غزل

ہر اک مقام پہ کچھ دَل بدل تو ہوتے ہیں

بدلنے والے یقینا سپھل تو ہوتے ہیں

پتہ نہیں انھیں یہ بدگمانیاں کیوں ہیں

کہ رائفل سے مسائل بھی حل تو ہوتے ہیں

کھلانے والے بہت دشت و برف زار میں گل

نہ ہوتے ہوں گے مگر آج کل تو ہوتے ہیں

یہ خد و خال عروج و زوال کے البم

کہانیوں پہ کئی مشتمل تو ہوتے ہیں

لہولہان سہی حوصلے پرندوں کے

خیال و خواب کا نعم البدل تو ہوتے ہیں

نہ دیکھ چشمِ حقارت سے ان بزرگوں کو

کھنڈر بھی حسبِ روایت محل تو ہوتے ہیں

خفا خفا ہے بہت بے دلیل ہونے پر

خطا سرشت کے ماتھے پہ بل تو ہوتے ہیں

ذرا سنبھل کے بڑا خوش نما ہے وہ دلدل

یہ اور بات ہے اس میں کنول تو ہوتے ہیں

یہ کیا ضروری ہے پتھر بھی مارتے جائیں

بھری بہار میں پیڑوں پہ پھل تو ہوتے ہیں

’’رؤف خیر‘‘ نہیں مرتے اولیائے غزل

یہ اور بات ہے نذرِ اجل تو ہوتے ہیں

شیئر کیجیے
Default image
رؤف خیر

Leave a Reply