BOOST

عورت اور مرد

سوال ہوا کہ ۔۔۔۔۔ یا رسول اللہؐ! کیا آپ مردوں اور عورتوں کی طرف نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے؟ ارشاد نبوی ہوا ۔۔۔۔ ہاں!

عرض کیا گیا۔۔۔۔۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے عورتوں کی طرف سے نمائندہ بناکر بھیجا گیا ہے تاکہ عورتوں کی طرف سے کچھ گزارشات میں آپ کی خدمت میں پیش کروں۔

یہ کہنے والی تھیں حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ۔ انھیں بولنے کا خوب ملکہ تھا اور بڑے دل نشیں انداز میں اپنی بات سمجھاتی تھیں۔

ظہر کی نماز سے پہلے کچھ وقت اللہ کے رسول نے ایسا رکھا تھا کہ صحابیات اگر مسائل سمجھنے کے لیے آنا چاہتیں تو حاضرِ خدمت ہوجاتی تھیں۔ اس موقعے پر امہات المونین میں سے بھی کوئی نہ کوئی موجود رہتی تھیں۔

اسماء بنت یزید انصاریہ نے اجازت ملنے پر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! عورتوں کو مردوں کے برابر ثواب کمانے کے مواقع نہیں ہیں۔ پوچھا گیا کہ ۔۔۔۔ـ کون سے مواقع ہیں جن کے نہ ملنے کا تمہیں افسوس ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ۔۔۔۔ یا رسول اللہ! مردوں کے لیے جمعہ ہے۔ پانچ وقت کی باجماعت نماز ہے۔ عیدین کی نمازیں ہیں۔

عورتوں کو باجماعت نماز کے لیے مسجد میں جانے کی اجازت تو ہے لیکن حکم ہے کہ وہ سب سے آخری صف میں کھڑی ہوں اور نماز ختم ہوتے ہی نکل جائیں۔

اسماء بنت یزید انصاریہ نے نمازوں کا ذکر کرنے کے بعد کہا ’’یا رسول اللہ! کوئی مسلمان مرجائے تو ہم جنازے کو کندھا نہیں دے سکتیں دفن میں شریک نہیں ہوسکتیں۔ حتی کہ بیمار کی عیادت کا حکم بھی مردوں ہی کے لیے ہے۔ ہم چلی جائیں یہ اور بات ہے۔ مردوں کو یہ آسانی ہے کہ حج کے لیے تنہا چلے جائیں۔ لیکن ہم بغیر محرم کے نہیں جاسکتیں۔

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماء بنت یزید کی یہ باتیں خاموشی سے سنتے رہے۔ چہرے پر مسکراہٹ کھیلتی رہی۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان گزارشات کو سن کر اور ثواب کے لیے انھیں حریص دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو رہے تھے۔ سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے آخر میں حضرت اسماء نے کہا ’’یا رسول اللہ! سب سے بڑھ کر ثواب کا موقع مردوں کو یہ حاصل ہے کہ وہ جہاد میں شریک ہوسکتے ہیں ہم ہتھیار باندھ کر میدانِ جنگ میں نہیں جاسکتیں۔‘‘

عہد نبوی میں خواتین لشکر اسلامی کے ساتھ ہوتی تھیں۔ ان کی جماعت کھانا پکارتی، زخمیوں کو پانی پلاتی اور مرہم پٹی کرتی تھی ۔ احد کی لڑائی میں ام المومنین حضرت عائشہؓ، حضرت ام سلیم، حضرت ام عمارہ، حضرت حمنہ بنت جحش، حضرت ام حرام وغیرہ شریک تھیں۔ جہاد کے موقع پر سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومنین میں سے کسی نہ کسی کو ساتھ رکھتے تھے۔ احد اور جنگ یرموک میں تو عورتیں میدانِ جنگ میں بھی نکل گئی تھیں مگر یہ ایک خاص موقع تھا کہ ام عمارہ اور خولہ بنت ازور نے پیکار میں حصہ لیا۔

جب اسماء بنت یزید انصاریہ یہ بات ختم کرچکیں تو نبی اکرمﷺ نے حاضرین سے پوچھا ۔۔۔۔ تم نے دین کے بارے میں ان سے بہتر سوال کرتے کسی کو سنا ہے؟ پھر بڑی مسرت سے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا مطلب ہے کہ ’’عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا با جماعت نماز کا ثواب رکھتا ہے۔ گھر ہی میں انھیں جمعہ کی سیادت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ عورتوں کے لیے عید کی نماز معاف کردی گئی۔ جو عورت اپنے گھریلو ماحول کو خوش گوار رکھے، اپنے شوہر کی اطاعت گزار ہو اور بچوں کی نگہبانی اور تربیت کرے اسے گھر بیٹھے جہاد اور حج کا ثواب ملتا ہے۔ جو خود جہاد میں شریک نہ ہوسکے لیکن جہاد کا ساز و سامان مہیا کرے، مجاہدوں کی مدد کرے یا ان کے غیاب میں ان کے گھر والوں کی دیکھ بھال کرے اسے بھی جہاد کا ثواب ملتا ہے۔ عورت اگر مجاہد کی ماں، بہن یا بیوی ہے تو وہ جہاد کے ثواب کی اور زیادہ حق دار ہے۔ حضرت انس بن مالک کی روایت بخاری میں ہے ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’عورتوں کا جہاد حج ہے! اعتکاف کے لیے حکم ہے کہ عورتیں گھر ہی کے ایک حصے میں اعتکاف کرلیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گھر بیٹھے عورتوں کو مردوں کے برابر ثواب عطا فرماتا ہے۔ جنازے کو کندھا دینا عورتوں کے بس میں نہیں، عورت کے لیے ستر کی بڑی اہمیت ہے اور پردے کے احکام اس کام سے مانع آتے ہیں۔بوجھ اٹھانا بھی اس کے لیے مشکل ہے اور کندھا دینے والوں کے ہجوم میں عورتوں کی غیر مردوں سے دھکم پیل بھی نامناسب ہے۔ ان کے علاوہ جذبات غم پر قابو رکھنے کا مسئلہ بھی ہے۔ خوف اور ڈر کے بھی امکانات ہیں اسی لیے قبرستان جانے سے بھی عورتوں کو منع کیا گیا ہے۔ عورتوں اور مردوں کے جسم اور مزاج میں جو فرق ہے اسلام نے اسی کے مطابق ان کے حقوق اور فرائض مقرر کیے ہیں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر معاملہ میں عورت و مرد برابر ہیں یہ اس دور کی نفسیاتی الجھنوں میں سے ایک الجھن ہے۔ عورت کو قانونی شخصیت اسلام نے بنایا اور اسے وہ حقوق دیے جو کبھی حاصل نہ تھے۔ کلدانی تہذیب، یونانی فلسفے، زرتشتی اذکار، ہندو دھرم اور کلیسائی نظریات میں عورت تقدس کی حامل نہیں ہے۔ اسلام نے اس کے قدموں کو جنت کی بلندی عطا کی ہے۔ عورت صرف مرد کی شریک حیات نہیں بلکہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ وہ شوہر کے گھر اور بچوں کی نگراں کار بھی ہے ان کی تعلیم اور کردار سازی میں بڑا حصہ اسی کاہے۔ وہ دست کاری اور کاروبار میں شرکت کرسکتی ہے لیکن ہوس کی خاطر نہیں۔ شوہر کی اطاعت عورت کا اولین فریضہ ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اسے بد زبانی اور ناشکری سے روکا ہے۔ شوہر کے مال پر اسے پورا تصرف حاصل ہے لیکن تصرفِ بیجا کی اجازت نہیں۔ مرد پر اپنی شریکِ حیات کا احترام لازمی ہے۔ اپنی استطاعت کے مطابق اُسے ہر آسائش فراہم کرنا مرد پر واجب ہے۔ عورت مرد کی وزیر، مشیر اور سفیر ہوتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شاہ بلیغ الدین

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: