چائے پانی

آج نہ جانے کیوں اسے اپنے آفس میں رونما ہونے والے ایک چھوٹے سے واقعہ کا منظر بار بار یاد آرہا تھا۔

آج جب کہ آفس اور کرسی کو چھوئے کئی برس گزر چکے تھے۔ اور وہ اب تو بستر علالت سے گزر کر لگ بھگ بستر مرگ تک پہنچ چکا تھا۔ مگر برسوں پہلے رونما ہونے والا ایک چھوٹا سا واقعہ اسے بار بار یاد آکر تڑپا رہا تھا۔ حالاں کہ اس کی مصروف ترین زندگی میں اور اس کے آفس میں کئی بڑے بڑے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ بڑے نازک حالات سے بھی وہ گزرا تھا۔ کرسی چھوڑنے تک کے بھی لالے پڑے تھے اسے۔ لوگوں سے کئی کئی بار نوک جھونک بھی ہوئی تھی۔ کئی بار اس نے فائلیں لوگوں کے منہ پر دے ماری تھیں اور اپنے آفیسرزکے ٹیبل پر بھی پٹخ دی تھیں۔

کرسی پر بیٹھ کر چمچوں، چاپلوسی کرنے والوں اور خدمت گزاروں کے علاوہ اس کا اکثر سابقہ کچھ پنگے باز اور نڈر قسم کے لوگوں سے بھی رہا۔ ایک بار تو ایک شخص نے اسے ’’اے! تو میرا کام کرتا ہے کہ نہیں۔‘‘ کہتے ہوئے فرش سے فٹ بھر اوپر اٹھا لیا تھا اور ایک بار تو اس سے بھی بڑا ہنگامہ ہوگیا تھا۔ جب اس کا کمرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا اور ایک آدمی اپنے کاغذات لیے اس کے آگے پیچھے پھر رہا تھا۔ مگر اس کا کہنا تھا کہ ’’میں سینئر کلرک ضرور ہوں مگر آفیسر نہیں ہوں اور اپنے آفیسر کو پوچھے بغیر آپ کا کام نہیں کرسکتا ہوں۔‘‘

آخر طے پایا کہ فون کے ذریعے آفیسر صاحب سے پوچھ لیا جائے اور جب وہ اپنے آفیسر سے فون پر بات کرنے لگا تو وہ آدمی ریسور کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بار بار کہنے لگا ’’مجھے دو۔ میری بات کرادو، میں اپنی بات خود کروں گا۔‘‘

مگر اس نے جھنجلا کر کہا ’’بھئی! میں اپنے آفیسر سے بات کر رہا ہوں، یوں بیچ میں مت بولو۔‘‘

بس اس کی اس بات پر آدمی کا پارہ چڑھ گیا۔ وہ اس پر ٹوٹ پڑا۔’’ تمہارا آفیسر تمہاری ملکیت نہیں ہے۔ وہ ہمارا بھی آفیسر ہے۔‘‘

وہ آدمی آستین چڑھا کر اس پر برس پڑا اور وہ دہائی دیتا رہ گیا۔ وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی اس کی مدد کو نہیں آسکا۔ ایک تو یہ کہ وہ اپنے کیبن کے اندر تھا اور پھر لوگوں میں ہی یہ سب کچھ ہوگیا تھا۔ تاہم یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس کا پلڑا بھاری رہا اور وہ اپنی کرسی پر ڈٹا رہا۔

مگر آج اسے ریٹائر ہوئے کرسی چھوڑے اور کرسی سے وابستہ اس طرح کے جھمیلوں سے آزاد ہوئے کئی سال گزر چکے تھے۔

وہ ایک دور تھا جو کب کا گزر چکا تھا۔ اب اس کی کرسی پر کوئی اور بابو بیٹھا تھا اس کے ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ایک نیا بابو آگیا تھا۔

کئی بار وہ اپنے کام کے سلسلے میں، اور سارے کام نبٹا لینے کے بعد بھی ایک آدھ بار اپنے اس آفس میں بڑی چاہت اور چاؤ سے گیا تھا جہاں سے وہ ریٹائر ہوا تھا اور اس کے ساتھی اسے الوداعی پارٹی دے کر اور ہار پہنا کر اس کے گھر تک چھوڑنے آئے تھے اور واپسی پر پھر سے بڑے اشتیاق سے بازوؤں میں بھربھر کر یوں گلے ملے تھے جیسے آخری بار مل رہے ہوں، جیسے کہ وہ ریٹائر نہ ہوا ہو بلکہ موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا ہو۔ ایک آدھ بار وہ اپنے انہی ساتھیوں سے ملنے اپنے آفس گیا تھا اس کا خیال تھا کہ لوگ اٹھ اٹھ کر اس کے گلے ملیں گے اور خیر خیریت پوچھیں گے۔ مگر وہاں تو ایک اجنبی پن دھر آیا تھا۔ حالاں کہ ریٹائر ہوئے اسے کچھ زیادہ وقت بھی نہ گزرا تھا۔ ہجوم پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔ شناسا بہت تھے۔ مگر اس سے کسی کو کئوئی غرض نہ تھی۔ کوئی سروکار نہ تھا۔ اس لیے سلام و کلام کی نوبت ہی نہ رہی تھی۔ آگے بڑھ بڑھ کر دو چار ساتھیوں سے اس نے زبردستی ہاتھ ملائے مگر ان کے یکبارگی کئی کئی فون اور موبائل بج رہے تھے اس کی کرسی پر بیٹھے بابو نے ہاتھ تو اس کی طرف بڑھایا مگر فون پر باتیں کسی اور سے کرتا اور سنتا رہا۔

اسے دھچکہ لگنے کی حد تک احساس تو ہوا تھا کہ کل تک وہ خود بھی تو ایسا ہی تھا۔ ’’چلو بھاگ نکلو یہاں سے۔ یہاں کوئی کسی کا شناسا نہیں ہے۔‘‘ خود سے کہتے ہوئے وہ گھر لوٹ آیا تھا۔

پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ چھوٹی چھوٹی جسمانی تکلیفوں اور بیماریوں میں گھرتا چلا گیا۔ کچھ ہی سالوں بعد اسے فالج ہوگیا۔ اب کہ مسائل ہی کچھ اور تھے۔ دفتری اور کاروباری زندگی اب بھول کر بھی کبھی یاد نہ آتی تھی۔ اب اس کے سامنے جسم وجان کی دنیا اور اس کے وسیع مسائل تھے۔ کبھی یہاں سے دور نکل گیا تو کبھی وہاں سے۔ کبھی سر درد ہوا ہے تو کبھی چھاتی جام ہوگئی ہے، کبھی یہ کھانے سے تکلیف تو کبھی وہ کھانے سے ہاضمہ خراب ہوا۔ کبھی کبھی تو اسے یوں لگتا کہ اس کا جسم ایک وسیع دنیا ہے۔ جس میں آئے دن طوفان برپا ہوتے ہیں۔ شورشیں سر اٹھاتی ہیں۔ وہ ایک کو دباتا ہے تو دوسری اس کے درپے ہوتی ہے۔

اب اس کی ساری دوڑ دھوپ ڈاکٹروں تک تھی۔ کون ڈاکٹر کیسا ہے؟ رحم دل ہے، سیانا ہے، چیک اب اچھی طرح سے کرتا ہے، فیس کم لیتا ہے، کمیشن کی خاطر دوائی ضرورت سے زیادہ نہیں لکھتا ہے، بار بار طرح طرح کے ٹسٹوں سے نہیں گزارتا ہے، کس دکان سے اصلی اور کس دکان سے نقلی دوائی ملتی ہے۔ کون ڈاکٹر بورڈ پہ لکھے ٹائم سے گھنٹہ بھر لیٹ ہوکر اپنے کلینک پہ مریضوں کی بھیڑ لگواتا ہے۔ یہ سب اسے پتہ تھا۔ نیز کون سی دوائی کب اور کیسے کھانی ہے۔ خوراک میں کیا کھانے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اورکیا کھانے سے شوگر بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ کس چیز سے کھانے میں مکمل پرہیز کرنا ہے۔ یہ سب اسے معلوم تھا۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے بستر علالت پہ تھا۔ اب کون اس کی عیادت کے لیے آیا، کون نہیں آیا، کون کتنی دیر کے لیے اس کے پاس بیٹھا، کس کس سے اس کو شکوہ و شکایت ہے، اسے یاد تھا۔

لیکن اب ’’کس کا کام کرنا ہے، کس سے کیا لینا ہے، کس کو کیا دینا ہے، کس کی فائل دبانی ہے، کس کی نکالنی ہے، اپنے کیا کیا کام نکلوانے ہیں، کس کے جوتے گھسوانے ہیں، کس کو کتنے چکر لگوانے ہیں، کس سے کتنے پیشگی اور کتنے بعد میں لینے ہیں، کون قابل اعتماد ہے، کون کتنا خطرناک ہے، رنگے ہاتھوں پکڑوا بھی سکتا ہے۔ یہ اور اسی قبیل کی گئی اور باتیں اب اسے بھول کر بھی یاد نہیں آتی تھیں۔ یہ ایک وقت تھا، یہ ایک دور تھا جو کب کا گزر چکا تھا۔ ایک سفر تھا جو وہ کب کا مکمل کرچکا تھا۔ اب تو وہ بستر علالت سے بھی گزر کر لگ بھگ بستر مرگ پہ آچکا تھا۔ اور گزرے دورکا ایک بھولے بسرے دور کا، ایک چھوٹا سا واقعہ اور اس کا منظر اس کی یاد سے محو نہیں ہو رہا تھا۔ جب وہ اپنے آفس میں اپنی کرسی پہ براجمان تھا اور ایک شخص جو پچھلے کئی دنوں سے اس کے دفتر کے چکر لگا رہا تھا آج بھی صبح سے سر اپا التجا بنا اس کے آس پاس منڈلا رہا تھا۔ اور پھر چائے پانی مانگنے پر پاس کے ٹی اسٹال سے جاکر چائے لے آیا تھا۔ اور اصرار کرنے لگا تھا کہ اب اس کا کام جلدی سے ہو جانا چاہیے۔۔۔ اور بس اسے غصہ آگیا تھا اور فائلیں پٹختے پٹختے اس نے اس کی لائی ہوئی چائے بھی پٹخ ڈالی تھی۔ محض اس لیے کہ وہ نادان شخص ’’چائے پانی‘‘ کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہا تھا اور اس کی مٹھی گرم کرنے کے بجائے چائے لے آیا تھا۔ اس شخص کو سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس نے کہا تھا ’’میں تو آپ کو چائے پا رہا تھا۔ مگر یاد رکھنا زندگی میں ایسا وقت بھی آجاتا ہے جب کوئی پانی کو بھی نہیں پوچھتا ہے۔‘‘

اور آج وہ وقت یقینا آچکا تھا، وہ سوچ رہا تھا۔۔۔

دو دن سے وہ اپنے چہیتوں کی باتیں سنتا آرہا تھا۔ اشارے کنائے سمجھتا آرہا تھا۔ ’’بابو جی ابھی اس حالت میں نہیں ہیں۔‘‘ ہاں! ابھی وہ وقت دور ہے۔ وہ کیفیت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ ’’مگر ابھی سے ہماری چھٹیاں ختم ہوگئی ہیں۔ پھر چالیسویں تک بھی تو گھر ہی بیٹھنا پڑے گا۔‘‘ گھر کے بچے تو روزانہ ہی اسکول جایا کرتے تھے اور آج اس کے بہو بیٹا بھی اپنی اپنی ڈیوٹی پہ چلے گئے تھے۔ وہ بستر پہ اکیلا پڑا تھا۔ اسے زوروں کی پیاس لگی تھی۔ زبان حلق تک سوکھ گئی تھی۔ مگر کوئی پانی پلانے والا نہیں تھا۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply