داعیہ

مسلم خواتین کی دس صفات

قرآن کریم کے بائیسویں پارے کی سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ وہ کیسی ہوتی ہیں، ان کا کردار، گفتار، طرزِ زندگی اور چال چلن کیسا ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ مسلمات ہیں، مومنات ہیں، قانتات ہیں، صادقات ہیں، صابرات و خاشعات ہیں، متصدقات ہیں، صائمات ہیں، ذاکرات ہیں۔ ان تمام صفات کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری طرف سے ان کے لیے بڑی مغفرت اور بہت بڑے اجرکا وعدہ ہے۔ آئیے! ذرا ان صفات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ مسلمات، مومنات، قانتات، خاشعات اور صابرات کہتے کن عورتوں کو ہیں۔

(1) مسلمات: وہ اللہ کی بندیاں جنہوں نے قرآن کے الٰہی احکام کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو دل و جان سے قبول فرما لیا۔ جن کے ظاہری وجود سے کوئی بھی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوتی جو اسلامی ضابطے اور شرعی قواعد کے خلاف ہو، اْسوۂ رسول ﷺ ہر وقت ان کے پیش نظر رہتا ہے۔

(2) مومنات: صرف ان کا سراپا دینی احکام کے مطابق نہیں ڈھل گیا بلکہ دل سے بھی سمجھتی ہیں کہ اللہ کے دیئے ہوئے احکام حق اور سچ ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہی صحیح ہے۔ ان کے دلوں میں اس بات کا یقین راسخ ہوچکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کا جو راستہ بتایا اس کے علاوہ کوئی دوسرا ہدایت کا راستہ نہیں ہوسکتا۔ جو اس بات پر راضی ہوچکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ان کی پروردگار ہے۔ اسلام ہی سچا دین ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نبی اور رسول ہیں۔

(3) قانتات: مطیع و فرمانبردار ہیں، دین کے احکام کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دیتی ہیں۔ وہ یہ کہہ کر بس نہیں کرجاتیں کہ اسلام سچا دین ہے، بلکہ دین کے تقاضوں کو عملی جامہ بھی پہناتی ہیں۔

(4) صادقات: گفتار، کردار میں سچی اور کھری ہیں… جھوٹ، دغا، فریب، بددیانتی جیسے اوصافِ بد ان میں نہیں پائے جاتے۔ ان کی زبان وہی بولتی ہے جس کی اجازت دینِ اسلام نے دی ہے اور جس پر ان کا ضمیر مطمئن ہے۔ ان کا ہر عمل اسلامی کردار کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔

(5) صابرات: خدا اور رسولؐکے بتائے ہوئے احکام پر پوری استقامت کے ساتھ ڈٹی رہتی ہیں اور اس راہ میں جو بھی رکاوٹیں، تکلیفیں، ایذائیں پیش آتی ہیں انہیں نہایت صبر و سکون اور خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتی ہیں۔ کوئی لالچ، نفس کی کوئی چاہت یا کسی ظالم کا خوف انہیں اللہ کے دین پر عمل پیرا ہونے سے نہیں روک سکتا۔

(6) خاشعات: عاجزی، انکساری ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ فخرو غرور اور تکبر سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔ انہیں اس حقیقت کا مکمل شعور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی بندی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہیں۔ ان کے دل و دماغ اور جسم و جان اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ اللہ کا خوف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ان پر غالب رہتی ہے۔ نمازوں اور دیگر دینی اعمال میں خاص طور پر ایسی ہی عاجزی کا اہتمام کرتی ہیں، جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑی ہوتی ہیں تو باقی دنیا سے مکمل لاتعلق ہوجاتی ہیں۔ ان کا کامل دھیان صرف اور صرف اپنے پالن ہار کی طرف ہوتا ہے۔

(7) متصدقات: صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتی رہتی ہیں۔ اپنے مال کو کھلے دل کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتی ہیں۔ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور بے آسرا لوگوں کی اپنے مال کے ذریعے خبر گیری کرتی ہیں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے مال کی ضرورت پیش آئے تو بھی بخل سے کام نہیں لیتیں۔

(8) صائمات: روزوں کی کثرت کرتی ہیں۔ فرض روزے بالکل نہیں چھوڑتیں بلکہ نفلی روزوں کا بھی خوب اہتمام کرتی ہیں تاکہ اللہ کا قرب زیادہ سے زیادہ نصیب ہوسکے۔

(9) حافظات: اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والیاں، زنا کے قریب بھی نہیں پھٹکتی ہیں۔ اس کا ایک اور مطلب یہ ہے کہ وہ عریانی اور فحش لباس سے بھی اجتناب کرتی ہیں۔ اپنے آپ کو خوب چھپا کر رکھتی ہیں۔

(10) ذاکرات: اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والیاں ہیں۔ زندگی کے ہر معاملے پر کسی نہ کسی انداز میں ان کی زبان پر اللہ کا نام رہتا ہے۔ وہ سوکر اٹھتی ہیں تو اللہ کو یاد کرتی ہیں۔ کھانا پکاتی ہیں تو اللہ کو یاد کرتی ہیں۔ آٹا گوندھتی ہیں تو اللہ کو یاد کرکے۔ اور جب کام کاج سے فارغ ہوتی ہیں تو اللہ رب العزت کی حمد بیان کرتی اور اس کا شکر ادا کرتی ہیں۔ ہر دم اللہ ہی کو مدد کے لیے پکارتی ہیں، اس کی پناہ مانگتی ہیں اور اس کی رحمت کی طلبگار رہتی ہیں۔

یہ ہیں وہ مومن عورتوں کی صفات، اللہ تعالیٰ نے ان صفات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ایسی عورتوں کے لیے اللہ نے مغفرت کا وعدہ اور اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے ہاں انہی اوصاف والی بندیوں کی قدر و قیمت ہے، جو عورت ان اوصاف کی حامل ہوگی، یقینا وہ جنتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمس خان

تبصرہ کیجیے