مصر

مصر کے خلاف عالمی سازش

صدر مرسی کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ مظاہرے شروع ہوئے تو مصر کے سیکولر اور لبرل عناصر فوج کے پشت پناہ اور اس کا دست و بازو بن کر کھڑے ہوگئے۔ ان کا خیال تھاکہ صدر مرسی کے جاتے ہی فوج ملک میں جمہوریت کی ایسی گنگا بہادے گی جو صرف سیکولر اور لبرل عناصر کے لیے وقف ہوگی۔ چنانچہ جب جنرل عبد الفتاح السیسی نے صدر مرسی کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تو یہ مصر کی تاریخ کا ایک نازک مرحلہ تھا۔ صدر مرسی فوج کے دبائو میں آجاتے اور ازخود مستعفی ہو جاتے تو فوج مصر کو ’’بچانے‘‘ والی قوت بن کر ابھرتی اور اس کی جمہوریت پسندی کا بھی شہرہ ہوجاتا۔ مگر صدر مرسی نے فوج کی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک ہفتے میں فوج کا گھنائونا چہرہ سامنے آگیا اور سیکولر اور لبرل عناصر کی جمہوریت پسندی کا بھانڈا بیچ چوراہے پر پھوٹ گیا۔ چنانچہ اب سیکولر اور لبرل عناصر کا ایک چھوٹا سا حلقہ یہ کہتا نظر آرہا ہے کہ فوج ملک کو دوبارہ حسنی مبارک کے زمانے میں لے گئی ہے۔

مسلم دنیا میں امریکہ اور یورپ کی جمہوریت پسندی کا معاملہ راز نہیں۔ امریکہ اور یورپ جمہوریت کو اپنی ایک بہت بڑی قدر کہتے ہیں، مگر مسلم دنیا میں اس قدر سے ان کی وابستگی مشروط ہوتی ہے۔ مسلم دنیا میں اگر سیکولر اور لبرل عناصر جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں آئیں تو امریکہ اور یورپ ان کی تائید کرتے ہیں، لیکن اگر اسلام پسند جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں آجائیں تو امریکہ اور یورپ کا منہ کڑوا ہوجاتا ہے۔ لیکن مصر میں امریکہ اور یورپ کا دوغلا پن جس طرح آشکار ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ کا واضح مؤقف ہے کہ اگر کسی ملک میں فوج اقتدار پر قبضہ کرے گی تو اس کے لیے امریکہ کی امداد معطل ہوجائے گی۔ مگر مصر میں اقتدار پر قبضے کو امریکہ نے ’’فوجی بغاوت‘‘ تک قرار نہ دیا۔ چونکہ امریکہ مصر میں جمہوریت سے بے نیاز رہا اس لیے یورپ کو بھی جمہوریت کی پامالی کا بخار نہ چڑھ سکا۔ اس صورت حال سے پوری مسلم دنیا بالخصوص عالم عرب اور مصر میں امریکہ کے خلاف نیا اور شدید ردعمل پیدا ہوا۔ یہاں تک کہ امریکہ کے معروف سینیٹر جان مک کین نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا کہ ہم جمہوریت کو اپنا مفاد کہتے ضرور ہیں مگر ہم نے مصر میں اس مفاد کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ چنانچہ ہم پوری مسلم دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر بے اعتبار ہوئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کہتے ہیں کہ ان کا مسئلہ القاعدہ اور طالبان کی انتہا پسندی ہے، اسلام نہیں… لیکن مصر کی صورت حال نے ثابت کیا کہ ان کے لیے القاعدہ اور طالبان کیا، اخوان المسلمون کو قبول کرنا بھی دشوار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مصر میں فوج نے صرف صدر مرسی کو اقتدار سے نہیں ہٹایا، اس نے ایک ماہ میں ہزاروں ہزار افراد کو قتل کرڈالا ہے اور دسیوں ہزار افراد اس کے تشدد سے زخمی ہوگئے ہیں، لیکن امریکہ اور یورپ کا طرزعمل ایسا ہے جیسے مصر میں سب کچھ ’’معمول کے مطابق‘‘ ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی وہ امریکہ اور یورپ ہیں جنہوں نے صدر مرسی کے خلاف تین دن کے مظاہروں کے بعد یہ تاثر دیا تھا کہ مصر میں ’’غیر معمولی صورت حال‘‘ پیدا ہوگئی ہے۔

امریکہ اور یورپ مسلم دنیا میں اپنے ایجنٹ پلانٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں میں بسا اوقات ایسی شخصیات شامل ہوتی ہیں جنہیں عرفِ عام میں ’’کیریئر پسند‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کی پیشہ وارانہ ساکھ غیر معمولی ہوتی ہے۔ مصر میں ایک ایسی ہی شخصیت انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سابق سربراہ البرادعی ہیں۔ البرادعی کو اصولی اعتبار سے اٹامک انرجی ایجنسی سے فارغ ہونے کے بعد منظرعام سے ہٹ جانا چاہیے تھا، لیکن امریکہ ان کو مصر کی سیاست میں لے آیا اور البرادعی حسنی مبارک کے مقابلے میں ایک ’’ڈیموکریٹ‘‘ بناکر ابھارے گئے۔ لیکن جیسے ہی مصر میں کشمکش برپا ہوئی البرادعی کا ایجنٹ ہونا ظاہر ہوگیا۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اقتدار پر فوج کے قبضے کی حمایت کی بلکہ نائب صدر کا عہدہ بھی قبول کرلیا۔ لیکن فوج نے ان سے پوچھے بغیر ایک ہی دن میں اخوان کے ہزاروں افراد کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کردیا تو البرادعی کو مستعفی ہونا پڑ گیا اور مصر میں امریکہ کا ایک ستارہ چمکنے سے پہلے بجھ کر رہ گیا۔ جامعہ الازہر کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہ غیر سیاسی ادارہ ہے، لیکن صدرمرسی کے خلاف فوج نے اقدام کیا تو جامعہ الازہر کے شیخ احمد الطیب اخوان مخالف بن کر کھڑے ہوگئے، لیکن فوج کے قتل عام نے انہیں بھی ایک دن میں ’’بے توقیر‘‘ کرکے رکھ دیا۔ یہی صورت حال قبطی عیسائیوں کے ساتھ پیش آئی۔ وہ بھی فوج کی حمایت میں اخوان کے خلاف صف آراء ہوئے اور معلوم ہوگیا کہ ان کی حیثیت مصر میں ایک سازشی عنصر کی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ دلچسپ صورت حال سلفیوں کی جماعت نور پارٹی کے حوالے سے سامنے آئی۔ نور پارٹی نے مصر کے انتخابات میں 25 فیصد ووٹ حاصل کیے، اور یہ پارٹی خود کو اخوان سے زیادہ مذہبی اور بنیاد پرست باور کراتی ہے۔ لیکن فوج نے صدر مرسی کے خلاف سازش کی تو نور پارٹی سیکولر عناصر کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور اس نے جنرل السیسی کو قوت فراہم کی۔ لیکن فوج کے قتل عام نے ایک ہفتے میں نور پارٹی کو بھی فوج سے فاصلہ بڑھانے پر مجبور کردیا، اور اب نور پارٹی کہہ رہی ہے کہ اگر فوج نے ملک کے آئین میں موجود اسلامی شقوں کو ختم کیا تو وہ مظاہرے شروع کردے گی۔ لیکن نور پارٹی مظاہرے کرے یا نہ کرے اس کے بارے میں سب کو معلوم ہوگیا کہ اس کا مسئلہ اسلام نہیں، عرب حکمرانوں بالخصوص سعودی عرب کے حکمرانوں سے اس کی قربت اور ان حکمرانوں سے ملنے والی مالی امداد ہے۔

مصر کی صورت ِحال کے حوالے سے سامنے آنے والے عرب حکمرانوں کے طرزعمل نے ساری دنیا کو چونکا دیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مسلم ملکوں کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن یہ کردار پردے کے پیچھے رہتا تھا، مگر مصر میں جیسے ہی صدر مرسی کے خلاف سازش ہوئی… سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات ‘ کویت اور قطر 13 ارب ڈالر کی امداد لے کر جنرل السیسی کی پشت پر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کھل کر فوج کے اقدام کی حمایت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف امریکہ، یورپ، اور اسرائیل ہی نہیں، عرب حکمران بھی اسلامی تحریکوں کے ابھار سے خوفزدہ ہیں۔ فرق یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کا مسئلہ اس سلسلے میں عدم مطابقت کا ہے، اور عرب حکمرانوں کا مسئلہ مشابہت کا ہے۔ یعنی امریکہ اور یورپ کو لگتا ہے کہ اسلامی تحریکیں ان سے مختلف ہیں، جبکہ عرب حکمرانوں کو لگ رہا ہے کہ اسلامی تحریک انہی کی طرح کے لوگوں کی تحریک ہے، چنانچہ اس تحریک کو قوت فراہم ہوئی تو اس تحریک کی قیادت دیکھتے ہی دیکھتے ہماری متبادل بن کر ابھر آئے گی۔

اس تحریک کا معاملہ یہ ہے کہ اس پر القاعدہ اور طالبان کی طرح انتہا پسندی اور دہشت گردی کا لیبل بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اس صورت ِحال نے واضح کردیا ہے کہ عرب دنیا میں ’’سونا‘‘ تو صرف اخوان کے پاس ہے۔ اخوان کے سوا جو کچھ ہے کاٹھ کباڑ ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شاہ نواز فاروقی

Leave a Reply