صدقہ

جود و سخا

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’ہر صبح کو دو فرشتے (اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس دنیا میں)اترتے ہیں، ایک کہتا ہے ’’اے اللہ! خرچ کرنے والے کو نعم البدل عطا فرما‘‘ دوسرا کہتا ہے: ’’اے اللہ! بخل کرنے والے کو تباہ و برباد کر۔‘‘

تشریح: اسلام نے ہمیں جینے کا سلیقہ اور قرینہ عطا کیا ہے۔ زندگی کا ارفع و اعلیٰ مقصد اللہ کی بندگی اور اللہ کے بندوں کی خدمت ہے۔ گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہی سے کوئی شخص دنیا اور آخرت میں فوز و فلاح سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔

انسان کی پوری زندگی امتحان ہے اور یہ دنیا اس کے لیے امتحان گاہ۔ رب کریم کسی کو مال دے کر آزماتا ہے اور کسی کو غربت میں رکھ کر پرکھتا ہے۔ کسی کی صحت میں آزمائش کرتا ہے اور کسی کو بیماری میں جانچتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کون راحت پاکر اس کا شاکر و ذاکر بندہ بنتا ہے اور کون تکلیف اٹھا کر اس کا صابر و عاجز غلام رہتا ہے۔ بندۂ مومن ان دونوں حالتوں میں استقامت کی راہ اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کے یہاں اجر پاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

’’مومن کا معاملہ بھی خوب ہے اور یہ مومن ہی کی خصوصیت ہے کہ جب اسے خوشی پہنچتی ہے (اور مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے) تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے (اور اس مال کو غربا و مساکین پر لٹاتا ہے) تو یہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اورجب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے (تنگی اور عسرت کا وقت آتا ہے) تو صبر سے کام لیتا ہے۔ یہ صبر کرنا بھی اس کے حق میں بہتر اور اجر کا باعث ہوتا ہے۔

(مسلم، ریاض الصالحین، باب الصبر)

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے