تعلیم

اپنے بچوں کو عزت دیجئے!

اس نامہربان خاتون نے اپنی مریضہ بیٹی میری کو اِس طرح میرے سامنے کوسا کہ میں ان کے جانے کے بعد بھی کتنی دیر سے بے جان سی بیٹھی ہوں۔ کلینک میں بظاہر ہر چیز نارمل ہے، مگر میرے اندر تک اداسی اتری ہوئی ہے۔

20سال کی لڑکی کا زار و قطار رونا اور غلط باتیں کرنا یقینا نارمل نہیں تھا۔ اور اْس کے جانے کے بعد میں کتنی دیر سوچتی رہی کہ کیا اِس کی ماں کا رویہ نارمل تھا؟

’’نارمل رویے نارمل لوگوں کو پیدا کرتے ہیں۔ یہ بے نمازی، جہنمی لڑکی زندگی اور زمین پر بوجھ ہے۔ اپنے موٹاپے تک کو دْور نہیں کرسکتی نہ اپنی آخرت کو بچا سکتی ہے!‘‘ یہ الفاظ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔

آپ سب سے میری گزارش ہے نماز بے شک ہمارا مذہبی فریضہ ہے، اِس کی باقاعدگی خود پر اور اپنے بچوں پر ضرور لازم کریں۔لیکن انھیں یوں بے عزت نہ کریں۔

بچےآٹھ بجے کا ڈراما اپنی مائوں کے ساتھ بیٹھ کر باقاعدگی سے دیکھ سکتے ہیں، تو نماز کے لیے بھی انہی کے ساتھ باقاعدگی سے اٹھ سکتے ہیں۔ انھیں یہ سوچ کر نماز پڑھائیں کہ اس مبارک عمل میں مکمل صحت اور بہت ساری بیماریوں کا حل ہے۔

ہمارے بچے سست اور بے دین ہو رہے ہیں۔ جب انھیں نماز پڑھنے کے لیے کہو، تو پہلے ہی دن اِس قدر پریشان کرتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ نماز انھیں بوجھ محسوس ہوتی ہے، تو ہم اگلے دن کے لیے اِس مشقت سے ہاتھ اْٹھا لیتے ہیں۔

کیوں…؟ کیا ہمیں یہ کام اتنی سی کوشش کے بعد مشکل لگنے لگتا ہے؟

غور کیجیے توپلے گروپ میں بچے کو اسکول روتا دھوتا چھوڑ کر آنا مشکل ہوتا ہے۔ اْس کی خاطر اسکول میں اْس کی کلاس کے باہر سارا دِن بیٹھے رہنا آسان نہیں۔ ہمیں یہ ساری تکلیفیں، تو قبول ہوتی ہیں۔

اْسے دنیا دار بنانے کی پڑھائی کے لیے ہم اتنی تکلیف خوشی سے اٹھا لیتے ہیں لیکن دین نجات کے پلے گروپ میں جب داخل نہیں کرواتے ، تکلیف نہیں اٹھاتے، تو وہ ساری زندگی کے لیے اِس اِسکول اور اْس کی تعلیم سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر جب ہم اْس کے بڑے ہونے پر اْسے زبردستی نماز پر کھینچتے ہیں،تو وہ بالکل نہیں مانتا اور ہم غصہ دکھاتے ہیں کہ یہ تو پیدا ہی بے دین ہوا ہے۔یہ سست ہے۔ یہ تو فرشتوں کے گھر شیطان پیدا ہوگیا۔

میرے نزدیک یہ ناانصافی ہے۔یہ جملے میں نے اپنے کانوں سے سنے ہیں اور اْس لڑکی کو نماز اور اللہ تعالیٰ سے بے حد دْور اور خفا دیکھا ہے۔ وہ زندگی کی ہر دوڑ میں ناکام ہے۔ وزن زیادہ ہے شکل و صورت یاLooks اچھی نہیں رہیں۔ تین مرتبہ ایف اے میں فیل ہوچکی ہے۔ کوئی تعلیم نہیں ہے۔ متحرک نہیں ہے، تو گھر کے کاموں میں سلیقہ مند نہیں ہے۔ ہر وقت کی ڈانٹ کھا کھا کر وہ بد اخلاق،چڑ چڑی اور بدزبان ہوچکی ہے۔ یعنی حاصل جمع یہ وہ ایک بے کار لڑکی ہے۔ زمین پر اور اپنی والدہ کے دِل پر بڑا بوجھ ہے!

اور اْسے یہ بوجھ بنایا کس نے ؟

کیا وہ ہمیشہ ایسی تھی؟ کیا وہ ایک بوجھ کی طرح ہی پیدا ہوئی تھی؟

ہماری زبان اور رویہ ہمارے بچوں کو بنا بھی دیتا ہے اور بگاڑ بھی دیتا ہے۔

آپ کو اگر سختی کرنی تھی تو پلے گروپ سے کرنی چاہیے تھی۔ تب تو لاڈ سے اِس پہلو کی طرف آپ کا دھیان ہی نہیں گیا پھر اب ایک دم سے اْس بچی کی کایا کیسے پلٹے گئی؟ جس سختی اور پابندی سے اْسے اسکول روانہ کیا تھا۔ کیا اْس سختی سے نماز کے لیے کھڑا کیا تھا؟ جس سختی سے اسکول کے امتحان کی تیاری کروائی تھی کیا اْس سختی سے روزے رکھوائے تھے؟ جس سختی سے اْس کی میرٹ کے لیے اکیڈمیاں بدلی تھیں۔ کیا اْس سختی سے اْسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کی حکمت عملیاں بنائی تھیں؟

بچی غلط نہیں ہے!

یہ میں آپ کو بہت کھل کر بتا رہی ہوں۔ آپ کو آخری عمر میں بخار چڑھ گیا سب اچھا اچھا کرنے کا، تو اپنے بچوں کو اب کوئی جادو کی چھڑی سے نہیں بدل سکتی سوائے… نرم خوئی، مسلسل محنت اور دْعا سے جو سب سے بہترین پہلا اور آخری حل ہے۔

میرا دِل بہت بھرا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے جسم سے جان نکلی ہوئی ہے۔جو کچھ وہ لڑکی نعوذباللہ، اللہ تعالیٰ کے متعلق بولی تھی کوئی بے دین ہی بولتا ہے۔ جب دنیا میں وہ کسی اتھارٹی کو نہیں مانتی، تو کچھ بھی کہہ سکتی ہے۔

وہ کسی اْوپر والے کا وجود ماننے کو تیار نہیں ہے۔ کیونکہ اْس بتانے والی نے صرف اللہ کو جلاد بنا کر پیش کیاجو جہنم تیار کرکے بیٹھا ہے اور سب کو پکڑ پکڑ کر جہنم میں پھینکے جارہا ہے۔

لاحول وَلا قوۃ۔ اگر وہ ربّ کریم ایسا ہوتاتو جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں اگلے وقت کا کھانا بھی نصیب نہ ہو۔

یہ اْس کی رحمت ہے کہ بْرے اعمال کے باوجود ہم اچھا کھاتے پیتے ہیں۔بہترین پْر آسائش گھروں میں رہتے ہیں اور طبعی عمریں پوری کرتے ہیں۔

اللہ رحمن ہے کریم ہے! توبہ کرنے والا اْسے بے حد پسند ہے۔ وہ جہنم کا داروغہ نہیں ہے کہ ہر شخص کو اْٹھا کر اس میں پھینک دے اور رحمن کریم تو ہر پل انتظار کرتا ہے کہ میرا بندہ اچھا سوچ بھی لے ،تو میں اْسے اجر دوں گا۔

وہ اپنے بندوں اور بندیوں سے بے حد پیار کرتا ہے۔ اللہ بس پیار ہی پیار اور رحیم ہی رحیم ہے۔ پلٹ آنے والوں کے لیے وہ ہمیشہ رحمن رہا ہے۔ پیاری چھوٹی بہن تم دِل نہ چھوٹا کرو۔ بس ایک بار زندگی اور اللہ کی طرف پلٹ آنا۔ دیکھنا دْنیا کا ہر اچھا معجزہ تمھارے لیے ہے۔ تمھاری زندگی میں اچھا ہونا باقی ہے۔ کیونکہ تمھارا پلٹنا باقی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نوشین ناز

Leave a Reply