غذائیں جو دَوا بن جائیں

دو روز قبل میرے پیٹ میں درد تھا۔ بڑے بھائی کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا ارے امرود کی چند پھانکیں کھالو، افاقہ ہوگا۔ خوش قسمتی سے فریج میں امرود موجود تھے۔ میں نے ایک امرود کھا لیا۔ بیس پچیس منٹ بعد پیٹ دردٹھیک ہوگیا۔

اس مثال سے عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کئی غذائیں دوا کی بھی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے، بعض اوقات کوئی غذا کھالینے سے خلافِ توقع لاحق بیماری جاتی رہتی ہے یا کم از کم افاقہ ضرور ہوتا ہے۔ دراصل غذائوں میں معدنیات اور وٹامن کے علاوہ ایسی غذائیات بھی موجود ہوتی ہیں جو ہمارے نظام ِ مامون کو تقویت پہنچاتی، جسم میں سوزش کم کرتی اور امراض دور بھگاتی ہیں۔ذیل میں ایسی ہی غذائوں کا بیان پیش ہے جو مخصوص بیماریوں میں فائدہ پہنچاتی ہیں۔

خراب گلا اور کھانسی

اس کیفیت میں رسول کریمؐ کی پسندیدہ غذا، شہد استعمال کیجیے۔ شہد میں موجود جراثیم کش اور ضدتکسیدی خصوصیات اْسے مؤثر غذا بنا ڈالتی ہیں۔ یہ خصوصاً خراب گلا درست کرتا اور کھانسی کو مار بھگاتا ہے۔ ایک پیالی نیم گرم چائے میں دو چھوٹے چمچ شہد ملائیے اور پی جائیے۔ یہ نسخہ ہر دو تین گھنٹے بعد استعمال کیجیے، صحت یاب ہو جائیں گے۔

شہد کو آپ دہی، سلاد اور مختلف غذائوں یا مشروبات میں بھی ملا کر استعمال کرسکتے ہیں۔

ورزش کی اکڑن

بعض اوقات پہلی دفعہ ورزش کرنے یا وزن اْٹھانے سے جسم درد کرنے لگتا ہے۔ عضلات اکڑ جاتے ہیں اور پھر ورزش کرنے کو جی نہیں چاہتا۔اس تلخ کیفیت کو ادرک کی مدد سے دور کیجیے۔

دراصل ماہرین کا کہنا ہے، ادرک میں شامل ضد تکسیدی مادوں کی ایک قِسم، گینگرول انسانی جسم میں سوزش کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا اثر مشہور درد کش دوا، آئبوپروفن سے ملتا جلتا ہے۔

ایک تجربے میں سخت ورزش کرنے والوں کو ڈیڑھ ہفتوں تک دو گرام (تقریباً دو چھوٹے چمچ) ادرک روزانہ کھلائی گئی۔ انھوں نے دوران استعمال 25 فیصد تک کم درد محسوس کیا جب کہ ادرک نہ کھانے والوں نے کافی تکلیف محسوس کی۔ لہٰذا آپ ورزش کا آغاز کرنے لگے ہیں، تو اعصابی درد سے بچنے کی خاطر ادرک کھائیے۔ اِسے بھی مختلف طریقوں سے کھانا ممکن ہے۔

ماہواری کی پریشانیاں

کئی خواتین میں ماہواری آنے سے قبل مختلف ذہنی و جسمانی تکلیفیںجنم لیتی ہیں۔ طبی اصطلاح میں یہ کیفیت ’’پری مینو سٹرل‘‘ اجتماع علامات پری مینسٹرویل سینڈروم کہلاتی ہے۔ ماہرین طب اب تک نہیں جان سکے کہ یہ آفت کیوں جنم لیتی ہے۔

تاہم کچھ عرصہ قبل ماہرین نے بذریعہ تجربات و تحقیق یہ ضرور جانا ہے کہ جن خواتین میں رائبو فلاوین یا وٹامن 2مطلوبہ مقدار میں پایا جائے، وہ درج بالا اجتماع علامات میں کم مبتلا ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ وٹامن ہمارے بدن میں ایسے نیوروٹرانسمیٹر(عصبی خلیوں) کو تقویت پہنچاتا ہے جو پری مینسٹرویل اجتماع علامات کی شدت کم کرتے ہیں۔

لہٰذا درج بالا کیفیت کا شکار خواتین اپنے بدن میں رائبوفلاوین یا وٹامن 2کی کمی نہ ہونے دیں۔ ایک بالغ خاتون کو روزانہ 1.1ملی گرام یہ وٹامن درکار ہوتا ہے۔ یہ حیاتین خمیر،کلیجی، خشک مسالہ جات، سویابین، پنیر، ثابت گندم، تل اور دھوپ میں سکھائے ٹماٹروں میں ملتا ہے۔

سینے کی جلن

کھانا کھانے کے بعد ہزارہا مرد و زن اپنے سینے یا معدے میں جلن(Heartburn)محسوس کرتے ہیں۔ یہ طبی کیفیت بھی ان بیماریوں میں شامل ہے جنھیں ڈاکٹر صحیح طرح نہیں سمجھ سکے۔ یہ کیفیت مختلف وجوہ کی بنا پر جنم لیتی ہے۔

اس سے بچنے کا ایک علاج ریشے (Fiber)والی غذائیں زیادہ کھانا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ریشہ غذا کو نظام ہضم سے جلد گذار کر نکال باہر کرتا ہے۔ یوں نظام ہضم میں موجود تیزابوں کو موقع نہیں ملتا کہ وہ غذا سے تعامل کرکے کچھ گڑبڑ کریں جن میں سینے کی جلن بھی شامل ہے۔

ریشے سے بھر پور غذائوں میں ثابت اناج، پھلیاں، بیریاں، مٹر، چنا ، السی کے بیج، ناشپاتی اور امرود شامل ہیں۔ یہ سبھی غذائیں پیٹ کی مختلف بیماریوں میں افاقہ کرتی ہیں۔

نظر کی خرابی

انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے، وہ بینائی کے ایک اہم مرض، ماکولر ڈی جینریشن (Macular degeneration)کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اس مرض میں نظر دھندلا جاتی ہے۔ تاہم انسان گوبھی اور سبزپتوں والی دیگر سبزیاں کھاتا رہے، تو اس مرض سے بچ سکتا ہے۔

وجہ یہ ہے کہ درج بالا سبزیوں میں زانتھوفل (Xanthophyll)مادہ ملتا ہے۔ یہی مادہ نہ صرف سبزیوں کو سبز رنگ عطا کرتا ہے بلکہ انسان کو ماکولر ڈی جینریشن سے نجات بھی دلاتا ہے۔

قوت ارتکاز کی کمی

انسان میں کولین (Choline) کی کمی کے باعث قوت ارتکاز کم ہوتی ہے۔ یہ غذائی عنصر دماغ کی اس صلاحیت کو تقویت دیتا ہے کہ وہ اپنے احکام پورے جسم میں بخوبی بھجوا سکے۔ اس صلاحیت کے کمزور ہونے سے انسان ارتکاز کی قوت کھو بیٹھتا ہے۔ نیز کولین ہمارے خلیوں کو بھی صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ غذائی عنصر وٹا من بی گروہ کا حصہ ہے۔

کولین انڈے، مرغ اور گائے کے گوشت میں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا آپ قوت ارتکاز میں کمی محسوس کریں، تو چند دن روزانہ ایک انڈا کھائیے یا گوشت استعمال کیجیے۔ افاقہ ہوگا۔

جلد پر جھریاں پڑنا

انسانی جسم میں مخصوص پروٹینی مادہ، کولاجن کم پڑجائے، تو جلد اپنی لچک کھو بیٹھتی ہے۔ تب اس میں جھریاں بھی پڑنے لگتی ہیں۔ لہٰذا جلد کو لچکیلا بنانے کی خاطر اس مادے کی جسم میں موجودگی ضروری ہے۔

ہمارے بدن میں وٹامن سی کولاجن پیدا کرتا ہے، لہٰذا روز مرہ کھانے میں ایسی غذائیں مثلاً ہری مرچ، کِنو یا مالٹا، امرود، شکر قندی، لیموں، لیچی وغیرہ شامل رکھیے جن میں وٹامن سی کثیر تعداد میں ملتا ہے۔

پھولی ہوئی آنکھیں

کئی مرد و زن کی آنکھوں کے نیچے جلد پھول جاتی ہے۔ تب سیاہ حلقے بھی جنم لیتے ہیں۔ ایسا در اصل جلد میں مائع بھرنے سے ہوتا ہے۔ اس حالت سے چھٹکارا پانے کا آسان حل یہ ہے کہ چند ماہ سبز چائے پیجئے۔ یہ چائے دراصل پیشاب آور ادویہ جیسے اثرات رکھتی ہے۔ اسی لیے سبز چائے پینے سے پورے جسم میں غیر ضروری پھلاہٹ جاتی رہتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر جاوید احسن

Leave a Reply