مخلوق بغیر خالق (سائنسی تحقیقات کرنے والوں کا غیر سائنسی رویہ)

آج سائنسی نقطہ نگاہ کے انسان کی بد نصیبی دیکھئے کہ وہ اتنی بہت ساری معلومات کے باوجود جو مسلسل تجربات سے پرکھ بھی لی گئی ہیں ، اس سے حاصل ہونے والے صاف صاف اور واضح نتائج کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ خود بہت سارے علوم سے واقف ہونے کے باوجود اپنی ہی قائم کی ہوئی ایک بنیادی فکر کا غلام ہے، اس نے ایک یک رنگی عینک پہن رکھی ہے،یہ اس کو ہر چیز کا وہی رنگ دکھاتی ہے جواِس عینک کا رنگ ہے۔

اسٹیفن ہاکینگ برطانیہ کے ایک سائنسدان ہیں جنہوں نے اپنی کتاب کا نام ہی عظیم منصوبہ (The Grand Design) رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ کائنات پہلے سے بنائے ہوئے منصوبے کے بغیربننا ہی نہیں شروع ہو سکتی تھی، پھر کچھ طبعی قوانین (Physical Laws ) تھے جن کی بنیاد پر یہ کائنات آپ سے آپ اور اتفاقیہ یا حادثاتی طور پرعظیم دھماکہ سے بننا شروع ہو گئی۔‘‘

حیرت انگیز! پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’عظیم دھماکے سے پہلے کچھ بھی نہ تھا، نہ توانائی ،نہ مادّہ نہ ہی کوئی دھماکہ کر نے والا،‘‘ یعنی کہ کہتے ہیں اس دھماکے کے لیے نہ بارود تھا، نہ دیا سلائی، نہ بارود کو دیا سلائی دکھانے والا، بس دھماکا ہوگیا،اور وہ اس کام کے لیے ’’کسی خالق(God)کی ضرورت محسوس نہیں کرتے‘‘ (Grand Design) تو موجود تھا مگر کوئی (Grand Designer)نہیںتھا،طبعی قوانین تو تھے مگر اس کا کوئی بنانے اورچلانے والا نہیں تھا، قوانین حرکت میں تھے حرکت دینے والا کوئی نہ تھا‘‘،کیا یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز، غیر علمی ، غیر منطقی اور غیر سائنسی بات نہیں ہے؟

یہ رویّہ غیر علمی و غیر سائنسی ہے کیونکہ بڑے بڑے سائنسدانوں نے انسانی علم ’سائنس ‘کی یہی تعریف کی ہے کہ چاہے مشاہدات ہوں یا تجربات یا ان کی بنیاد پر بنائے گئے اصول و قوانین ہوں سب قیاس اور مفروضوں کی بنیاد پر انسان کے بنائے ہوئے ہیں،اس لیے ان کی بنیاد پرکوئی حتمی و یقینی بات نہیں کی جا سکتی ہے۔

سائنس نہ کسی بات کی تصدیق (Verify) ہی کر سکتی ہے نہ تکذیب(Falsify)۔ انسانی علم (سائنس) صرف ممکنہ ٹھوس حقائق (Probable Truth) کی بات کر سکتا ہے ،مسلّمہ ٹھوس حقائق بتانااس کے بس میں ہر گز نہیںہے۔اس لیے آپ کسی بھی اِحتمال کو سائنسی بنیاد پرنہ مکمل طور پر قبول کرسکتے ہیں نہ رَد اگر آپ حتمی طور پریہ کہیں کہ ’’یہ کائنات کسی کے بنائے بغیر خود بخود بن گئی ہے‘‘ تو یہ ایک انتہائی غیر سائنسی رویّہ کہلائے گا۔

ان کی بد نصیبی اور بد بختی پر توجہ کیجئے کہ یہ لوگ جو بہت محنت کر رہے ہیں، بہت وقت بلکہ پوری پوری زندگیاں کھپا رہے ہیں، بڑا مال اور صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں، اس معاملے میںان کی تعریف میں بخل نہیںکیا جا سکتا۔ ان کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا،وہ انسان کے بنیادی سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہیں، ہر قسم کے’انسانی علم ‘کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں، زمین کی ایک ایک پرت میں تلاش کر رہے ہیں، ہر مادّے میں، ہر جاندار میں، چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں۔ انھوں نے اربوں کھربوں گنابڑی کر کے دکھا نے والی خْردبینیں ایجاد کیں، تاکہ جوہر(Atom)کے اندراورزندہ حیاتیاتی خْلیہ(Living Cell) کے اندرتک دیکھ سکیں ، دنیا کا چپہ چپہ ہی کیااس سوال کے جواب کی تلاش میں آسمانوں اور خلائوں کو نہیں چھوڑا،نہ محنت میں کوئی کسر ہے،نہ سرمایہ خرچ کرنے میں کنجوسی، مصنوعی سیارے تک خلا میں بھیج بھیج کر معلومات جمع کر رہے ہیں۔

مگراصل سوال کیا ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ سرگرداں ہیں؟ سوال وہی ہے کہ یہ ساری کائنات اور ہم انسان کب ،کہاںاورکیسے وجود میں آئے؟ہماری ابتداء کیسے ہوئی؟ مگرایک اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم کیوںکس مقصد اور کس کام کے لیے تخلیق کیے گئے؟ ہمارا اس کائنات میں کیا کردار ہے؟کیا ہم پہلی اورآخری مرتبہ پیدا ہوئے ہیں؟کیا ہم مر کر ہمیشہ کیلئے مٹی میں مل جائیں گے؟کیا ہم کو ایک نئی زندگی دوبارہ عطا کی جائے گی؟

مگر افسوس صدافسوس کہ ان کی ساری محنتیں اور کوششیں اکارت جارہی ہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنی تحقیقات کی بنیاد ہی غلط ڈالتے ہیں، ان کا رویّہ ذرا بھی انصاف پر مبنی نہیں ہے ، ان کی فکر (Approach) انتہائی غیر علمی ، غیر سائنسی، غیر منطقی اور غیر عقلی (Irrational) ہے۔ اگر کسی بات کا کھوج لگانے والاپہلے ہی یہ طے کر لے کہ اس کی مرضی کا نتیجہ آئے گا تو وہ قبول کرے گا، اس کے خلاف آئے گا تورَد کر دے گا۔پہلے سے قائم کیے ہوئے گمان کو یقین پر ترجیح دے گا تواس کو اپنی تحقیق میں بھی وہی کچھ نظر آئے گاجو اس کا گمان ہو گا، وہ اپنی محنت سے حاصل کیے ہوئے صحیح نتائج کو بھی رَد کر دے گا اور اپنے علم کے مْردہ خانے میں جمع کر دے گا،اگر کوئی شخص ایک رنگ کی عینک لگا کر دنیا کو دیکھے گا تو اس کو ہر چیز کا وہی رنگ نظر آئے گا جو عینک کے شیشوں کا رنگ ہوگا،کوئی دوسرا رنگ وہ کیسے دیکھ سکے گا؟

یہ محنت کرنے والے پوری دنیا کی جامعات میں ہر مضمون کے ’انسانی علوم‘ میں ڈاکٹریٹ کرنے اور کرانے والوں کی ننانوے اعشاریہ نو (99.9) فی صد اکثریت نے یہ فرض بلکہ یقین کر رکھا ہے کہ یہ کائنات، یہ زمین، یہ حیات اورہم انسان اپنے آپ از خود، اتفاقیہ، حادثاتی طور پر وجود میں آگئے ہیں،دوسرے کسی اِمکان و اِحتمال پر غورہی نہیں کرنا چاہتے، چاہے وہ کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو۔

یہ سب آپ سے آپ از خود، اتفاقیہ اورحادثاتی طور پر بن جانے کا اِحتمال چاہے کتنا ہی کم کیوں نہ ہو، یہ لوگ اس کے علاوہ دوسری بات پر غورکرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں،جو اِمکانات اور اِحتمالات نظرآرہے ہیں ان پر غور و فکر کرنے کو غیر علمی، غیر سائنسی اور غیر عقلی بات سمجھتے ہیں، وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ان ساری موجودات کااس سے باہر کوئی مافوق الفطرت خالق (Creator)بھی ہے یا ہو سکتا ہے۔

کوئی ایسا کام ہونا چاہیے جو ان کی آنکھیں کھلوا سکے، ان کو انصاف پر مبنی غیر جانبدار اورحقیقی و عقلی (Rational) رویہ کی طرف بلائے،ان کو اصل علمی،عقلی اور سائنسی طریقہ کی طرف مائل کرے اور پھر ان کے قلوب میں اپنے اور ان کے خالق (Creator)کی جگہ بنائے۔

میں یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ ان کو مجبور کیا جائے کہ خالق کو مانیں،میںتو صرف یہ خواہش رکھتا ہوں کہ یہ لوگ اپنی تحقیقات مکمل غیر جانبداری سے اپنے ہی بڑے بڑے سائنسدانوں کی بتائی ہوئی ’سائنس‘ کی اصل تعریف کے مطابق خالص (Pure) عِلمی انداز میں کریں، صاف اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ ہر اِمکان (Possibility) اور اِحتمال (Probability) کو انصاف کے ساتھ حق کے مطابق برابر کی اہمیت دیں اوراپنے نتائج کو اپنے پہلے سے قائم کیے ہوئے گمان (Presumptions) سے آزادکرکے غور کرنے کے بعد نظریہ قائم کریں۔ جوکسی سائنسی اصول کے ہی تحت ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
محبوب عالم آروی (ریسرچ اسکالر شعبہ فزکس)

Leave a Reply