6

رسول اللہﷺ کی سادہ زندگی

آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ریاست کی بنیاد رکھی اور دس برس تک اس کے حاکم رہے۔ گو اوائل میں یہ ریاست محض ایک شہر تک محدود تھی۔ وہاں ایسی اقوام بھی آباد تھیں جو رسول اللہؐ کو نبی تسلیم نہیں کرتی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ ریاست کا جغرافیہ وسعت پانے لگا۔ حتیٰ کہ جزیرہ نمائے عرب کے تقریباً تمام علاقے اس کا حصہ بن گئے۔ چنانچہ آخری برسوں میں نبی کریمؐ ایک وسیع اور طاقتور سلطنت کے حکمران بن چکے تھے۔

کتب سیرت واضح کرتی ہیں کہ رسول اللہؐ حکمران بن کر وی وی آئی پی کلچر سے کوسوں دور رہے۔ اس کے برعکس آپؐ نے معاشرے میں غریبوں کے ساتھ گھل مل کررہنے کوترجیح دی۔ آپؐ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے:

’’رسول اللہؐنے کبھی مسلسل تین دن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔‘‘ یعنی ہفتے میںدو تین دن فاقہ کرنا آپؐ کا معمول تھا۔ دراصل آنحضورؐ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ مسلمانوں میں ایسے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں جنھیں مشکل سے کھانا دستیاب ہوتا ہے۔ آپؐعمر بھر کوشش کرتے رہے کہ ان صحابہؓ کی غربت کا خاتمہ ہو جائے اور یہ بھی سعی فرمائی کہ اپنا رہن سہن غریب صحابہ کرامؓ کے مانند رکھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک بار انھوں نے آپؐ کو بھوکا دیکھا، تو رقت کے مارے رونے لگیں۔ اور پھرآپؐ سے عرض کیا:

’’یارسول اللہؐ! میں آپ کی خاطر اپنی جان دے دوں گی۔ آپ بس یہ کیجیے کہ اپنا معیار زندگی تھوڑا بڑھا لیجیے تا کہ آپ کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔‘‘

یہ سن کر سرور کائناتؐنے ارشاد فرمایا:

’’میں اس دنیا میں گزری زندگی کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ میرے ساتھیوں میں سے بیشتر اللہ کی راہ میں کہیں زیادہ سختیاں بڑی ثابت قدمی اور صبر سے برداشت کر رہے ہیں۔‘‘

رسول کریمؐ کی ایک اور زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: ’’جب میں نکاح کے بعد آپؐ کے گھرآئی، تو میں نے وہاں صرف یہ اشیا پائیں: ’’ایک مرتبان جس میں کچھ جَو تھے، ایک چکی، مٹی کا ایک برتن، دیگچی اور ایک چوبی پیالہ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پھر چکی میں جَو پِیسے، پھر اس کا آٹاگوندھا۔برتن میں چند کھجور موجود تھیں اور پیالے میں تھوڑا سا تیل۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جَو کے آٹے، کھجوریں اور تیل ملا کر کھانا تیار کیا۔ اس رات نبی کریمؐاور آپؐ کی دلھن نے یہی کھانا تناول فرمایا۔ کتب تاریخ و سیر میں ایسے کئی واقعات درج ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضورؐ نے دانستہ سادہ زندگی بسر فرمائی۔ حالانکہ آپؐ چاہتے، تو بہ آسانی کسی حاکم کی طرح پرآسائش زندگی گزار سکتے تھے۔ اس زمانے میں ویسے بھی حاکم مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ لہٰذا کوئی بھی آپؐ کے اس حق کو چیلنج نہ کرتا۔ گو مدینہ میں کئی صحابہ کرامؓ کا شمار مفلسوں میں ہوتا تھا۔ حاکم کی طرح نہیں، تو رسول کریمؐ یہ اہتمام ضرورفرما سکتے تھے کہ آپؐ کو زندگی کی تمام ضروری آسائشیں میسر ہوتیں۔ آپؐ یہ امر یقینی فرماتے کہ آپؐ کے اہل خانہ اور خاندان والے کبھی بھوکے نہ رہیں۔ انھیں پہننے، اوڑھنے کو مناسب لباس ملے اور وہ اچھے کھانے کھائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریمؐ نے ازخود غریبانہ طرزِ زندگی اختیار فرمایا۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا تھی؟ حالانکہ نبی کریمؐ چاہتے، تو تمام دنیاوی سہولیات و مراعات حاصل کر سکتے تھے، مگر آپؐ نے سادہ زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی۔ دراصل یہ طرز حیات اپنا کر نبی کریمؐ تمام مسلمانوں اور آنے والی نسلوں کو اسلام کا یہ عظیم پیغام دیناچاہتے تھے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی بہت کم وقعت رکھتی ہے۔ اس کی آسائشیں دراصل ایک امتحان ہیں اور خوشیاں ناپائیدار! مزیدبرآں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ امر کوئی معنی نہیں رکھتا کہ دنیا میں ایک انسان کا معیار زندگی کیا ہے۔ کئی غریب بہت شریف، ایماندار اور دل و جان سے اسلامی قوانین پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کئی دولت مند بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور شریف النفس ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر وہ انسان گناہ گار ہے جو متقی اور دین دار نہیں۔ نبی کریمؐ نے جب کفار مکہ کو دین اسلام کی طرف بلایا، تو وہ شش و پنج میں پڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپؐ کیونکر نبی ہو سکتے ہیں، جب کہ آپؐ کھاتے پیتے اور بازار بھی جاتے ہیں؟ لہٰذا آپؐ کس قسم کے نبی ہوئے؟ یہ حقیقتاً ان کا بڑا بودا استدلال تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف جتنے بھی پیغمبر اور نبی نازل فرمائے، وہ سب انسان تھے۔ اسی لیے سبھی عام انسانوں کے مانند کھاتے پیتے، پہنتے اوڑھتے اور بولتے چالتے تھے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہؐ نے کھانے پینے، بول چال اور دیگر معاملات میں کس قسم کا معمول اختیار فرمایا؟ یہ دیکھا گیا ہے کہ جن مرد و زن کے سامنے عظیم مقاصد ہوں اور وہ کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہوں، تو عموماً وہ دنیاوی اشیا اور ذاتی ضروریات کو خاص اہمیت نہیں دیتے۔ گو آج کی مادی دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔ بیشتر انسانوں کا مطمح نظر زیادہ سے زیادہ آسائشیں پانا بن چکا ہے۔ لیکن نبی کریمؐ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو مقاصد زندگی سامنے رکھے، وہ ہمیںبالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بار رسول اللہؐ نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صاف ستھرا لباس زیب تن کر رکھا ہے۔ آپؐ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا ’’یہ لباس نیا ہے یا دھو کر پہنا گیا؟‘‘ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لباس دھویا گیا ہے۔ یہ سن کر سرور کائنات نے آپؐ کو اس دعا سے نوازا ’’تمھیں نئے کپڑے نصیب ہوں، اچھی زندگی گزارو اور تم شہادت پائو۔‘‘ رسول کریمؐ کے نزدیک خوشی و مسرت کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں جان دے ڈالے۔ اسی لیے آپؐ نے حضرت عمرؓ کو اس دعا سے نوازا۔ ساتھ ہی نئے لباس اور خوشحال زندگی کی نوید بھی سنائی گئی۔ نبی کریمؐ کی صحبت میں تربیت پانے کا ہی نتیجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ دنیاوی چیزوں و مسرتوں کو ہیچ سمجھتے اور فکر آخرت کو اہمیت دیتے تھے۔ اب طعام ہی کو لیجیے۔ انسان کے لیے کھانا پینا فطری امر ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ انسان کھانے پینے کو مقصدِ زندگی بنا لے اور اسی کی خاطر جیے مرے۔ اس ضمن میں رسول اللہؐ کی زندگی ہمارے سامنے قابل تقلید مثال پیش کرتی ہے۔ نبی کریمؐنے مشکلات سے پر زندگی بسر فرمائی۔ سادہ غذا تناول کرنا آپؐ کا معمول تھا۔ کسی کتاب میں یہ درج نہیں کہ کبھی آپؐ نے لذیذ، ذائقہ دار اور بیش قیمت کھانے کی فرمائش کی یا پسند فرمایا۔ اس کے باوجود رسول اللہؐ نے کبھی صحابہ کرامؓ یا عام مسلمانوں پر زور نہیں دیا کہ وہ غریبانہ زندگی بسر کریں اور نہ بجز حرام اشیا کے، یہ ممانعت فرمائی کہ فلاں ذائقے دار غذا نہ کھائی جائے۔ ہاں غذاکی فراوانی پر آپؐ نے شکر کرنا سکھایا اور بتایا کہ ہر کھانے کے اوّل و آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار شکر گزاری کرو۔ حضور اکرمؐ بہت کم غذا تناول فرماتے اور چند ہی کھجوروں سے آپ کا شکم مبارک سیر ہو جاتا۔ ایک دن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کو بتایا: ’’آج اناج کے ساتھ بس تھوڑا سا سرکہ ہی ہے۔‘‘ آپؐ نے شاداں ہو کر فرمایا: ’’آج اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے خوب پیٹ بھرے گا۔‘‘ اس قسم کا خوشگوار اور مطمئن رویہ آپؐ کا معمول تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عارضی بحران یا ضروریات زندگی کے نہ ہونے سے کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ انجم

تبصرہ کیجیے