ترکِ میراث: گناہِ عظیم

اسلامی نظامِ زندگی میں میراث کی تقسیم ایک اہم فریضہ ہے۔اس سے دولت نہ صرف حقیقی مستحقین تک پہنچتی ہے بلکہ ان خرابیوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے ،جو دولت اورجائیداد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے سورۃ نساء میں اس سے متعلق تفصیلی احکام نازل فرمائے اور نافرمانی کی صورت میں بھیانک عذاب کی وعید بھی سنا دی ۔خود نبی کریم ﷺ نے وراثت کی تقسیم کے فن کو ’نصف علم‘ قرار دیا اور فرمایا:

’’ اے لوگو! علمِ فرائض سیکھو کہ وہ نصف علم ہے‘‘۔

بدقسمتی سے ہم مسلمان جہاں دوسرے علوم میں پچھڑتے جا رہے ہیں وہیں علمِ فرائض کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے اور آپ ﷺ کی پیشین گوئی ’’سب سے پہلے جو علم میری امت سے اٹھا لیا جائے گا وہ علم فرائض ہے‘‘ کو سچ ثابت کر رہے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم میں سے اکثریت ترکہ کی شرعی تقسیم سے غافل ہے اور گناہِ عظیم کی مرتکب ہو رہی ہے۔جب کہ روایتوں میں آتا ہے کہ میراث کا مال کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی اور اس کے لیے جہنم طے ہے ۔قرآن نے اسے کافروں کا عمل قرار دیا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

’’اور میراث کا سار امال سمیٹ کر رکھے جاتے ہو اور مال کی محبت میں پوری طرح گرفتار ہو‘‘ (الفجر:۱۹، ۲۰)

ترکہ کی تعریف

کسی مرد یا عورت کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں جو مال و جائیداد،نقد روپیہ اور استعمال کے سازوسامان خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے سب اس کا ترکہ کہلاتا ہے۔

ترکہ کے بارے میں شریعت کا قانون یہ ہے کہ اس سے ترتیب وار درج ذیل چار حقوق ادا کیے جائیں ۔

(۱) کفن دفن کا انتظام

سب سے پہلے مرنے والے کے ترکہ میں سے اس کے کفن دفن کا نظم کیا جائے گا، خواہ اس میں پورا ترکہ ختم ہو جائے۔مگراس میں اعتدال ضروری ہے۔

(۲) قرض ادا کرنا

تجہیز و تکفین کے بعد ترکہ بچے گا تو اس سے مرنے والے کے ذمے کوئی قرض ہو تو اسے ادا کیا جائے گا۔چاہے اس میں پورا ترکہ لگ جائے۔اس میں بیوی کا مہر بھی شامل ہے۔اگر شوہر نے مہر ادا نہیں کیا ہے تو پسماندگان پر بیوی کو ادا کرنا واجب ہے اور یہ اس کا میراث کے علاوہ میں سے حق ہے۔

یہ جو رواج ہے کہ شوہر کا جنازہ نکلتے وقت بیوہ سے عورتیں زبردستی کہہ سن کر مہر معاف کرا لیتی ہیں ، یہ شریعت کے خلاف ہے۔ اس طرح سے مہر معاف نہیں ہوتا۔

قرض یادوسرے لین دین کو بھی تحریری شکل میں رکھنا چاہیے اور اپنے سب سے قریبی یا قابلِ اعتماد شخص کو وصی بنادینا چاہیے کہ یہ میرے معاملات ہیں اور میرے بعد اس کو ایسے کرنا۔اس سے فرض ادا ہوجائے گا اور کل کو مواخذہ نہیں ہوگا۔وصی کو بھی جلد ازجلد مرنے والے کے دوست احباب وغیرہ سے معلوم کرکے سب ادا کردینا چاہیے۔ہم میں سے اکثریت کا حال یہ ہے کہ وصیت کرنا تو دور،اگر ان کے سامنے وصیت کرنے کی بات بھی کر دی جائے تو مرنے کے تصورسے برا بھلا کہنا شروع کر دیں گے۔گویا انہوں نے آبِ حیات پی رکھا ہو۔

(۳)وصیت کی تکمیل

ان دونوں کے بعد اگر ترکہ بچ رہا ہو تو اس سے مرنے والے کی وصیت کو پورا کیا جائے گالیکن یہ نہ تو ایک تہائی سے زیادہ ہواورنہ ہی ناجائز کام کے لیے ہو اور یہ غیر وارثین کے حق میں ہو۔

(۴)ورثا میں تقسیم

ان تینوں حقوق کی ادائیگی کے بعد جو کچھ ترکہ بچے گا اسے مرنے والے کے وارثین کے درمیان شرعی قاعدے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

مندرجہ بالا حقوق کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا، ترتیب کو باقی نہ رکھنا، تاخیر سے کام لینا، وارثین یا حق داروں کی اجازت کے بغیرترکہ پر قابض رہنا یا اس سے دعوتیں کرنا، تحفہ دینا، بیچ دینا، صدقہ کر دینا، مدرسے یا مساجد میں دینااور اس سے تنِ تنہا کاروبار کر کے نفع حاصل کرنا حرام ہے۔ایسا کرنے والے لوگ نہ صرف احکامِ الٰہی کا کھلم کھلا مذاق اڑاتے ہیںبلکہ بندوں کے حقوق کو بھی غصب کرتے ہیں۔خاص کر یتیم بچے اگر چھوٹے ہوں تو قریبی رشتے دار اس پر قبضہ کر لیتے ہیں،جب کہ یتیموں کا ناحق مال کھانا،ان سے فائدہ اٹھانا اور ان کو نفع سے محروم رکھنا سنگین جرم ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

ان الذین یاکلون اموال الیتٰمٰی ظلما انما یاکلون فی بطونھم ناراً و سیصلون سعیرا (النساء:۱۰)

’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں،وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیںاور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے۔‘‘

یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ مسلمان صدیوں سے قانونِ وراثت کے معاملے میں حدود اللہ کو پامال کرتے آرہے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ اس میں جاہل اور ان پڑھ طبقہ ہی ملوث ہے بلکہ اچھے خاصے دیندار لوگ بھی اس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مختلف حیلوں اور بہانوں سے ماں بہن بیٹی اور دوسرے حق داروں کو میراث سے محروم کردیا جاتا ہے۔مثلاً۔۔

اگروالد کا انتقال ہوا تو بیٹے ترکہ کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اور ماں کو اس سے یہ کہہ کر محروم کر دیتے ہیںکہ امی تو ہمارے ساتھ ہی رہیں گی بھلا، ان کو اس کی کیا ضرورت؟سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے ان کا حصہ مقرر کر دیا تو پھر کسی کو اس میں مین میخ نکالنے کا کیا حق ہے؟اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماں بے چاری بیٹوں کے یہاں باری باری بھٹکتی رہتی ہے اوراسے اپنی ضروریات کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتاہے اور اگر بہو ’جدید دورکی ‘مل جائے تو بیڑا ہی غرق ہوجاتا ہے۔ اگر ماں کو ترکہ دے دیا جائے تو وہ خود کفیل رہے گی یا کم از کم لوگ لالچ ہی میں اس کی خدمت کریں گے اور اس کی بقیہ زندگی آرام سے کٹ جائے گی۔

ایسے ہی بہنوں کو حصہ نہیں دیا جاتا ہے اور اگر بہن نے مانگ لیا تو کہا جاتا ہے کہ تمہیں بھائی چاہیے یا حصہ؟یہ بہت سنگین دھمکی ہوتی ہے کہ اگر تم نے حصہ لیا تو پھر ہمار ا تم سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہوگااور اگر حصہ نہیں لوگی تو ہم تمہارا ہر طرح سے خیال رکھیں گے۔بہن مجبور ہو کر وراثت چھوڑ دیتی ہے۔بعض ’دیندار لوگ‘بہنوں کا حصہ ان سے اپنے حق میں دستبردار کرا لیتے ہیںیا معاف کرا لیتے ہیں۔یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے۔کیوں بہن اپنا حصہ بھائی کے لیے معاف کردے؟کیوں نہیں بھائی ہی اپنا حصہ بہن کے حق میں معاف کر دیتا؟ہمیں تو کم از کم آج تک ایسی مثال دیکھنے کو نہیں ملی۔

بعض ’حضرات‘ فرماتے ہیں کہ بہن یا بیٹی کو جہیز دے دیا ہے تو اب اس کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔جب کہ جہیز کا تصوراسلام میں ہے ہی نہیں اور نہ ہی جہیز وراثت کابدل ہے۔کیوں کہ والدین اپنی زندگی میں جو کچھ اولاد کو دیتے ہیں وہ تحفہ ہوتا ہے، نہ کہ وراثت کا حصہ۔ جہیز دو یا مت دو، مگر وراثت میں حصہ تو دینا پڑے گا۔یہاں نہیں دیا تو آخرت میں اپنی نیکیوں کی صورت میں دینا پڑے گا۔

اسی طرح بیوی اور بیٹی کو بھی مختلف حیلوں کے ذریعے ترکہ سے محروم کردیا جاتا ہے یا ان ہی بیٹیوں کو دیا جاتا ہے جن کی شادی نہیں ہوتی تاکہ دولت اور جائیداد گھر سے باہر نہ جا سکے ۔کہیں صرف بڑے بیٹے کو کل کا مالک بنا دیا جاتا ہے توکہیں سرے سے تقسیم ہی نہیں کیا جاتا اور وراثت ’مشترکہ خاندانی جائیداد‘ سمجھ لی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بعد میں آپسی لڑائیاں ہوتی ہیں اور نوبت قتل تک پہنچ جاتی ہے۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے تمام حیلے اوربہانے اللہ تعالیٰ کے خلاف کھلی بغاوت ہیں اوراس پر بھیانک عذاب ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

’’یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی فرمابرداری کرے گا اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر ہ حدوں سے آگے نکلے گا اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا،ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ (النساء:۱۳،۱۴)

میراث سے متعلق احکام کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور کسی کا حق نہ دینے یا دبا لینے کے سلسلے میں بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں۔ حضرت ابوہریرۃؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک انسان مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ تعالی کی اطاعت کے عمل کرتے رہتے ہیں پھرجب ان کی موت کا وقت آتا ہے تووصیت میں(وارثوں کو) نقصان پہنچا جاتے ہیں تو ان کے لیے آگ واجب ہو جاتی ہے۔‘‘ (ابودائود:۲۸۶۷)

آج کل نماز روزہ زکوۃ وغیرہ پر تو بہت توجہ دی جارہی ہے لیکن بندوں کے حقوق اور معاملات،خاص کروراثت کی تقسیم سے ہم لوگ غافل ہیں۔اس پر توجہ دینی چائیے اور اس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے ورنہ اللہ تعالی کے یہاں ہماری نمازیں اور عبادتیں بے وزن ہوںگی۔’صفر‘دیکھنے میںمعمولی لگتا ہے لیکن بڑے سے بڑے عدد کو اگراس سے ضرب دے دیا جائے تو حاصلِ ضرب صفر ہوجاتا ہے۔

عام خیال یہ ہے کہ وراثت انتقال کے کافی بعد تقسیم کرنی چاہیے ورنہ لوگ کیا کہیں گے کہ ادھر آنکھ بند ہوئی اور ادھر بٹوارہ شروع ہوگیا۔مگر یاد رہے کہ یہ اللہ تعالی کا حکم ہے ،کسی انسان کا نہیں اور ویسے بھی وارثین کو بھی ترکہ تقسیم کرنے میں جلدی کرنی چاہیے کیوں کہ وفات کے وقت لوگوں کے دل غم زدہ ہوتے ہیں اور دنیا کی رنگینیوں کو بھولے ہوئے ہوتے ہیں ، اس لیے بے ایمانی ، لالچ اور دھوکہ دھڑی کا جذبہ نہیں پیدا ہوپاتالیکن جیسے جیسے وقت گذرتا جاتا ہے لوگوں کے سروں پر شیطنت سوا ر ہوتی جاتی ہے اور ایک دوسرے کا گلا کاٹنا شروع کر دیتے ہیں۔lll M.b 9911319959

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

Leave a Reply