میں اناّ ہوں

لوگ جوق در جوق چلے جا رہے تھے۔ انہیں پانچ بجے رام لیلا میدان پہنچنا تھا کیوں کہ انا نے انہیں بلایا تھا۔ کئی لوگ بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے۔ ایمرجنسی کے بعد پہلی بار دہلی کی جنتا وقت کی پابندی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔

میں فٹ پاتھ پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں۔ سامنے ایک آدمی آٹو رکشا والے سے کہہ رہا تھا ’’بھائی بہت جلدی ہے۔ مجھے چار بجے چاندنی چوک پہنچنا ہے۔‘‘

’’صاحب آج اس سائیڈ بہت بھیڑ ہوگی۔ جانا ممکن نہیں۔‘‘

’’بھائی ارجنٹ ہے۔ ابھی راستہ کھلا ہوگا۔‘‘

’’ٹھیک ہے مگر دو سو لگیں گے۔‘‘

’’کیوں میٹر سے چلو۔ جتنا ہوگا دے دیں گے۔ ہوسکتا ہے تمہارے ساتھ ہی واپس رام لیلا میدان آجاؤں۔ چاندنی چوک میں مجھے صرف دس منٹ لگیں گے۔‘‘

’’نہیں صاحب، مجھے اس سائیڈ جانا ہی نہیں ہے۔ آپ کی مجبوری کو دیکھ کر راضی ہوگیا۔‘‘

میں نے بیچ میں مداخلت کی۔ ’’ارے صاحب مجھے بھی رام لیلا میدان جانا ہے۔ آپ ایک سو پچیس دے دیجیے اور میں پچہتّر دے دوں گا۔ اس کے دو سو برابر ہوں گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ دونوں صاحب بیٹھ جاؤ۔‘‘

جونہی ہم دونوں آٹو میں بیٹھ گئے، آٹو والے نے پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے میٹر ڈاؤن کرلیا۔

’’اس کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ میں نے پوچھ لیا۔

’’ارے صاحب کبھی کبھی پولیس چیک کرلیتی ہے۔ اس لیے کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔‘‘

’’چونکہ آج کل چاروں طرف کرپشن کی بحث چھڑی ہوئی ہے، اس لیے پورے راستے ہم آپس میں ہندوستان بنام رشوت پر بحث کرتے رہے۔

آٹو رکشا میں بیٹھا دوسرا مسافر کہنے لگا۔ ’’انا تو ہمارے لیے مسیحا بن کر آیا ہے۔ سچ مانئے تو دوسرے گاندھی نے اپنی پوتر دھرتی پر جنم لیا ہے۔ آج کے ہندوستان میں ایسے آدمی کی سخت ضرورت ہے۔ آج ہر ہندوستانی کو رام لیلا میدان پہنچنا چاہیے۔ مجھے چاندنی چوک میں کچھ ضروری کام ہے۔ تھوڑی دیر میں نبٹ جائے گا۔ پھر میں بھی پہنچ جاؤں گا۔‘‘

ڈرائیور مڑ کر دونوں سے مخاطب ہوا۔ ’’صاحب میں بھی جانے کا سوچ رہا ہوں۔ آج لگتا ہے ساری دلّی امڈ پڑے گی۔‘‘

’’ہاں بھئی ضرور جانا۔ کرپشن ختم کرنے کے لیے اس مہم میں لوگوں کی شرکت بہت اہم ہے۔‘‘ میرے لہجے میں تھوڑی بہت تلخی سی تھی۔

’’اگر ہاں آدھے گھنٹے انتظار کروگے تو میں بھی تمہارے ساتھ ہی آؤں گا؟ مگر واپسی میٹر سے ہوگی ۔۔۔ سمجھے!‘‘ دوسرے مسافر نے آٹو والے سے سوال کیا۔‘‘

رکشے والا اپنی ہنسی کو نہ روک سکا ’’ٹھیک ہے صاحب جیسے آپ کی مرضی۔‘‘

بات بات میں معلوم ہوا کہ میرا ہم سفر پاس ہی ایک اچھے پرائیویٹ اسکول میں میتھس ٹیچر ہے۔ میں کب سے بیٹے کی اس کمزوری پر فکر مند رہا ہوں کہ اس کو علم الحساب پر عبور نہیں ہے۔ انجینئرنگ میں داخلے کے لیے ضروری کہ طالب علم کو حساب کے مضمون میں اچھے نمبرات حاصل ہوں۔ اس لیے پوچھ بیٹھا۔ ’’بھائی صاحب! میں کب سے اپنے بیٹے کے لیے اچھے میتھس ٹیچر تلاش کر رہا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ بھگوان نے میری مراد پوری کردی۔ دراصل اب اسکول میں استاد بوں کو پڑھاتے ہی نہیں ہیں۔‘‘

’’ارے صاحب! کلاس میں اوسطاً ایک سو بچے ہوتے ہیں۔ یہ کہاں ممکن ہے کہ ہر طالب علم کی طرف دھیان دیا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ بچے کو کسی ٹیوشن کلاس میں بھیج دو۔ میرے یہاں ایک لڑکا حال ہی میں ٹیوشن کلاس چھوڑ کر گیا ہے اور اب انیس دن ہی رہ گئے ہیں۔ چاہیں تو کل سے بھیج دو۔‘‘

’’فیس کتنی ہوگی؟‘‘

’’ہم ایک سبجکٹ کا پانچ سو لیتے ہیں۔ اسٹوڈنٹ کی مرضی سے کتنے مضامین میں ٹیوشن لینا چاہیے۔‘‘

’’ٹھیک ہے میں کل اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہوجاؤں گا۔‘‘

رکشے والے نے مجھے رام لیلا میدان کے نزدیک اتار دیا اور وہ چاندنی چوک کی طرف روانہ ہوا۔ بات چیت کے دوران میرے ہم سفر نے مجھے بتایا کہ اسے کورٹ سے کچھ کاغذات کی نقل چاہیے تھی اور کورٹ کے احاطے میں ایک ٹائپسٹ نے جلدی سے نقل نکلوانے کا یقین دلوایا ہے۔ نقل بنوانے کی فیس تین سو روپے مقرر ہے جب کہ اس نے مزید سات سو روپے کا خرچہ طلب کیا، جس کی بندر بانٹ کا بیورا بھی اس نے دیا۔ اب وہی کاغذات لینے کے لیے ٹائپسٹ کے گھر چاندنی چوک جا رہا تھا۔ میں نے ابھی سوچا ہی تھا کہ اس سے پوچھوں کہ سات سو روپے بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن مجھے یاد آیا کہ ہفتہ بھر پہلے جب پاسپورٹ کی جانچ کی خاطر پولیس والا میرے گھر آیا تھا تو اس نے دو سو روپے لینے سے صاف انکار کیا تھا اور پورے پانچ سو روپے گن کر لیے تھے۔

رام لیلا میدان کے گیٹ کے باہر ٹوپیاں بک رہی تھیں، جن پر ’میں انا ہوں‘ لکھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے لیے ایک ٹوپی خرید لی۔ میرے ساتھ ایک اور آدمی کھڑا تھا۔ اس نے بھی ایک ٹوپی خرید لی۔ میری نظر جونہی اس پر پڑی میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔ وہ میرے ساتھ فوج میں ڈرائیور تھا اور میں نے کئی بار اسے گوہاٹی شیلانگ روڈ پر پٹرول بیچتے ہوئے دیکھا تھا۔ ہم دونوں نے مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا۔ اس نے اپنے سر پر ٹوپی پہن لی اور گیٹ کے اندر چلا گیا۔

اندر میدان سے لاؤڈ اسپیکروں پر کسی کی آواز زور زور سے سنائی دے رہی تھی۔

’’ہمیں ایک نئے بھارت کا نرمان کرنا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے ان لٹیروں سے ہمیں دیش کو بچانا ہے۔

اناّ کی یہ کرانتی آزادی کی دوسری لڑائی ہے اور ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمارا جن لوک پال بل پاس نہیں ہوتا۔‘‘

ایک جانب انا ٹوپی میرے ضمیر سے سوال پر سوال کیے جا رہی تھی اور دوسری جانب میرے قدم میدان کے اندر جانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔ دفعتاً کئی سارے چہرے میرے ذہن کے پردے پر نمودار ہوئے۔ آٹو رکشہ والا، اسکول ٹیچر، پولیس والا، کورٹ کا ٹائپسٹ، اور فوج کا ڈرائیور۔ سبھی کے سر پر انا ٹوپی لگی ہوئی تھی۔

پھر اسٹیج پر کوئی نعرے لگانے لگا اور لوگوں سے اونچی آواز میں جواب دینے کی التجا کرنے لگا۔

’’اناّ تم سنگھرش کرو ۔۔۔۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘

’’بھرشٹا چار مٹانا ہے ۔۔۔۔ بھارت کو سدرڑھ بنانا ہے۔‘‘

’’دیش کا دوسرا گاندھی کون؟۔۔۔۔ انا ہزارے، انا ہزارے۔‘‘

میری نظر لوگوں کے سروں پر سجی ٹوپیوں پر پڑی۔ ان پر لکھا تھا ’’میں اناّ ہوں۔۔۔۔ میں اناّ ہوں۔‘‘

دریں اثنا میں نے جیب سے انا ٹوپی نکالی اور اس کو اپنے سر پر پہننے کی کوشش کرنے لگا۔ دفعتاً میرے درون نے احتجاج کیا۔

’’ذرا اپنے ضمیر سے پوچھ کر تو دیکھو۔ کیا تم سچ مچ انا ہو۔‘‘

میں نے ٹوپی واپس اپنی جیب میں رکھ لی اور گھر کی طرف رخ کرلیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
دیپک بدکی

Leave a Reply