داعیہ

دعوت دین اور خواتین کی ذمہ داری

خواتین اور فریضہ دعوتِ دین

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہہ ساری دنیا کے لیے خداکے آخری پیغمبر ہیں۔رسولؐ اللہ کی وفات کے بعد اس ذمہ داری کواداکرنے کی کیا صورت ہے؟ یقیناًآپؐ کے بعد آپؐ کی امت اس کارِ نبوت کی ذمہ دار ہے۔ آپؐ نے اپنی زندگی میں براہ راست اس فریضے کو سر انجام دیا۔ آپؐ کے بعد یہ کام بالواسطہ طور پر آپؐ کی امت کے ذریعے انجا م پائے گا۔ اس امت کی یہ لازمی ذ مہ داری ہے کہ وہ نسل در نسل ہر زمانے کے لوگوں کے سامنے اس دین کا پیغام پہنچاتی رہے جو آپؐ کو اللہ رب العالمین کی طرف سے موصول ہوا تھا۔ یہ پیغام قیامت تک کے انسانوں کے لیے راہِ ہدایت ہے جس کی حفاطت کا ذمہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود اٹھایا ہے۔قرآنِ حکیم فرقانِ حمید میں اللہتعالیٰ نے مذکورہ بالا حقیقت کی خود نشان دہی فرمائی ہے:

اے پیغمبرؐ! جوارشادات اللہ کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو۔اور اگر ایسا نہ کیا تو تم اللہ کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا)۔(المائدہ ۵:۷۶)

بلاشبہہ اللہ رب العالمین نے پیغمبروں کے انتخاب میں مردوں کو ذمہ دار اورمسؤل کی حیثیت سے نامزد کیا ،لیکن اس پیغمبر انہ مشن کو آگے لے کر چلنے میں کسی صنفی امتیاز کی نشان دہی نہیں کی۔ قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فریضے کے ذمہ دار مرد اور خواتین دونوں ہیں:

اورمومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں،(وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی [یا،ابد کے باغوں] میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے)۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ۹: ۱۷۔ ۲۷)

خواتین کو دعوت دین کی ذمہ داری تفویض کرتے ہوئے نبیؐ نے اپنی ازواج مطہراتؓ کو مخاطب کرتے ہوئے بزبانِ قرآن ارشاد فرمایا: ’’اورتمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت(کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بے شک اللہ باریک بیں اور باخبر ہے۔‘‘ (الاحزاب۳۳: ۴۳)

آپؐ سے دین کی تعلیمات سننے، انھیں محفوظ کرنے، ان سے احکام مستنبط کرنے اورانھیں دوسروں تک پہنچانے میں آپؐ کی ازواج مطہراتؓ اور دیگر صحابیاتؓ نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ حضرت عائشہؓ آیاتِ قرآنی کی تفسیر کرتیں اور احادیث مبارکہ سے احکام اخذ فرماتی تھیں۔ جلیل القدر صحابہؒ ان کی محفلِ درس میں شامل ہوتے تھے اور اپنے مابین اختلاف رائے کی صورت میں انھیں حَکم اور اْن کی رائے کو فیصلہ کن سمجھتے تھے۔حضرت عائشہؓسے ۲ہزار۲سو۱۰، حضرت اْم سلمہؓ سے ۳۷۸ اور دیگر صحابیات سے بھی بہت سی احادیث مروی ہیں۔ بعد کے اَدوار میں بھی خواتین قرآن اور حدیث کے علم کے حصول اور تحصیل میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ چنانچہ داعی دین اور داعیاتِ دین دونوں کو یہ فریضہ سر انجام دینا ہے۔

داعیات دین کی ذمہ داریاں

داعیاتِ دین کو دعوت الی اللہ میں ان تمام اصولوں ، ترجیحات اور لائحہ عمل کوملحوظ رکھنا ہوگا جو انبیاے کرام ؓ کی دعوت کا حصہ ہیں۔ نیز ان تمام علمی اور عملی اغلاط سے بچنے کا شعوری طور پر اہتمام کرنا ہوگا جس میں ہمارے مبلغین اور واعظین اکثر اوقات مبتلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عصر حاضر میں دین کا مفہوم ادھورا اور دین کی تبلیغ کا مفہوم بھی محدود ہے۔

تصورِ دین کا فہم و ادراک

ایک داعیہ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کو دین کا مکمل اور جامع تصور فراہم کرے۔ اسلام کی بطور نظام حیات اور بطور نظام زندگی پہچان کرائے، کیونکہ دین اپنی تکمیلی شکل میں نازل ہو چکا۔ حکم رباّنی ہے:

’’(اور) آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمھارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔‘‘ (المائدہ۵: ۳)

دین کے جامع تصور میں زندگی کے تمام دائروں میں اسلام پر عمل درآمد کا مطالبہ ہے۔ اسلام کو بطور روحانی نظام، بطور عائلی و معاشرتی نظام ، قانونی نظام، معاشی نظام، سیاسی نظام اور بین الاقوامی نظام سمجھنا اور سمجھانا ایک داعیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔چنانچہ ایک داعیہ کو اپنے مخاطبین دعوت کے لیے ترتیب وار اور حکمت پر مبنی طریقے سے ان تمام پہلوؤں سے دین کی تعلیمات کو موضوع گفتگو بنانا ہو گا۔ ایمانیات اور عبادات پر کماحقہ راہنمائی کے ساتھ ساتھ عائلی اور معاشرتی دائروں میں___ گھریلو اور خاندانی زندگی کے حْسن انتظام، رشتہ داروں کے حقوق کی ادایگی، قوانین نکاح و طلاق اور وراثت، معاشرتی زندگی میں مسلموں اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کا نبھاؤ، مسلمانوں کی جان ومال اور آبرو کے حوالے سے تعلیمات وقوانین، اسلامی معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا حصہ، مسلم معاشروں میں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ۔ ماحولیات کے ساتھ انسان کا تعلق، حیوانات ، نباتات، جمادات اور آبی ذخائر کے حوالے سے ہدایات، گھر کے ساتھ محلّہ ، سڑکوں ، باغات اور دیگر عوامی جگہوں پر صفائی کا خیال۔ شہری املاک کی حفاظت، قانون کی پاسداری، مساجد کا احترام اور دیکھ بھال، رواداری، دہشت گردی___ ان تمام اْمور کو اسلام کے تحت موضوعِ گفتگو ہونا چاہیے۔ معاشی دائرے میں حلا ل وحرام، آمدنی کا فرق، کسب مال کی ترغیب، زائد از ضرورت مال اور محروم طبقات کے حقوق، زکوٰۃ اور صدقات، ریاست کے ذرائع آمدنی، سود، اسلامی بنکاری، کاروبار کے اصول و ضوابط تمام موضوعات پر انسان الہامی ہدایت کا محتاج ہے۔ قانونی دائرے میں اسلام کے عائلی، دیوانی اور فوجداری قوانین، قانون سازی کے اختیارات، اسلامی قانون کے ذرائع، قوانین کے نفاذ کی شکلیں، ان تمام اہم موضوعات کی تفاصیل قرآن وحدیث اور فقہ میں موجود ہیں جن کا عوام الناس تک منتقل ہونا از حد ضروری ہے۔

سیاسی نظام کے دائرے میں حاکمیت اعلیٰ، یعنی حاکمیت الٰہی کا تصور، دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نیابت، خلیفۃ اللہ فی الارض کی حیثیت میں اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے ذمہ دار کی حیثیت میں سیاسی نظام کی بنیادیں، منصب خلافت یا امارت، شورائیت، مقتدر طبقے کے فرائض، اقتدار کے ذریعے دین الٰہی کا نفاذ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ، فلاحی ریاست کا قیام، ان تمام اْمور کی تفاصیل کو سمجھے بغیر ایک انسان کس طرح اسلام کو بطور نظام حیات سمجھ اور مان سکتا ہے۔

بین الاقوامی نظام کے تحت ایک مسلم ریاست کے دیگر ممالک سے روابط و تعلقات کی بنیادیں، غیر جانب دار اور بر سرِپیکار قوتوں کے ساتھ تعلق، بین الاقوامی طور پر مسلمہ انسانی حقوق کی پاس داری، عالمی قوانین کے اختیار کرنے میں امکانات اور رکاوٹیں، جنگ اور جنگی قیدیوں کے حوالے سے تعلیمات___ یہ تمام وہ موضوعات ہیں جو اکیسویں صدی میں اسلامی ریاست کے خدوخال سمجھنے اور اس کے قابل عمل ہونے پر اعتماد عطا کریں گے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
شگفتہ عمر

تبصرہ کیجیے