3

کچھ اس کے بارے میں

ٹھاہ۔۔۔۔ٹھاہ ۔۔۔۔ جیسے گولیوں سے میرا سینہ چھلنی ہونے لگتا ہے۔ لباس ۔۔۔۔ لباس ہر جگہ لباس گھر باہر چاروں طرف اسی کے چرچے، اسی کے ہیولے اسی کی صورتیں۔ پہلے سنا کرتے تھے اوصاف حمیدہ شخصیت کا خمیر ہیں۔ اب مفروضہ یہ ہے کہ شخصیت کا دار و مدار لباس پر ہے، سچ بھی ہے آج کسے آپ کے گن کریدنے کی فرصت ہے۔ ہوسکتا ہے شخصیت سازی کا معیار، بلکہ مذاق کل کو بدل جائے اس لیے کہ انسان گھن چکروں کا رسیا ٹھہرا۔

جنگل اور غار کے انسان نے لباس نام کی چیزوں کی کس طرح دھجیاں اڑائیں پھر قدیم مصریوں، آشوریوں اور ہندیوں نے اسے کیا کیا کر دیے، یہاں تک کہ یہ طوائفوں، غلاموں اور ملکاؤں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا طالع آزماؤں، جرنیلوں، شیر دل سپاہیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ ایسا کہ پھر لباس فولاد و آہن کا نام رہ گیا۔ ابھی کہاں ابھی تو شاہان متلون مزاجی بھی وہیں کہیں تھے۔ موڈ میں آئے تو مسخروں اور بھانڈوں کو خلعتوں سے نوازا۔ دل میلا ہوا تو جاں نثار سپاہی کو قدرتی لباس ہی میں کوڑے لگوائے۔ بہرحال ان بڑے لوگوں کے ہاتھوں اچھے برے دن دیکھتا لباس آج تھری پیس سے آگے شارٹس بکنی اور ٹاپ لیس کے عوامی دور لیکن فیصلہ کن دور میں داخل ہوچکا ہے فیصلہ کن اس لیے کہ لباس آج بٹنوں، ربنوں اور لیس کی ہیرا پھیری کے سوا کچھ نہیں رہا یہ جو کچھ ہم اور آپ چڑھائے پھرتے ہیں اگر یہ لباس ہے تو پھر بے لباسی کیا ہوگی۔ ع

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب

ثنا خوان تقدیس مشرق، مشرقی ملبوسات کو مغربیوں کے لباس سے افضل قرار دے کر اسے شرم و حیا کا امین گردانتے ہیں یعنی اس خیال کی میں تاویل کروں تو یہ ہوگی کہ اب شرم و حیا نے انسانی دیدہ دل سے سمٹ کر لباس میں ڈیرا کرلیا ہے تو کیا فرمائیں گے اس بارے میں ثنا خوان تقدیس مشرق۔ لباس تو اپنے آپ کو سوسائٹی میں پیش کرنے کا ایک سلیقہ ہے کپڑے کے ساتھ ٹھوس نظریات منطبق کرنے کی ضرورت ہے نہ افادیت۔ اور بلاشبہ لباس اپنے معاشرے اور تمدن کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ہم دوسروں کے لباس کو اپنی پسند کی کسوٹی پر رکھنے والے کون ہوتے ہیں؟

میرے نزدیک لباس کی اصل غایت ستر پوشی کی بجائے عیب پوشی ہے۔ یہ آپ کی سو خامیوں کو چھپا کر آپ کی شخصیت کو نکھار کر عوام الناس کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اچھا کپڑا پہن کر آپ جاذبِ نظر، دلکش اور منفرد نظر آنے لگتے ہیں۔ آپ کی شخصیت پورے اعتماد سے سامنے آتی ہے۔ آپ کی خوش پوشی سے متاثر ہوکر دوسرے آپ سے ہم کلامی اور قرب کی خواہش کرتے ہیں۔ گھریلو زندگی میں آپ چاق و چوبند اور محفلوں میں بامراد و سربلند گھومتے پھرتے ہیں۔ قصہ سارا یہ ہے کہ انسان تنوع پسند ہے۔ اس نے دیکھا کہ ناک نقشہ کے معمولی فرق کے سوا سبھی انسان ایک سے ہیں۔اسی فرق سے اس نے فائدہ اٹھایا اور اجسام کورنگین و متنوع ملبوسات پہنا کر جدت پیدا کرلی۔ ورنہ یکجائی عضو کو کھال کا لباس تو تھا ہی۔ وہی جانوروں کا ۔ اب انسان ایک شوپیس۔ ایک نمونہ اور ایک ماڈل ہے لباس سے انسان کے شوق خود نمائی نے تسکین پائی، چناں چہ وہ شخص نہایت عیار تھا، جس نے پہلے پہل لباس کو ستر پوشی کا ذریعہ قرار دے کر متعارف کروایا وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ انسان ’حیوان‘ پرند، چرند ہر کہیں سسٹم ایک ہی ہے۔

اسے چھپائے نہ بنے

ایک بار لندن کے کسی تھیٹر میں کوئی مداری اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ کئی کمالات دکھانے کے بعد آخر اس نے اپنی آنکھوں پر پٹی بندھوائی۔ اسی پٹی کے ساتھ اس نے لاکھوں کے مجمعے میں سے خاص خاص لوگوں کو چن نکالا، شکر اور نمک کے ذرات تک الگ کردیے، نہایت باریک عبارت کو فرفر پڑھ ڈالا۔ لوگ بے حد مرعوب ہوئے پٹی اتارنے کے بعد اس نے مجمعے کو بتایا کہ کم خواب کے اس موٹے سیاہ کپڑے میں سے اسے ہر چیز صاف صاف نظر آتی تھی۔ یہ سن کر مجمع میں سے دو خواتین اٹھ کر بھاگ گئیں۔ ان کا لباس سیاہ کم خواب کا تھا۔ سو صاحبو! جانور تو کسی قسم کے کمپلیکس کا شکار ہوئے بغیر دندناتے پھرتے ہیں۔ اور انسان نے ع

شوق گل پوشی میں کانٹوں پر زبان رکھ دی

کپڑوں کی ہیرا پھیری میں ایسا پڑا کہ خود اس کا لباس آدمیت تار تار ہونے لگا۔ یہ کپڑوں کی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ، یہ بڑے ملکوں کے تجارتی راز اور پس ماندہ ممالک کا استحصال۔ یہ کیا ہے۔ انسان کی کمینگی۔ باہر سے خوش پوش انسان کا کھوکھا بلکہ گھناؤنا پن۔ کپڑوں میں آخر رکھا ہی کیا ہے وہ جن کے پاس کچھ ہوتا ہے وہ تو اقبال کے خرقہ پوش ہوتے ہیں۔

جغرافیہ دانوں کی توجیہ یہ ہے کہ لباس انسان کو موسموں کی گرمی سردی سے بچاتا ہے۔

ہونہہ! میں ناہی مانوں

ابتدائے آفرینش نے اس نے لاکھوں برس جھیلوں، غاروں، پہاڑوں میں گرمی سردی کی چیرہ دستیاں برداشت کیں بلکہ جنت میں بھی ایک عرصہ اس نے قدرتی لباس میں گزارا۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ اسے اپنی اشرف المخلوقاتی کہیں ٹکنے نہ دیتی وہ ذرا اس پر اور مہذب ہونا چاہتا تھا اشارے، کنائے اوں آں کرنا تو اسے آہی گیا تھا۔ بلند اٹھنے کی تمنا نے اس سے مچان تک بنوا لیے تھے ادھر وہ یہ بھی خوب جانتا تھا کہ الگ سے باندھ کر رکھنا مال کے سپیریر ہونے کی دلیل ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ’’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ کی ترکیب غضب ڈھاتی ہے۔ انتشار و ترغیب پیدا کرتی ہے اور یوں لباس جنس مخالف سے چھیڑ چھاڑ کا ایک موثر حربہ بھی ہے۔

ابھی اوپر ہی کہیں میں نے عرض کیا تھا کہ انسان کے کمپلیکسوں نے اسے مار ڈالا۔ وہ جو بنیادی حقوق کا چرچا کرتے نہیں تھکتا۔ اور جگہ جگہ ان کے لیے جنگ وجدان میں مبتلا ہے اپنے لیے نت نئی رنجیروں اور بندشوں کے جال بن رہا ہے، مسائل کے انبار لگا رہا ہے اپنی آزادی و خود مختاری پر خود قدغن لگاتا ہے، دنیا بھر میں استحصال اور ظلم کے خلاف چیخ رہا ہے لیکن حقیقت میں خود استحصال پسند ہے۔ استحصال کا شکار رہنا چاہتا ہے۔ محتاجی و غلامی اس کی فطرت میں ہے ورنہ بڑے سے بڑے غاصبوں اور آمروں کو جڑ سے اکھیڑ دینے والا اپنے آپ پر درزی کو کیوں مسلط کرلیتا؟ آج جتنا دھانسو غاصب اور جابر درزی ہے عہد قدیم کا کوئی بدنام فرعون بھی نہ ہوگا۔ درزی ہماری کمزوری ہے وہ ہماری زندگیوں میں ناقابل تصور اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ ہم عاجزی و بے بسی کی تصویر بنے اس کی چیرہ دستیوں کو سہتے پھرتے ہیں محض اس ذاتِ شریف کی خوشنودی کے لیے ہم دوسروں کی جیبیں کاٹتے پھرتے ہیں اور کمزوروں کے حقوق پہ چھاپہ مارتے ہیں۔ درزی کے سامنے ہماری ساری شوخی، طراری اور لفاظی ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ دلیلیں گنگ ہوجاتی ہیں۔ اور ہم بتیسی نکال کر گھگھیانے لگتے ہیں۔ ماسٹر جی، ماسٹر جی کہتے ہماری زبان نہیں تھکتی۔ اس قدر چاپلوسی کے باوجود ہم اس سے حسب منشا کام نہیں کروا سکتے نہ بروقت پوشاک حاصل کرسکتے ہیں میری ایک سہیلی تیس سالوں سے اب تک کسی درزی سے مطلوبہ طرز کا کف کالر نہیں بنوا سکی اور نہ مجھے آج تک کوئی ایسا درزی ملا ہے جس نے میرے سوٹ میں سے اپنی اولاد صالح کے لیے ایک آدھ قمیض کی گنجائش نہ رکھی ہو ہم بقائمی ہوش و حواس اپنی دولت اس کے ہاتھوں لٹاتے ہیں وہ بے درد آقا ہمارے جذبات کے ساتھ کھیلتا ہے، ہماری انا کو پائمال کرتا اور ہمارے تن کو تمسخر کا نشانہ بناتا ہے لیکن ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے حالاں کہ اور استحصالیوں کے خلاف ہمارا احتجاج بڑی منہ زور صورت اختیار کرلیتا ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ ہو اسی اک شوق خود نمانی نے معاشرے کے کتنے ہی طبقوں کو ملعون و مظلوم بنا رکھا ہے آجر اور مالک سرمایہ لگائے شبانہ و روز محنت کرنے کے باوجود استحصال و سرمایہ داری کا نشان قرار دے کر گردن زدنی ٹھہرے۔ آجر، صنعت کار اور مزدور مشینوں کی کل کل میں بھلے برے کی پرکھ کھو بیٹھتا ہے ازلی و ابدی محنت کش کسان، صلہ و ستائش کی تمنا سینے سے لگائے جئے جاتا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق لوگ روز افزوں آبادی کی تن پوشی کے لیے ریشم، کتان، ریان، نائیلون، پلاسٹک اور جانے کیاکیا الا بلا ریشے ایجاد کر رہے ہیں، دنیا مصیبت میں پڑی ہے۔

طبی نقطہ نگاہ سے دیکھئے لباس صحت مندی کے راستے میں حائل ہے۔ کالر سے اکڑی ہوئی گردن، تنگ سینہ بند میں گھٹا ہوا دم۔ کسی ہوئی بیلٹ میں پچکا ہوا پیٹ، غیر متناسب کمر اور کولہے۔ انسانی جسم ایسا بے ڈول تو نہ تھا عورتوں نے اپنے لباس میں کانٹ چھانٹ کی تو فحاشی کی مجرم ٹھہریں۔ مرد لباس میں گھسے تو آج تک کالر ٹائی سے گردن نہ چھڑا سکے لیکن اگر ہم ارشاد باری پر غور کریں تو اس چخ چخ کا خاتمہ بھی ہو جاتا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ

’’تم ایک دوسرے کا لباس ہو‘‘

نسخہ آسان ہے صاحب! لیکن ترکیب استعمال بہت احتیاط مانگتی ہے دل و نگاہ کی حرمت بھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زہرہ جبیں

تبصرہ کیجیے