بدعنوانی

ملک کی حالت زار اور کرپشن

ایسا لگتا ہے کہ ہندوستانی عوام کرپشن کے عادی ہوگئے ہیں۔ اور اسے برا اور غلط بھی تصور نہیں کرتے۔ کرپشن کی جڑیں ہمارے ملک میں بہت قدیم اور گہری ہیں۔ ملک کا ہر شخص، ہر آفیسر اپنی استطاعت کے مطابق رشوت خوری میں نام پیدا کرتا ہے۔رشوت ستانی کو روکنے کے لیے بنائے گئے اینٹی کرپشن بیورو اور عوامی کمشنر خود کرپٹ ہیں۔ در اصل ہندوستانی نظام کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں کرپشن کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک ایک اندازہ کے مطابق تقریباً 910, 603, 234, 300, 000 کا کرپشن کیاگیا ہے۔ جو 20.23 Trillion usd کے برابر ہے۔

ہندوستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، جہاں غریبی، بھکمری، بے روز گاری اور بچہ مزدوری جیسے مسائل حکومت کے سامنے منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔ ملک کا ہر تیسرا شہری غریب ہے۔ سویش ٹینڈلکر کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 39% آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔ این، سی سکسینہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 50 فیصد آبادی ہر ماہ 350/- روپے سے بھی کم کماتی ہے۔ تغذیہ کی کمی سے ہر دن 30 ہزار بچے مرتے ہیں۔ غریبی اور بھکمری سے بچنے کے لیے ملک کے 50 فیصد سے زائد معصوم بچے، بچہ مزدوری میں اپنے بچپن کو تار تار کر رہے ہیں۔ملک کے متعدد مقامات پر غریبی سے پریشان کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ ملک میں مہنگائی ایک بڑا اور مسلسل مسئلہ ہے۔ اس کی اصل وجوہ میں سے ملک کی بگڑتی معاشی صورتِ حال اور بڑھتا غیر ملکی قرض ہے۔ ہر نومولود بچہ پر پچیس ہزار قرض ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستانی بجٹ کا ۲۰ فیصد سے زائد حصہ قرض کی قسطوں میں خرچ ہوتا ہے۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قیمت مسلسل گر رہی ہے۔ ایک جانب ملک کی یہ دگرگوں صورت حال ہے دوسری طرف ملک کے اربابِ اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، اس پر مستزاد یہ کہ وہ مل کر ہمیشہ سے کرپشن اور گھوٹالے کرتے رہے اور اس کے ذریعے ملک کو کھوکھلا کرتے رہے ہیں۔ بلکہ اگر جائزہ لیا جائے تو مندرجہ بالا صورت حال کی ایک بڑی وجہ یہی کرپشن اور گھوٹالے ہیں۔

مابعد آزادی گھوٹالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، جس میں بوفورس، چارہ گھوٹالہ، حوالہ اسکیمیں، اسٹمپ پیپر گھوٹالہ، ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ، کومن ویلتھ گیمس، آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی ڈی ایل ایف لینڈ اسکیم، کوئلہ گھوٹالہ، ہرشد مہتا اسکیمیں وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے ہندوستانی میڈیا میں بڑا نام کمایا۔ کیا اس کے لیے کوئی بڑا اور سخت قانون ہے جس کے ذریعہ رشوت خوری کو ختم کیا جاسکے۔ ان گھوٹالوں میں شاذ و نادر ہی کسی کو سزا ہوئی ہے۔ اس لعنت میں سبھی سیاسی پارٹیاں ملوث ہے۔ کرپشن کے ذریعہ ملک کو لوٹنا وہ واحد ایجنڈہ ہے جس پر تمام پارٹیاں متحد ہیں۔ گھوٹالوں کی کالی کمائی کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی نظروں سے بچانے کے لیے اسے سویس بینکوں میں رکھا جاتا ہے۔ سویس بینک کے ڈائرکٹر نے وکی لیکس کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ہندوستان غریب ضرور ہیں مگر ہندوستانی غریب ملک نہیں ہے کیوں کہ سویس بینکوں میں ہندوستانیوں کے ۲۸۰ لاکھ کروڑ روپے جمع ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ سویس بینکوں میں موجود یہ رقم ۶۰ کروڑ روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور ۵۰۰ سماجی پروجیکٹوں کو مفت توانائی مہیا کرانے کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔ ملک کے ہر شہری کو ہر مہینہ ۲۰۰۰ روپے دیے جائیں تو یہ رقم ۶۰ سال تک چلے گی۔ اور غیر ملکی قرض کی ملک کو کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ سویس بینکوں کی یہ خطیر رقم ہندوستان لوٹائی جائے تو ہم ملک کے قرضوں سے ۲۴ گھنٹوں میں نجات پاسکتے ہیں۔ WB اور IMFکا دباؤ اور غلامی بھی ختم ہوسکتی ہے جو ہماری خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

کرپشن کے مسئلہ پر پچھلے دنوں ایک زبردست عوامی مہم چلی لیکن وہ بھی نجی مفادات کی نظر ہوگئی۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا صرف ایک ہی علاج ہے وہ ہے خوف خدا اور خوف آخرت ۔ تاریخ شاہد ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی ا للہ عنہ سے لے کر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ اور اورنگ زیب عالمگیر سے لے کر مولانا ابو الکلام آزاد تک خوف خدا اور خوفِ آخرت میں ڈوبی کئی حکمرانوں کی زندہ و جاوید ہستیاں موجود ہے۔ اسی خوف نے انہیں قوم کا خادم بنائے رکھا۔ حضرت عمرؓ تو کہتے تھے کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک بکری بھی بھوک اور پیاس سے مر جائے توعمرؓ سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ یہی احساسِ جواب دہی کا نمونہ ہمیں اربابِ اقتدار کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عدنان الحق خان

Leave a Reply