مشورہ حاضر ہے!

میرا چہرہ خشک اور جلد بے رونق ہے۔ ہلکی ہلکی جھریاں پڑی ہوئی ہیں۔ اوپر کے ہونٹ پر رواں بھی ہے۔ میرے بھائی ’مونچھوں والی‘ کہہ کر میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ میں نے کہیں آنا جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔

٭… !جب چہرہ خشک ہو تو جھریاں پڑ جاتی ہیں۔ میری ایک پرانی سہیلی کے چہرے پر بڑا نکھار اور چمک ہے۔ ایک دن میں ان کے گھر صرف یہ دیکھنے گئی کہ وہ کیا استعمال کرتی ہیں۔ دورانِ گفتگو میں نے اپنا سوال پوچھ ہی لیا‘ وہ خاتون کہنے لگیں:

’’میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے‘ صابن کو ہاتھ نہیں لگایا۔ سرسوں کی کھل سے سر دھوتی اور نہاتی ہوں۔ باہر کہیں آنا جانا پڑے‘ تو بیسن سے منہ دھو کر جاتی ہوں۔ اسی لیے میرے چہرے اور بالوں پہ چمک ہے۔ میرے بالوں میں کبھی خشکی پیدا نہیں ہوتی۔ بال لمبے بھی ہیں اور خوب صورت بھی۔

جو لوگ سرسوں کی کھل سے سر دھوتے ہیں، ان کے بال سیاہ‘ ملائم اور چمکدار رہتے ہیں۔ سفید بھی جلد نہیں ہوتے۔ آپ بھی چہرے پر صابن نہ لگائیے۔ رات کو چنے کی دال تھوڑے سے دودھ میں بھگو دیں‘ صبح تک وہ پھول جائے گی۔ اسے پیس کر آدھے لیموں کا رس ملائیے اور رکھ دیجیے۔ جب لگانی ہو ذرا سا دودھ ملا کر چہرے پر لیپ کیجیے۔ آہستہ آہستہ انگلیوں سے ملیے‘ پھر منہ دھو لیجیے۔

کیلے کا چوتھائی حصہ چمچے سے کچل کر اس میں آدھی چمچی شہد ملائیے اور چوتھائی حصہ زیتون کا تیل ملا کر چہرے پر لگائیے۔ پندرہ منٹ بعد صاف کر کے بیسن سے منہ دھو لیجیے۔ ہفتے میں دوبار لگا سکتی ہیں۔

انڈے کی زردی میںآدھا چمچہ شہد اور چوتھائی چمچہ زیتون کا تیل ملا کر لگانابھی مفید ہے۔ دس منٹ بعد منہ دھو لیجیے۔ رات کو تھوڑے سے دودھ میں چٹکی بھر ہلدی ملا کر آدھے لیموں کا رس نچوڑیے‘ دودھ پھٹ جائے گا۔ اسے چہرے اور ہاتھوں پر اچھی طرح ملئیے۔ دس منٹ بعد منہ دھو کر سو جائیے۔ ہونٹوں پر سے رواں دور کرنے کا علاج یہ ہے:

مٹھی بھر آٹے میں ذرا سا نمک اور تیل یا گھی ملا کر سخت گولہ بنا لیں۔ اسے بالوں پر دس منٹ تک آہستہ آہستہ ملئیے پھر ایک طرف رکھ دیجیے۔ شام کو پھر لگائیے اور اسے ضائع کر دیجیے۔ اگلے دن تازہ آٹا لے کر پھر بنائیے۔ دو تین ہفتے اسی طرح کیجیے‘ رواں کم ہو جائے گا۔ یاد رکھیے‘ رواں اکھاڑنے سے بال سخت اور نمایاں نکلیں گے۔

پاؤں کا نزلہ

میری عمر اکیس سال ہے۔ میرے پائوں میں بہت پسینہ آتا ہے۔ اسے ہم ’پائوں کا نزلہ بہنا‘ کہتے ہیں۔ پسینہ اتنا آتا ہے کہ چپل پھسل جاتی ہے اور چلنے میں مشکل ہوتی ہے۔ میں دبلا پتلا بھی ہوں۔ بتائیے یہ خلل کیسے دور ہو گا؟

٭… آپ دودھ میں شہد ملا کر پیجئے ‘ وزن بڑھ جائے گا۔ تین کیلے روز کھائیے۔ رات کو گیارہ بادام بھگو کر رکھیے‘ صبح انھیں چھیل کر پیس لیں۔ ان باداموں میں ایک چمچہ تازہ مکھن یا اصلی گھی ملا کر چینی ڈالئیے اور روٹی کے ساتھ کھائیے۔ بعد میں ایک گلاس دودھ میں تھوڑا سا شہد ڈال کر پی لیجیے۔ چند ماہ یہ نسخہ استعمال کیجیے‘ آپ کا وزن بڑھ جائے گا۔

پائوں کی بد بو اور پسینے کا علاج یہ ہے کہ دو عدد گول بینگن لے کر ان کے چار ٹکڑے کر لیں۔ خیال رہے ٹکڑے علیحدہ نہ ہوں۔ پھر انھیں ایک دیگچی میں تقریباً دو ڈھائی کلو پانی میں پکائیے۔ جب پانی آدھا رہ جائے تو نیم گرم پانی میں آدھا چمچ نمک ملا کر ہاتھ پائوں بھگوئیے۔ دس منٹ بعد نکال کر صاف کیجیے۔ ایک ہفتہ ایسا کرنے سے پائوں کی بدبو اور تکلیف ختم ہو جائے گی۔

نیم کے سات یا گیارہ چھوٹے پتے تین کالی مرچ کے ساتھ رگڑئیے اور گولی بنا کر نہار منہ کھائیے۔ بعد میں ناشتہ کیجیے۔ تازہ پتے روزانہ نہ ملیں ‘تو نیم کی کونپلیں سائے میں سکھائیے پھر کالی مرچ ملا کر پیس لیجیے۔ بعد ازاں تھوڑا سا پانی ملا کر گولیاں بنا لیں اور روزانہ ایک گولی کھائیے۔ ایک ماہ کھا کر دیکھیے۔

’’میرے بچے کو ملیریا بخار ہے۔ اس کی وجہ سے پریشان ہوں۔ اتر جاتا ہے پھر چڑھ جاتا ہے۔ علاج ہو رہا ہے۔ آپ اس بارے میں ضرور لکھیے تاکہ بہت سارے لوگوں کا بھلا ہوجائے۔ اس کی علامات اور بہتری کے لیے بتائیے کیا کریں؟

ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا پابندی سے کھلائیے۔ ملیریا میں چکوترہ بہت مفید ہے، روزانہ کھلانا چاہیے۔ اسی طرح تلسی کی چائے مفید ہے۔ دارچینی کی چائے فائدہ دیتی ہے۔ موٹی کٹی ہوئی دارچینی ایک چائے کا چمچ لے کر ایک گلاس پانی میں اْبالتے ہیں۔ پھر اس میں ایک چٹکی پسی ہوئی کالی مرچ اور ایک چمچہ شہد ملا کر پیتے ہیں۔ اسی طرح تلسی کے ۷ پتے پانی میں چائے کی طرح پکا کر چھان کر چٹکی بھر کالی مرچ چھڑک کر پیتے ہیں۔ ملیریا میں تازہ پھل اور سبزیاں مفید ہیں۔ نیم کے پتے پانی میں اْبال کر رکھیں۔ یہ پانی آپ گھر میں رکھے پودوں کو دے سکتے ہیں۔ نیم کے پانی سے مچھر نہیں آتے۔ پوری آستین کی قمیص اور لمبا پاجامہ پہنئے۔

بازار میں بہت سارے لوشن دستیاب ہیں وہ آپ جسم کے کھلے حصوں پر لگا کر سو سکتے ہیں۔ نیم کے سوکھے پتے، کلونجی، حرمل ملا کر کمرے میں دْھونی دیں۔ گھر سے باہر پانی نہ کھڑا ہونے دیں۔ مچھر گندے اور ٹھہرے پانی میں انڈے دیتے ہیں۔ ملیریا کی علامت معلوم ہوتے ہی ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائوں کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ مچھر مارنے کے لیے گھروں میں جلیبی یا میٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ استعمال شدہ میٹ سنبھال کر رکھیے۔ نیم کے پتے ڈیڑھ گلاس میں خوب اْبال کر پانی چھان کر اس میں میٹ ملا دیں۔ جب میٹ اچھی طرح نرم ہو جائیں تو پانی چھان کر اسپرے کی بوتل میں بھر کر کمرے میں خوب اسپرے کریں۔ اس سے مچھر بھاگ جائیں گے۔ نیم کے پتوں کی دھونی اچھی طرح ہفتہ میں ایک بار دی جائے تو مچھر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ تھوڑی سی احتیاط گھر والوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

شوہر کا مسئلہ

میری شادی کو ۲ سال ہوگئے۔ اللہ نے ایک بیٹی بھی عنایت فرمائی ہے۔ میرے گھر کا مشترکہ نظام ہے۔ ساس، سسر، دیور ساتھ رہتے ہیں۔ دو تین ماہ سے میں یہ بات محسوس کر رہی ہوں، شوہر مجھ پر توجہ نہیں دے رہے۔ اتوار کے دن وہ بازار جاتے ہیں۔ پہلے میں ساتھ چلی جاتی تھی اب بچی کی وجہ سے نہیں جا سکتی۔ گھر کے کاموں میں الجھی رہتی ہوں۔ رات گئے تھک کر لیٹ جاتی ہوں۔ نیند بھی پوری نہیں ہوتی۔ صبح اٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ آپ ہی بتائیے میں کیا کروں اور کیسے اپنے شوہر کی توجہ حاصل کروں۔

سارا قصور آپ کا ہے۔ مجھے لگتا ہے بچہ ہونے کے بعد آپ نے اپنے آپ پر توجہ دینی چھوڑ دی ہے۔ بچے بھی ہوتے ہیں۔ گھر بار کا مسئلہ ہوتا ہے مگر آپ کو سب سے پہلی ترجیح اپنے شوہر کو دینی چاہیے۔ آپ صبح ناشتا بنا کر ان کے پاس بیٹھ کر ساتھ دیجیے۔ شام کو ان کے آنے سے پہلے اپنے پر توجہ دیں۔ کپڑے بدلیں، بال ٹھیک کریں اور پھر شوہر کر اچھی سی چائے بنا کردیں۔ ان کے ساتھ ہنسیں بولیں۔ بچی کو بھی تیار کرکے اپنے ساتھ گود میں رکھیں۔ وہ بازار جائیں تو سب کام چھوڑ کر ان کے ساتھ جائیے۔ بچی کو آپ اپنی ساس کے پاس چھوڑ کر جا سکتی ہیں۔

اسی طرح صبح ناشتہ کے وقت بھی آپ بچی کو ساس کے حوالے کر سکتی ہیں اور۱۵/۲۰ منٹ شوہر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہیں۔ بچہ ہونے کے بعدمعمولات میں تھوڑی بہت تبدیلی آتی ہے مگر عقل مند بچیاں سارے کام سنبھال لیتی اور اپنے شوہر کے ساتھ خوش رہتی ہیں۔

اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچائیے۔ شوہر پر بھرپور توجہ دیجیے۔ آپ کے سارے مسئلے خودبخود ٹھیک ہوجائیں گے اور آپ کے شوہر بھی خوش رہیں گے۔ چند ماہ کی بات ہے، بچی ذرا بڑی ہوگی تو آپ کو بھی سہولت ہو جائے گی۔ عورت پر بہت ساری ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے تھوڑی سی قربانی دینی پڑتی ہے۔

لکنت

ہمارے قاری رحمت اللہ لکھتے ہیں۔ میرا بچہ ۷ سال کا ہے۔ پہلے وہ ہم سے تتلا کر بات کرتا تھا۔ اب اسے لکنت کی بیماری ہو گئی ہے۔ چند الفاظ پر اٹک جاتا ہے۔ بظاہر صحت مند ہے۔ میں اس کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہوں۔ کوئی دعا ہو یا دوا ہو تو ضرور بتائیے۔

جو بچے لکنت کا شکار ہوتے ہیں ان پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ احساسِ کمتری کی وجہ سے وہ اور زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ بچے کو پیار سے سمجھائیے کہ وہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اکیلے کمرے میں جا کر جن حروف پر اٹک جاتا ہے، ان حروف کو زور زور سے دہرانے کی مشق کریں۔ کچھ بچے اکیلے میں بالکل صاف لفظ ادا کرتے لیکن سب کے سامنے اٹک جاتے ہیں۔ ان کو خوف ہوتا ہے کہ وہ لفظ بول نہیں پائیں گے۔ ان کا یہ خوف آپ پیار سے ختم کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہومیوپیتھک ادویہ بھی اس معاملے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح قرآنِ پاک کی سورۂ طٰہٰ کی آیت ۲۵ سے لے کر۲۸ ویں تک بچے کو زبانی یا دکرائیں اور بچے کو دن میں کئی بار پڑھنے کی ہدایت کریں۔ آیات کی برکت سے زبان صاف ہوجائے گی۔

پنساری سے تھوڑا عقرقرحا خریدیں۔ اسے پیس کر رکھ لیں۔ چٹکی بھر عقرقرحا تھوڑے سے شہد میں ملا کر بچے کی زبان پر اور منہ کے اندر اچھی طرح لگائیں۔ اس سے منہ کے اندر سے پانی اور رال بہے گی۔ دن میں ۲ بار لگانا ہے۔ یہی نسخے صدیوں سے آزمائے جاتے ہیں، آپ بھی اللہ کا نام لے کر آزمائیے۔ عقرقرحا اور تیزپات کے پتے ۱۲-۱۲ گرام، کالی مرچ ۶ گرام ملا کر پیس کر دن میں ۲ بار منہ میں لگانے سے لکنت ٹھیک ہوجاتی ہے۔

سینے کی جلن

میرا پہلا بچہ ہونے والا ہے۔ باوجود کوشش کے میں کھا نہیں سکتی۔ سینہ میں اتنی جلن ہوتی ہے کہ برداشت سے باہر۔ کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ ڈاکٹر نے دوائی دی ہے مگر جلن میں کمی نہیں ہو رہی۔ اس بارے میں بتائیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے آپ مرغن کھانا لیتی ہیں۔ حمل کے دوران سادہ غذا لینی چاہیے۔ مسالے دار، چٹ پٹی، تلی ہوئی چیزیں کھانے سے یہ مسئلہ ہوجاتا ہے۔ آپ تھوڑا تھوڑا کرکے چار پانچ بار کھانا لیں۔ رات کو سونے سے پہلے ایک پیالی دودھ پینے سے جلن میں کمی ہوتی ہے۔ اپنے کھانے میں پھل ضرور شامل کریں۔ کبھی کیلا کھالیا، موسم کے پھل لے لیے۔ دہی، دالیں، مغزیات، دودھ، دلیہ لیں۔ ناشپاتی مل جائے تو ضرور کھائیں۔ آپ کی غذا سادہ اور متوازن ہونی چاہیے۔ اپنی ڈاکٹر سے ضرور معاینہ کراتی رہیں اور جو دوائیں دیں، وہ ضرور کھائیں۔

خون کی کمی

میرے بچے میں خون کی کمی ہے۔ ڈاکٹر نے دوائیاں دی ہیں۔ علاج ہو رہا ہے۔ کالج میں پڑھتا ہے۔ آپ اس کے لیے کوئی غذائی ٹوٹکا بتائیں تاکہ وہ جلدی ٹھیک ہوکر پڑھائی مکمل کرسکے۔

بی بی! ہمارے ہاں حکیم لوگ تو خون کی کمی کی دوا ’’فولاد‘‘ سمجھتے اور اس کے لیے دوا دیتے ہیں۔ آپ کھانا کھلانے کے بعد ۲ کینو یا مالٹے موسمی ضرور کھلائیے۔ بکری کا قیمہ لا کر ہلکا سا نمک اور کالی مرچ ڈال کر کباب بنائیے۔ ایک کباب صبح ناشتے میں اور ایک شام کی چائے کے ساتھ ایک ماہ تک ضرور کھلائیے۔ اسی طرح آپ بکری کے قیمہ میں لہسن، پیاز، نمک وغیرہ ڈال کر بھون کر کھلا سکتی ہیں۔ صحت بہتر ہوجائے گی۔ کینو کے موسم میں بچوں والے گھر میں آپ اس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ آپ کی اور بچوں کی صحت بہتر رہے۔

ہاضمہ ٹھیک نہیں

چندماہ سے مجھے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔ پراٹھا کھالوں یا دوپہر کو سالن وغیرہ تو کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ ڈکاریں آتی ہیں۔ کچھ کھانے پینے کو دل نہیں چاہتا۔ بالکل سادہ کھانا لوں تو طبیعت بوجھل نہیں ہوتی۔ کیا کرنا چاہیے۔

آج کل پپیتا عام دستیاب ہے۔ کہنے کو تو یہ سستا پھل ہے مگر اس کے فائدے بے شمار ہیں۔ سخت سے سخت گوشت پر آپ کچا پپیتا لگادیں تو وہ گل جاتا ہے۔ معدہ کے مریضوں کے لیے یہ تحفہ ہے۔ اس کے کھانے سے قبض دور ہوجاتا ہے۔ مرغن کھانا ہضم ہوتا ہے۔ آپ پکا ہوا پپیتا لا کر گھر میں رکھیں۔ کھانا کھانے کے بعد ۲/۳ قاشیں کھا لیجیے۔ کھانا معدہ پر بوجھ نہیں بنے گا۔ آپ کے معدہ، جگر، آنتوں کا عمل ٹھیک رہے گا۔ اس سے آپ کے دل کو بھی تقویت ملے گی۔۱۰/۱۵ دن کھا کر دیکھیے۔ پھلوں کی چاٹ یا سلاد میں پپیتا شامل کیا جائے تو صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ دوا کی دوا ہے اور غذائیت سے بھرپور پھل بھی۔

نیند کی کمی

میری نیند آج کل پوری نہیں ہو رہی۔ دفتر میں کام کی زیادتی ہے اور گھر میں بچہ بیمار ہے۔ رات کوسوتا ہوں تو نیند اچٹ جاتی ہے۔ میں نیند لانے والی گولی نہیں کھانا چاہتا۔ نیند کی کمی سے کام متاثر ہو رہا ہے۔ نیند کی کمی کیسے ٹھیک ہوگی اور میں گہری نیند کیسے لے سکوں گا۔

نیند کی گولیاں کھانے سے اعصاب اور پٹھوں پر بْرا اثر پڑتا ہے پھر ان کی عادت ہوجاتی ہے۔ آپ ہمدردمطب کی سومینا خریدیں۔ رات کو گرم دودھ میں ملا کر لیجیے۔ چند دنوں میں آپ کو خود محسوس ہوگا، نیند اچھی آ رہی ہے۔ بادام، چاروں مغز اور دوسری چیزیں دماغ اور اعصاب کو سکون دیتی ہیں اور ان کے مابعد اثرات بھی نہیں ہوتے۔ آپ بھی کھائیے۔ ان شاء￿ اللہ تعالیٰ آپ کو اچھی نیند آجائے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply