غیر معمولی بات

یخ بستہ سناٹے میں یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے ہر شے منجمد ہوگئی ہو۔

ٹھٹھری ہوئی اس کہر آلود صبح کو مجھے دفتر پہنچنے میں دس منٹ کی تاریخ ہوگئی۔ یہ کوئی نئی یا تعجب خیز بات نہ تھی۔ اکثر ایسا ہوجاتا ہے تعجب انگیز بات تویہ تھی کہ میرا ساتھی مسٹر شریف احمد بی، اے ابھی تک غیر حاضر تھا۔

وہ اس دفتر میں مجھ سے کئی سا قبل کا ملازم ہے۔ عمر پینتیس کے لگ بھگ ہوگی۔ نام کی موزونیت کے لحاظ سے انتہائی شریف اور پرخلوص انسان ہے۔ دفتری کام میں اس کو بڑی مہارت ہے۔ وقت کا سختی سے پابند اور بڑا ہی دیانت دار اور بااصول ہے۔ مگر جہاں سے ملازمت شروع کی تھی وہاں سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکا۔ کئی محکموں میں بہتر تنخواہ والی آسامیوں کے لیے درخواستیں دیں لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ آدمی ویسے ہوشیار ہے جلد ہی اپنی ناکامی کی وجہ اس کی سمجھ میں آگئی تو خاموش رہا۔

ویسے وہ ہے بھی کم گو۔ لیکن بوریت کی حد تک نہیں۔ البتہ ہنسی مذاق میں ذرا کم حصہ لیتا ہے۔ ہم لوگ آپس میں روپے جمع کر کے کبھی کبھار پک نک کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔ اس میں بھی شریک نہیں ہوتا کبھی طبیعت کی خرابی کو بہانہ بنا لیتا ہے تو کبھی کسی اشد ضروری کام کی آڑ لے لیتا ہے۔

ابھی چند ہی روز کی بات ہے ہم لوگوں نے طے کیا کہ دفتر کے سب ساتھی اکٹھے پکچر دیکھیں گے۔ چناں چہ اس سے بھی کہا گیا۔ سب کے اصرار پر وہ راضی تو ہوگیا لیکن وعدے کے مطابق شام کو نہیں پہنچا۔ بڑی کوفت ہوئی۔ دوسرے دن سوکھا سا منہ بنا کر کہنے لگا۔

’’بھئی معاف کرنا بچے کو اچانک شدید بخار ہوگیا تھا۔‘‘ بات ختم ہوگئی۔

کچھ عجیب ہی طبیعت پائی ہے۔

مجھے اس کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہی کوئی دو ڈھائی سال کا عرصہ ہوا ہوگا۔ اس دوران میں مجھے یاد نہیں پڑتا وہ کبھی دیر سے دفتر آیا ہو۔ رخصت لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ذرا طبیعت خراب ہونے پر بھی دفتر آجاتا ہے۔ پتہ نہیں اتوار کس طرح گزارتا ہوگا۔

بہرکیف مجھے جب معلوم ہوا کہ حضرت بیمار ہیں اور آج کی رخصت کی درخواست آئی ہے تو تعجب کی جگہ تشویش نے لے لی۔ حالت یقینا کچھ زیادہ ہی خراب ہوگی۔ خدا خیر کرے۔

سہ پہر کو دفتر سے فارغ ہوکر میں سیدھا اس کے گھر گیا۔ مطلع ابھی تک ابر آلود تھا اور سنسناتی ہواؤں میں برف گھلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ سخت سردی کے باعث دل تو یہی چاہ رہا تھا کہ فوراً گھر جاکر آرام سے لحاف میں لیٹا جائے۔ مگر اس کی مزاج پرسی بھی بہت ضروری تھی۔

دروازے پر دستک دی تو اس کا چھوٹا لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔ میں نے پہلے اس کی طبیعت کے بارے میں یہی معلوم کیا۔

’’ان کی طبیعت؟‘‘ لڑکا سوچنے کے سے انداز میں مخاطب ہوا۔

’’ہاں، آج دفتر جو نہیں گئے تھے۔‘‘

’’ان کی طبیعت۔۔۔ ان کی طبیعت تو ۔۔۔ ٹھیک ہی ہے۔‘‘

’’تو پھر آج دفتر کیوں نہیں گئے۔‘‘

’’معلوم نہیں۔ بلاکر لاتا ہوں۔‘‘

میں اور الجھن میں پڑ گیا۔

چند ہی منٹ بعد شریف کمبل اوڑھے میرے سامنے موجود تھا۔ کمبل میں کئی جگہ بڑے بڑے سوراخ تھے اور اب رواں اُتر جانے کے باعث ٹاٹ کی طرح معلوم ہو رہا تھا۔

مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا۔

’’میں کمرہ کھولتا ہوں۔۔۔ اندر آجائیے۔‘‘

سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جسے بوقت ضرورت وہ بطور بیٹھک استعمال کرلیتا ہے۔ میرا خیال ہے اگر اسے کوٹھری کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

میں اندر داخل ہوا تو اس نے ٹھنڈی ہوا کو روکنے کے لے دروازہ بند کردیا۔

پلنگ پر بیٹھ کر میں نے سگریٹ کے لگا تار کئی کش لگائے اور ادھ جلا ٹکڑا ایک کونے میں پھینک دیا۔

’’آج آپ کی چھٹی کی وجہ سے تشویش سی ہوگئی تھی۔ سوچا معلوم ہی کرتا چلوں، طبیعت تو ٹھیک ہے؟

’’ہاں۔۔۔ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘

’’اچھا‘‘ میں نے تعجب کا اظہار کیا۔

’’ہاں‘‘

میں نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا، جیسے مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا ہو۔

’’پھر تو یقینا کوئی غیر معمولی بات ہوگی ۔۔۔ ورنہ آپ اور چھٹی!؟ میں مسکرایا۔‘‘

’’نہیں یار یہ بات نہیں ہے۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔

ہوا کا ایک تند جھونکا زور سے آیا، اور بند کواڑوں کو بری طرح جھنجھوڑ کر آگے نکل گیا۔ میرے سارے جسم میں ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔

میں نے دوسرا سگریٹ سلگایا۔ اور چپ چاپ کش لگاتا رہا۔

چند منٹ تک وہ نہ جانے کیا سوچتا رہا۔

کل تو موسم بڑا خوش گوار تھا، آج صبح سے ہی ٹھنڈ بڑھ گئی ہے۔‘‘ اس نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔

’’ہاں، یوں لگتا ہے جیسے کولڈ ویوز آگئی ہوں۔‘‘ مجھے بھی جواب دینا پڑا۔

’’میرا خیال بھی یہی ہے‘‘ ضرور کہیں اولے پڑے ہیں۔‘‘ گاڑی آگے نہ چل سکی۔

وہ پھر کسی خیال میں گم ہوگیا۔ شاید سوچ رہا ہوگا اب کیا بات کی جائے، میں خود اس بے تکی گفتگو اور خاموشی سے بور ہو رہا تھا۔

تھوڑی دیر بعد آخر میں نے ہی سلسلہ کلام شروع کیا۔

’’کس سوچ میں پڑ گئے؟‘‘

’’کچھ بھی نہیں ۔۔۔ وہ چونک سا گیا۔‘‘

’’کوئی بات تو ضرور ہے۔۔۔ آپ چھپا رہے ہیں۔‘‘

’’نہیں یار ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔‘‘

اس بار میں نے بھی اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

مجھے چپ دیکھ کر وہ خود بخود ہی بول اٹھا۔

’’بات دراصل یہ ہے یار ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر نگاہیں نیچی کرلیں۔

’’وہ کیا؟‘‘

’’کوٹ‘‘

میری نظروں کے سامنے ایک دم اس کا کشمیرے کا میلا پرانا کوٹ آگیا، جس کا کثرت استعمال کے سبب رواں تک اُتر چکا تھا۔

’’چوری ہوگیا؟‘‘ میں ہنسا۔

’’نہیں یار!‘‘ وہ مسکرا دیا۔

’’پھر؟‘‘

ایک لمحے کے لیے اس نے کچھ سوچا۔

’’کل دفتر سے واپسی پر ڈرائی کلنینگ کے لیے دے آیا تھا۔ آج شام کا وعدہ ہے۔

’’تو پھر؟‘‘

’’پھر کیا ۔۔۔ میرا خیال تھا آج سوئیٹر پہن کر دفتر چلا جاؤں گا، لیکن صبح سے ٹھنڈ ہی غضب کی ہو رہی ہے۔ بس یہ بات تھی۔

’’واہ بھئی‘‘ میں ایک دم ہنس پڑا۔ ’’یہ بھی خوب لطیفہ رہا۔‘‘

وہ چپ چاپ بیٹھا رہا۔ گویا اس کا ذہن خالی ہو، اور وہ کوئی بات نہ کرنا چاہتا ہو۔ کمرے میں اب مکمل خاموشی تھی، جیسے طوفان گزرنے کے بعد سناٹا چھا جاتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
قیوم راہی

Leave a Reply