ننھے نمازی

بچوں کو کس طرح نمازی بنایا جائے؟

یوں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نامساعد حالات میں رہنے کے باوجود کچھ افراد اعلیٰ کردار اور بلند اخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کا صحیح اور غلط کا شعور اتنا قوی اور صراِ مستقیم پر چلنے کے لیے قوت ارادی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ اچھے ماحول اور اچھی تعلیم کے پروردہ بھی ان کے معیار تک نہیں پہنچ پاتے، لیکن اس طرح کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس لیے اگر ہم یہ کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ اولاد کی اچھی تربیت، صحیح خطوط پر ان کی پرورش اور بعد ازاں نگرانی اور راہ نمائی کے لیے ماں اور باپ دونوں کا وجود انتہائی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے والدین پر اپنے بچوں کی نیک اور صالح تربیت کرنا ضروری قرار دیا ہے، کیوں کہ اولاد اللہ کی طرف سے سونپی گئی ایک امانت ہے اور ان کی تربیت میں کوتاہی نہ صرف امانت میں خیانت کے مترادف ہوگی بلکہ اس کے متعلق دریافت بھی کیا جائے گا، کیوں کہ مومنین اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچانے پر مامور کیے گئے ہیں۔

فرمان الٰہی ہے:

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔‘‘ (تحریم:۶)

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

’’جس کے پاس چھوٹی عمر کا غلام، یتیم، یا لڑکا ہو اور وہ اس کو نماز کا حکم نہ دے تو اس کو شدید سزاد ی جائے گی۔‘‘ (مجموع فتاوی ابن تیمیہؒ ۲۲/۵۰،۵۱)

بچوں کو نماز کا حکم دینا

چھوٹے بچے کو کسی بھی چیز کا عادی بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے، کیوں کہ صغر سنی میں عام طور پر کوئی ایسی عادت اس پر غالب نہیں ہوتی، جو مطلوبہ چیز کو ماننے کی راہ میں رکاوٹ ہو اور نہ ہی کسی بات سے اس کا ایسا شدید تعلق ہوتا ہے جو حکم کردہ بات کی بجا آوری میں حائل ہو۔ اس حوالے سے عملی مشق ایک ایسا اسلوب ہے جو بچوں کی شخصی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور جب بچہ ایک کام کو بار بار دہراتا ہے تو وہ اس کی عادت بن جاتا ہے۔

نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ہر پیدا ہونے والا فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ (بخاری: ۱۳۸۵)

یعنی وہ فطرتِ توحید اور اللہ پر ایمان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اس لیے اسے اسی پر برقرار رکھنے کے لیے ابتدائی عمر میں ہی اس کی ایسی پرورش کی جائے کہ وہ خالص توحید اور شرعی آداب کے عین مطابق پروان چڑھے۔

اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ جب بچے کو اسلامی تربیت اور نیک والدین میسر آجاتے ہیں تو وہ حقیقی معنوں میں بہترین پرورش پاتا ہے، کیوں کہ والدہ کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے۔ جب والدین بچے کو اسلامی مکارم اخلاق کاخوگر اور اچھے اعمال کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اس کی طبیعت کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن اگر بچے کو نظر انداز کردیا جائے اور اس کی تربیت کو خاص اہمیت نہ دی جائے، یہاں تک کہ وہ ایسی چیزوں کا عادی ہوجائے جو خلاف شرع ہوں تو ان امور کے غالب ہوجانے کے بعد بچے کو مثبت رجحانات کی طرف مائل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

حکماء کے مطابق والدین بچے کی ابتدائی عمر میں جو تصور اس کے ذہن میں بٹھاتے ہیں وہ اس کے ذہن میں نقش ہوجاتا ہے، ان کا خیال ہے کہ بچے کی ۹۰ فی صد تربیت پانچ سال کی عمر تک مکمل ہوجاتی ہے۔۰ چوں کہ بچہ اس عمر میں اپنے والدین کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، لہٰذا سرپرست کو چاہیے کہ وہ اس عمر کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے بچوں پر بھرپور نگاہ رکھے۔

صغر سنی میں بچہ نیک و بد اور خیر وشر میں تمیز کرنے سے عاری ہوتا ہے۔ نفسیاتی طور پر وہ ایسی چیزوں میں رغبت محسوس کرتا ہے جس کی طرف اس کی توجہ اور رہنمائی کی گئی ہوتی ہے۔ اگر بچے کی نگرانی کرنے کی بجائے اس کی مثبت انداز میں رہنمائی نہ کی جائے تو اس میں شخصی طور پر ایسی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں جو آخری عمر تک برقرار رہتی ہیں۔

’’باریک اور چھوٹی ٹہنیوں کو تو آپ سیدھا کرسکتے ہیں، لیکن جب وہ تناور درخت بن جائیں تو ان کا سیدھا کرنا ناممکن ہوتا ہے۔‘‘

اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچے کو خیر کا عادی بنانے کی غرض سے کسی بھی اچھے کام کو بار بار دہرانے کے لیے کہیں تاکہ اس کا رجحان مستقل طور پر اس طرف ہوجائے۔ اس سے بچے کی زندگی میں مثبت اور دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیوں کہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے اور اس چیز کو سمجھنے لگتا ہے، جس کا اسے عادی بنایا گیا تھا تو وہ اس میں مزید التزام کرتا ہے۔

مسلسل مشق کے ذریعے کسی کام کا عادی بنانے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ چھوٹی عمر ہی سے سستی و کاہلی کو ترک کردیتا ہے اور اس میں اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس جاگزیں رہتا ہے۔

فضیلت نماز اور اس کی تعلیم دینے کی اہمیت

نماز کی پابندی کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہے اور یہ تزکیہ نفس اور اخلاق کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز ارکان اسلام میں سے ہے۔ اسلام کی بنیاد اور اساس نماز ہے اور اسی پر اسلام کی عمارت قائم ہے۔ اسی لیے خدائے بزرگ و برتر نے مومنین کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

’’اپنی نمازوں کی نگہ داشت رکھو، خصوصا ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جامع ہو، اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح کھڑے ہوں، جس طرح فرماں بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں۔ (البقرہ:۲۳۸)

نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضو رنبی کریمؐ نے اپنی وفات کے وقت جو آخری وصیت فرمائی وہ نماز ہی کی تھی۔

سیدنا انس بن مالکؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے اپنی وفات کے وقت جو کلمات کہے، وہ یہ تھے:

’’دوبار فرمایا نماز، نماز اور لونڈیوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ (ابن حبان)

پابندی نماز سے ایک مسلمان کی زندگی میں جو اَدبی اور اخلاقی خوبیاں پیدا ہوتی ہیں اس حوالے سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’بے شک نماز برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ (عنکبوت:۴۵)

ادائیگی نماز سے مسلمان کی زندگی ایک نظم کے تحت آجاتی ہے اور اس کے دل میں وقت کی اہمیت کا احساس بھی جاگزیں رہتا ہے۔ نماز جہاں بندے کو گناہوں سے پاک کرتی ہے وہاں اسے صحت اور جسمانی طہارت بھی عطا کرتی ہے۔

جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو نماز ان کی زندگی میں ایک اہم اجتماعی، اخلاقی اور تربیتی اہمیت رکھتی ہے۔ اس تناظر میں اسے معمولی اہمیت دے کر نظر انداز کرنا ایک ایسی غلطی ہو گی جس کا بعد میں ازالہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوگا۔

جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز کی تلقین شروع کردینی چاہیے۔ فرمان نبویؐ ہے:

’’جب تمہاری اولاد سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اٹھیں نماز کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو (نماز میں کوتاہی کرنے پر) انہیں سزا دو۔‘‘ (ابو داؤد ۴۹۵)

اسلام نے نماز کا پابند بنانے کے لیے یہ ایک ہلکی سی ٹریننگ اور تربیت رکھی ہے، کیوں کہ سات سے دس سال کا درمیانی عرصہ تربیت، پیار و شفقت اور عملی مشق کا متقاضی ہوتا ہے اور انھی سالوں میں والدین اپنے بچوں کو ترغیب دلا کر نماز کا پابند بنا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ بچوں کو نماز کا حکم دینا صرف والد ہی کی ذمہ داری نہیں، مائیں بھی اس ذمہ داری میں برابر کی شریک ہیں۔

امام شافعیؒ کا بیان ہے: ’’باپ اور ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ادب سکھائیں، طہارت اور نماز کی تعلیم دیں اور باشعور ہونے کے بعد (کوتاہی کی صورت میں) ان کی پٹائی کریں۔‘‘ (شرح السنہ)

بچوں کو کس طرح نماز کا پابند بنایا جائے

اس حوالے سے ہم تین طرح کی تقسیم کرسکتے ہیں:

۱- سات سال کی عمر سے قبل کا دورانیہ

۲- سات اور دس سال کا درمیانی عرصہ

۳- دس سال سے سن بلوغت تک کا مرحلہ

قبل اس کے کہ ان مراحل کی وضاحت کی جائے، ہم بچوں کی تربیت کے حوالے سے چند ضروری باتیں والدین کے گوش گزار کرتے ہیں۔

٭ نصیحت میں اگر رحمت نہ ہو تو فضیحت بن جاتی ہے۔ آدمی اگر ایک کام خود کرے اور دوسرے کو اس سے منع کرے یا اس انداز سے نصیحت کرے، جس سے حقارت و نفرت کا احساس پیدا ہو یا اٹھتے بیٹھتے اس کی رٹ لگائے رکھے تو پھر سننے والے کے دل میں ضد اور بغاوت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ اس نصیحت کو درست جانتے ہوئے بھی اسے ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ بزرگوں کے مخلص اور بہی خواہ ہونے میں کلام نہیں لیکن ان کی خیر خواہی کو نادان کی دوستی بہر حال نہیں ہونا چاہیے۔

٭ بچوں کو نماز کا پابند بنانے کے لیے شوہر اور بیوی کی باہمی ذہنی ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس حوالے سے دونوں کی رائے آپس میں مختلف ہو۔ ایک بچے کو نماز کا حکم دے رہا ہو جب کہ دوسرے کا خیال ہوکہ جب بڑا ہوگا تب دیکھا جائے گا۔ اس سے بچہ تذبذب کا شکار ہوکر کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا حالاں کہ یہ عمر ایسی ہوتی ہے جس میں وہ دوسروں کی تقلید اور اطاعت پسند کرتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ گھر میں تمام اہل خانہ بچے کو نماز کی ترغیب دلائیں۔

٭ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو بتائیں کہ مسلمان کی زندگی میں نماز خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ بچے کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے آسان اسلوب میں وعظ و تذکیر کی جائے۔

٭ بچوں کو نماز کا طریقہ سکھایا جائے اور انھیں بتایا جائے کہ مومن نماز اس لیے ادا کرتا ہے تاکہ رضائے الٰہی کے حصول میں کامیاب ہوجائے۔ نماز پڑھنے والے کو روزِ قیامت جنت میں داخلہ ملے گا۔ نماز اہل ایمان کا شعار اور ارکانِ اسلام میں سے ہے۔

٭ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی پابندی کو لازم پکڑیں۔

٭ والدین اپنے بچوں کے ساتھ گھل مل کر رہیں، ان کومناسب وقت دیں، ان کے ساتھ کھیل میں شریک ہوں اور ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں۔ اس سے بچوں کے لیے انھیں سمجھنا آسان ہوگا اور والدین کے لیے بھی ان سے اپنی بات منوانا چنداں مشکل نہ رہے گا۔

٭ کوشش کی جائے کہ بچوں کی صحبت نیک بچوں کے ساتھ ہو، کیوں کہ لاشعوری طور پر انسان کے اندر اپنے دوستوں کے خیالات و نظریات تشکیل پاتے ہیں۔

حدیث میں ہے: ’’انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

٭ بچوں کو کسی کام کی ترغیب دلانے کے لیے کثرت کے ساتھ دعائیں کریں، کیوں کہ ان کی دعائیں بچوں کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ والدین کی اپنے بچوں کے لیے مانگی گئی دعاؤں کو رد نہیں فرماتے۔

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’اللہ تعالیٰ تین طرح کی دعا ضرور قبول کرتے ہیں، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والدین کی اپنے بچوں کے لیے کی گئی دعا۔‘‘ (ابن ماجہ)

لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے صراطِ مستقیم او رحفظ و امان کی دعائیں کریں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے بد دعا نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ ان کی بد دعا بچوں کے لیے مستقل تباہی و بربادی کا سبب بن جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
الشیخ احمد القطان

Leave a Reply