بدگمانی

کسی دوسرے فرد کے بارے میں بلا وجہ شک و شبہ میں مبتلا ہونا، اس کے کسی فعل اور کام پر غلط قیاس کرنا، اس کے بارے میں جھوٹا، وہم و وسوسہ رکھنا اور صرف برے پہلو ہی کو ذہن میں لانا ’بدگمانی‘ کہلاتا ہے۔ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں: ’’بدگمانی ایک قسم کا جھوٹا وہم ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو ہر ایک کے کام میں بدنیتی معلوم ہوتی ہے اور کسی کے کام میں اْس کو حسنِ نیت نظر نہیں آتا، دوسروں کی طرف اَن ہوئی باتیں منسوب کرنے لگتا ہے۔‘‘ (سیرۃ النبیؐ ج ششم)

بدگمانی بظاہر کوئی بڑی برائی نظر نہیں آتی مگر افراد کے باہم تعلقات اور معاشرتی رشتوں پر ایڈز کے وائرس کی طرح حملہ آور ہوتی ہے۔ معاشرتی اخوت اور بھائی چارے پر اس قدر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ ایک عام انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ بدگمانی جھگڑوں کا باعث بننے اور تعلقات خراب کرنے کے ساتھ ساتھ بدگمانی رکھنے والے افراد میں چڑچڑا پن، ذہنی تنائو اور کئی دوسری بیماریاں بھی پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگوں کے لیے تو یہ دل کا روگ بن جاتی ہیں۔ اپنے گرد و نواح میں ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات معمولی سی بدگمانی برسوں کی دوستی ہی کو لمحوں میں ختم نہیں کردیتی بلکہ نوبت جھگڑے اور قتل تک پہنچا دیتی ہے۔ میاں بیوی میں لڑائی جھگڑوں اور تعلقات میں انقطاع وغیرہ کے اکثر واقعات میں بدگمانی ہی کا عمل دخل ہوتا ہے۔ خاوند اگر بیوی پر کسی قسم کے غصے کا اظہار کرتا ہے تو اکثر و بیشتر وہ یہی سوچے گی کہ یہ ساس یا نند کے کان بھرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ماں کے سامنے کوئی غلط بات منہ سے نکل جائے گی تو وہ اس کی وجہ اپنی بہو کو قرار دے گی۔ اگر کسی کا خاوند اپنی کسی کزن یا ہمسائی سے ہنس کر بات کرلے تو شکی مزاج بیویاں اسی کو بتنگڑ بناکر ایک بڑا جھگڑا پیدا کرلیں گی۔ ہمارے گرد و نواح میں بدگمانی کے زہریلے ثمرات کی سیکڑوں مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ اس نے بڑے بڑے گھروں اور پْرخلوص محبت بھرے رشتوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بدگمانی سے پاک صاف گھرانا ہی پْرسکون اور خوشیوں سے بھرپور گھرانا ہوتا ہے۔ سید قطبؒ لکھتے ہیں:

’’مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان ہی رکھنا چاہیے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات سے دلوں کو صاف رکھنا چاہیے۔ جس سوسائٹی میں ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات نہ ہوں اس میں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوتے ہیں، کوئی کسی پر شک نہیں کرتا، ہر شخص دوسرے سے مطمئن ہوتا ہے اور ایسے معاشرے میں زندگی کس قدر خوشی سے گزرتی ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

بدگمانی کے بارے میں رب کائنات نے مسلمانوں سے فرمایا:

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘ (الحجرات:12)

مولانا مودودی? لکھتے ہیں:

’’گمان جو درحقیقت گناہ ہے، یہ ہے کہ آدمی کسی شخص سے بلاسبب بدگمانی کرے، یا دوسرے کے متعلق رائے قائم کرنے میں ہمیشہ بدگمانی ہی سے ابتدا کرے، یا ایسے لوگوں کے بارے میں بدظنی سے کام لے، جن کا حال بظاہر یہ بتا رہا ہو کہ وہ نیک اور شریف ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی گناہ ہے کہ ایک شخص کے کسی قول و فعل میں برائی اور بھلائی کا یکساں احتمال ہو اور ہم محض سوئے ظن سے کام لے کر اْس کو برائی ہی پر محمول کریں، مثلاً کوئی بھلا آدمی کسی محفل سے اٹھتے ہوئے اپنے جوتے کے بجائے کسی اور کا جوتا اٹھا لے اور ہم یہ رائے قائم کرلیں کہ ضرور اس نے جوتا چرانے ہی کی نیت سے یہ حرکت کی ہے، حالانکہ یہ فعل بھولے سے بھی ہوسکتا ہے اور اچھے احتمال کو چھوڑ کر برے احتمال کو اختیار کرنے کی کوئی وجہ بدگمانی کے سوا نہیں ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن پنجم)

بدگمانی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین بھی ملاحظہ فرمائیں:

’’٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ (بخاری)

٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کے متعلق تمہیں برا گمان ہو جائے تو اْس کی تحقیق نہ کرو۔ (احکام القرآن للجصاص)

٭حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک گمان رکھنا عباداتِ حسنہ میں سے ہے۔ (ابودائود)

٭حضرت ابوہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت عیسیٰ نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے کہا کہ تم نے چوری کی ہے۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کی قسم میں نے چوری نہیں کی۔ اس پر حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنے آپ کو جھٹلاتا ہوں۔ (مسلم)

٭فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: اللہ تعالیٰ نے مومن کے بارے میں مومن پر اْس کے خون، مال و دولت اور عزت وآبرو پر حملہ کو حرام ٹھیرایا ہے اور اس کو بھی ناجائز قرار دیا ہے کہ اس کے متعلق بدگمانی کی جائے۔ (بحوالہ تعلیماتِ غزالی)‘‘

اگر کسی کام یا بات سے بدگمانی پیدا ہونے کا احتمال ہو تو اسے دور کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہیے، اس کی مثال ہمیں سیرتِ سرور ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ملتی ہے۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ازواج مطہرات میں سے ایک کے ساتھ جارہے تھے کہ اتفاقاً راستے میں دو انصاری ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دی اور فرمایا: یہ میری فلاں بیوی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ہمیں کسی کے ساتھ بدگمانی کرنی بھی ہوتی تو کیا آپ کے ساتھ کرتے؟ ارشاد ہوا: ’’شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم بحوالہ سیرت النبیؐ)

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ عبد الجلیل