خطوط

حجاب کے نام

مساجد کی اہمیت

ماہ دسمبر کا حجاب اسلامی کافی پرکشش ٹائٹل کے ساتھ موصول ہوا۔ مضامین پسند آئے ’’خوش گوار گھریلو زندگی‘‘ ڈاکٹر ابن فرید صاحب کی اگرچہ پرانی تحریر ہے مگر اپنی افادیت کے اعتبار سے لازوال ہے اور عملی رہ نما بھی ہے۔ نوشین ناز صاحبہ نے اپنے مضمون میں جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے حقیقت میں وہ ہمارے سماج کی ٹریجڈی ہیں۔ اچھے اچھے تعلیم یافتہ گھرانوں میں بچوں کی عزت نفس کا خیال نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر عبد العظیم اصلاحی صاحب کا مضمون کافی اہم اور اپنے موضوع پر جامع و مدلل مضمون ہے۔ میری رائے میں خواتین میں دینی شعور کو بیدار اور پختہ کرنے کے لیے جہاں خواتین کومساجد میں جانے کی ترغیب دی جانی چاہیے وہیں پہلے مساجد کو دینی مرکز کی حیثیت دی جانی چاہیے جہاں سے عوام کو واقعی دین کا علم و شعور میسر ہوسکے۔ بدقسمتی سے آج ہماری مسجدیں یہ اہم کام نہیں کر پا رہی ہیں۔

اسلامی عہد میں کم از کم خلافت راشدہ کے دور تک مسجد نبویؐ کو مرکزیت حاصل تھی وہ کوئی ڈھکی چھپی یا اختلافی بات نہیں ہے۔ دینی امور میں رہنمائی سے لے کر دیگر ملکوں کے سیاسی وفود تک کا مسجد نبوی میں ہی استقبال کیا جاتا تھا اور فوجوں کی روانگی بھی وہیں سے ہوتی تھی۔ یہ مرکزیت ہے مسجد کی مگر آج مسجدیں صرف بوڑھے نمازیوں کی جگہ بن کر رہ گئی ہیں۔ اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

خلیل احمد (سعودی عرب)

بذریعہ ای-میل

خواتین کے مسائل

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے مسائل بھی تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ہندوستانی سماج میں عورتوں کی ناخواندگی ایک بڑا مسئلہ تھی۔ لیکن دھیرے دھیرے ہمارے سماج نے اس مسئلے پر قابو پانا شروع کیا۔ صنفِ نازک نے نہ صرف یہ کہ تعلیم حاصل کی بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں بہترین کردار بھی ادا کیا۔

اب اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی دیکھیں۔ آج اس ترقی یافتہ دور میں ان تعلیم یافتہ خواتین کے ساتھ سماج کا رویہ کیسا ہے؟ اور سماج کے عام انسانوں کا معاملہ ان کے ساتھ کیسا ہے۔ اور وہ خود اپنی زندگی کو کس نہج پر حل کر رہی ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں۔ اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ خواتین میں تعلیم بڑھی ہے، جگہ جگہ ان کی موجودگی اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ سماج کی عورت اب پہلے کی طرح جاہل اور پسماندہ نہیں لگتی ہے۔ مگر ساتھ ہی اس کے وقار، اس کے تحفظ اور اس کی موجودہ صورتِ حال کو لے کر بڑے بڑے سوالات کھڑے ہونے لگے ہیں۔ ایسا کیوں ہے اور اس کی وجوہ کیا ہیں؟ اس پر سماج کو سوچنا چاہیے۔

واصفہ غنی

نیو قاضی محلہ، اورنگ آباد (بہار)

اچھا رسالہ

چھ ماہ سے سعودی عرب میں مقیم تھی۔ ۲؍ اگست کو عمرہ کر کے وطن آئی۔ الحمد للہ، نومبر تک کے سارے شماروں کا مطالعہ کیا۔ بڑی مسرت ہوئی۔ رسالوں کو پڑھ کر کیا تعریف کروں دینی و دنیاوی معلومات فراہم کرنے والا ادب اور ایمان کا شعور جگانے والا اور خواتین و طالبات کو امور خانہ داری سے روشناس کرنے والا یہ اردو کا واحد رسالہ ہے جو دورِ حاضر کے لیے اندھیرے میں نور ہے۔ یہ تعلیمی تحقیقی اور اصلاحی رنگوں سے رنگا ہوا ایسا خوبصورت رسالہ ہے جو اپنی کرنیں بکھیر کر اندھیرے کو دور کرتا ہے۔ اسی طرح حجاب ہمارے دل کی تاریکی ختم کر کے علم و ادب کے نور سے دل و دماغ کو منور کر دیتا ہے۔

ایک عرصہ کے بعد حجاب کے لیے ’’حضور اکرمؐ کے شب و روز‘‘ لیکر حاضر ہوئی ہوں، امید کہ آپ کو پسند آئے گا۔

پیکر سعادت رمز

صوبے داری، ورنگل

مضامین پسند آئے

دسمبر کے شمارے میں تمام مضامین اچھے لگے۔ ’بچوں کو نماز ی کیسے بنایا جائے؟‘ بہت پسند آیا۔ اسی طرح سمیر یونس کی تحریر ’اسپتال عبرت کا مقام‘ بہت پسند آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مضمون میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ خود عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مسجد کے موذن مریض کا ذکر پڑھ کر حیرت بھی ہوئی اور ایمان کو تازگی بھی ملی۔

سمیر یونس کی تحریریں میں پسند کرتا ہوں۔ عائلی زندگی سے متعلق آپ جو ان کی تحریریں شائع کرتے ہیں ان میں سے کئی تحریروں کی فوٹو کاپی کرتا رہا ہوں۔ اس کی بھی دسیوں کاپیاں میں نے احباب میں تقسیم کی ہیں۔

خلیق الرحمن ندوی

نبی نگر، بریلی (یوپی)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply