمائشیں تھیں۔ دعوت اور تبلیغ کی راہ میں کانٹے بچھا کر اور پتھر برسا کر ہی مزاحمت نہیں کی گئی بلکہ جسمانی اذیتوں سے بڑھ کر ذہنی اذیتیں دی گئیں۔ دھمکی، خوف اور طمع و لالچ سے راستہ نہ رک سکا تو فحش کلچر کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔ لیکن اس قافلے کا ہر سپاہی اپنے نصب العین پر جما اور ڈٹا رہا۔ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفرؓ کا خطبہ حق گوئی اور جرأت کا ایسا نمونہ ہے جس کا تصور آج بھی محال ہے۔ آنکھ میں آنکھ ڈال کر ایسا کہنا سچ جو مبنی برحقیقت ہو اور بادشاہ اور اس کے درباریوں کے عقیدے و نظریے کے خلاف ہو، آداب شاہی کے منافی اور خود کو خطرات میں ڈالنے کے لیے پیش کرنا ہے۔ لیکن یہ سچ ڈنکے کی چوٹ پر کہا گیا۔ یہاں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جس کی قدرت میں پوری کائنات ہے وہ اپنے نیک بندوں اور اپنی ربوبیت و حاکمیت کا اعلان و نفاذ کرنے والوں کو آزماتا ہے تو اس آزمائش کا صلہ بھی اعزاز و اکرام کی صورت میں عطا کرتا ہے۔ ’معراج‘ کیا ہے؟ بیت المقدس میں انبیاء کی امامت اور رب سے ملاقات۔۔۔ یہ سب اعزاز و اکرام نہیں تو کیا ہے! اپنے محبوب پیغمبر محمد رسول اللہﷺ کو معراج کے ذریعے تسلی و تشفی اور حوصلہ و استقامت عطا کی گئی۔

ان تیرہ برسوں میں نبی اکرمﷺ نے عرب کے جاہلی معاشرے سے ایسے نفوسِ قدسیہ کو چن لیا تھا جو اسلامی معاشرے کی تشکیل کا ہراول دستہ بننے کے لیے تیار تھے۔ دوسرے لفظوں میں تیرہ سالہ جدوجہد کا حاصل ایسے جاں نثاروں کا انتخاب اور تیاری تھی جو اسلامی معاشرے کے قیام میں آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھے۔

بیعت عقبہ اسلامی تحریک کاایک فیصلہ کن موڑ تھا جب مکہ کی قلیل اسلامی اجتماعیت ایک سیاسی تنظیم اور قوت میں ڈھلنے جا رہی تھی۔ یہ سلسلہ نبوت کے دسویں سال شروع ہوا جب حج بیت اللہ کے موقع پر مدینہ کے قبیلہ خزرج کے چھ افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے یہ محض قبولیت اسلام کا واقعہ نہ تھا بلکہ رسول اللہؐ کے ساتھ عہد وپیمان تھا، یہ چھ افراد اسلام کے سفیر ثابت ہوئے۔ انہوں نے دعوت و تبلیغ کے ذریعے اسلام کا پیغام گھر گھر تک پہنچایا۔ نبوت کے گیارہویں سال اوس و خزرج کے بارہ افراد نے عقبہ کی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی اور معاشرتی برائیوں سے اجتناب کا عہد کیا۔ اہل مدینہ کی خواہش حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دینی تعلیمی تربیت کے لیے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو مدینہ بھیجا انہوں نے ایک سال تک دین کی تبلیغ و اشاعت کے ساتھ اسلام کے مرکز کے طور پر مدینہ کے سیاسی و تہذیبی حالات کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا اور اس کی رپورٹ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی۔

نبوت کا بارہواں سال تھا جب منیٰ کے مقام پر عقبہ کی گھاٹی میں مدینہ کے ستر افراد نے اسلام قبول کیا اور حضورﷺ کو مدینہ آمد کی پیشکش کے ساتھ یہ عہد بھی کیا کہ وہ حالت جنگ و امن ہر ح ال میں آپﷺ کے ساتھرہیں گے۔ حضورؐ نے اس موقع پر اہل مدینہ کو یقین دلایا کہ:

’’میرا خون تمہارا خون اور تمہاری حرمت میری حرمت ہے۔ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ تم جس سے لڑوگے میں میں بھی لڑوں گا اور تم جس سے صلح کروگے میں بھی صلح کروں گا۔‘‘ بارہ نقباء کا انتخاب عمل میں آیا، یہ عہد و پیمان مکمل ہوگیا جو دو طرفہ تھا۔ یہ دو طرفہ ایجاب و قبول ہی معاہدہ عمرانی کی اصل روح ہے، جس میں اہل مدینہ نے رضا کارانہ طور پر اپنے حقوق سے دستبردار ہوکر رسول اللہﷺ کو ایک سیاسی فرماں روا کے طور پر قبول کرلیا۔

بیعت عقبہ، ہجرت مدینہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جہاں اسلامی معاشرہ کو ایک مرکز، قوت اور تنظیم میسر آنے والی تھی، ہجرت کی تفصیلات سے قطع نظر جب رسول اللہﷺ مدینہ پہنچے تو ایک اسلامی معاشرے، سیاسی تنظیم و قوت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کی، مسجد اور صفہ کا قیام، منشور مدینہ کی منظوری اور خالصتاً للہ اور نظریاتی بنیادوں پر برادرانہ تعلق (مواخاۃ) کی استواری، اسلامی معاشرت کی تاسیس و تشکیل کی جانب ٹھوس قدم تھا، مذکورہ اداروں کے قیام نے اسلامی معاشرے میں اعتماد اور تحفظ کے احساسات پیدا کیے چناں چہ تاسیس معاشرہ کے چند مہینوں بعد قریش کی جانب سے مخالفانہ ردعمل سامنے آیا۔ قریش نے اہل مدینہ کو دھمکی آمیز خطوط لکھے اور جنگ و حملے کا اعلان کردیا یہی وہ موقع تھا، جب اسلامی اجتماعیت کے تحفظ اور دفاع کی آزمائش نے جان و مال کے ایثار کا مطالبہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکی و مدنی اصحاب کے ساتھ اس آزمائش میں نہ صرف پورے اترے بلکہ بدر کے فیصلہ کن معرکہ میں مسلمانوں کی فتح اور قریش کی شکست نے اسلامی معاشرے کے مستقبل کا فیصلہ کردیا۔ قریش کی شکست خوردہ قوت سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع تھا۔ حضورؐ نے حدیبیہ کے مقام پر قریش سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا، جسے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن میں فتح مبین قرار دیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں مدینے کے یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے یکسو ہوکر ختم کرنے کا موقع ملا تو دوسری طرف مدینہ کے اطراف میں آباد قبائل اور ہمسایہ ملک تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

اس دوران اسلامی تحریک، معاشرتی تنظیم و استحکام کی جانب مسلسل پیش رفت کرتی رہی یہاں تک کہ مشرکین مکہ کو احساس ہوا کہ معاہدہ حدیبیہ ان کے پیروں کی بیڑی بن گیا ہے۔ چناں چہ جب انہوں نے معاہدہ توڑنے کا اعلان کیا تو انہیں ہرگز یہ اندازہ نہ تھا کہ اسلامی اجتماعیت اپنے داخل میں کس قدر منظم اور مستحکم ہوچکی ہے۔ اب عرب جاہلیت کے کلی خاتمے اور اسلامی تہذیب کے سب سے بڑے توحیدی مرکز یعنی کعبۃ اللہ کی شرک سے نجات کا وقت آچکا تھا۔ چناں چہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عسکری حکمت عملی کے جملہ تقاضوں کے ساتھ مکہ کی جانب پیش رفت کی۔ مشرکین مکہ نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے اور مکہ فتح ہوگیا، فتح مکہ ایک پرامن انقلاب تھا، جس نے جاہلی تہذیب کی سب سے بڑی علامت کو اسلامی تہذیب اور نظریہ توحید کے اصل رنگ میں ڈھال دیا اس عظیم الشان انقلاب کی تکمیل جس نے جزیرہ نمائے عرب کے اسلامی معاشرہ کو مکمل گہوارہ بنا دیا۔ وہ خطبہ حجۃ الوداع تھا، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف عرب بلکہ رہتی دنیا تک تمام عالم کے لیے ایک دائمی منشور دیا یہ ابدی و دائمی منشور نہ صرف اسلامی معاشرہ و ریاست کی اساس ہے بلکہ امن عالم اور بقائے انسانیت کا ضامن بھی ہے۔ اس منشور کی اساس ہی انسانی جان کی حرمت اور عزت پر ہے۔ معاشرتی یا سیاسی انقلاب کے لیے اسوۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واحد طریقہ ہے اسی عمل کی روح کے نتیجے میں پورے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں بابرکت اسلامی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، تاہم یہ انقلاب جس ایثار و قربانی اور عزم و استقامت کا تقاضا کرتا ہے وہ انقلاب کا جزوِ لاینفک ہے۔ اس کے بغیر انقلاب ممکن نہیں ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر محمد شکیل صدیقی

تبصرہ کیجیے