4

بچیوں کے استحصال کی نئی شکل

تہذیب، ترقی، مساوات مرد و زن اور جمہوریت و انسانی حقوق کے اس دور میں بھی بچوں اور معصوم بچیوں کے ساتھ ظالمانہ، وحشیانہ اور بربریت کا برتاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آج کے ماڈرن دور میں آئے دن معصوم اور کم عمر بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جانا کوئی سماجی زلزلہ کا سبب بننے والا جرم نہیں رہ گیا۔ چلئے یہ مان لیا جائے کہ یہ تو مجرمانہ ذہنیت اور بیمار ذہنوں کے کرتوت ہوتے ہیں مگر ان نام نہاد اعلیٰ، دولت مند اور مہذب تصور یے جانے والے افراد اور گھرانوں کو آپ کیا کہیں گے جو پاش کالونیوں میں رہتے اور اعلیٰ ترین گاڑیوں میں گھومتے ہیں مگر وہ ذہنی اور معاشرتی اعتبار سے اتنے پست اور اپنے برتاؤ میں ناقابل تصور حد تک وحشی اور درندے ہیں۔ یہ لوگ اپنی کم عمر خادماؤں اور خادموں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، ان کا استحصال کرتے ہیں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق تک دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس وحشیانہ طرز زندگی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دولت سے اپنی جیبیں بھرنے کی خاطر معصوم بچیوں و اپنے کاروبار کی اس جہنم میں پھینک دیتے ہیں جو ان کی زندگی کو تنگ اور امیدوں کی دنیا کو تاریک بنا دیتی ہے۔

یہ جہنم پہلے تو کم عمر بچے، بچیوں کو جسم فروشی کے بازار میں دھکیل دینا تھا جس کو برا تصور رنا ایک عام بات تھی اور اس سے جڑے لوگوں کو عوام اور قانون دونوں برا تصور کرتے تھے۔ مگر اب اس سے بھی زیادہ منافع بخش اور سفید پوش کاروبار ڈومسٹک ہیلپ پلیسمنٹ ایجنسیاں ہیں جو معصوم زندگیوں کو جہنم زار بنانے میں جٹی ہوئی ہیں۔

اس طرح کے استحصال میں’ دلال‘ مختلف ریاستوں سے ، خاص کر جہاں غربت زیادہ ہوتی ہے،والدین کو اچھی زندگی کا لالچ اور سنہرے مستقبل کے خواب دکھاکر، ان کی معصوم لڑکیوں کو معمولی قیمت پر دہلی اور دوسرے میٹرو شہروں میں لاتے ہیں اور پلیسمنٹ ایجنسیوں کو بیچ دیتے ہیں ۔پھر ان کو مختلف بڑے شہروں جیسے دہلی،ممبئی ،جے پور ، گوا اور احمدآباد وغیرہ میں سپلائی کیاجاتاہے ۔ ان میںکام کرنے والی75% لڑکیاں نابالغ ہوتی ہیں ۔ تقریباً 3000سے زائد پلیسمنٹ ایجنسیاں دہلی میں موجود ہیں اور ان میں سے655 ایجنسیاں ہی ’کمرشیل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ‘ کے تحت رجسٹرڈ ہیں ۔ ان میں سے کئی ایسی ہیں جن کی تحقیق کئے بغیر ہی منظوری دے دی گئی ہے ۔ اسی لیے اس کا نیٹ ورک ہمارے ملک میں تیزی سے پھیلتاجارہاہے ۔

اس بڑھتے کاروبار کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتاہے کہ2012-13 کی رپورٹ کے مطابق بہار کی 427، جھارکھنڈ کی 189، مغربی بنگال کی 331، اترپردیش 223 اور آسام کی60 لڑکیوں کواس کام سے آزاد کرایا گیا۔اس کام میں جھارکھنڈ (کے تین گائوںدمکا، سمڈیگا اور گملا)سرِ فہرست ہیں اوریہیں سے لڑکیوں کو رانچی لایا جاتا ہے ،پھر بذریعہ ٹرین دہلی بھیج دیا جاتا ہے۔ اس میں منافع زیادہ ہے اور خطرہ بھی کم ہے۔ ایک دلال کوقحبہ خانہ پر ایک لڑکی کو لانے کے صرف1000 سے5000 ہزارہی ملتے ہیں،اسی لیے اس کاروبارمیں تیزی سے گراوٹ آرہی ہے۔ لیکن گھریلو کاموںکے لیے دلال ایک بچی کا 2000 روپئے ماں باپ کو دیتے ہیں اور4000 سے 7000ہزار روپے ایجنسیوں سے وصولتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دلال بچیوں کے گھر والوں سے بھی ان کی سادگی کے سبب نوکری دلانے کے نام پر پیسہ اینٹھ لیتے ہیں، ایجنسیاں 20000 سے30000 ہزارروپے گراہک سے لیتی ہیں اور زیادہ تر لڑکیوںکی تنخواہ کوبھی گھر بھیجنے کے نام پر ہڑپ کرجاتی ہیں۔ ہر تین مہینے پر لڑکیوں کو نوکری بدلنے پر دبائو ڈالاجاتاہے اور نئی نوکری کے بہانے ان سے موٹی رقم اینٹھی جاتی ہے۔ اس میں ایک ایجنٹ نئی نوکری دلانے کے بہانے سال بھر میں تقریباً 60000 ہزار تک کما لیتاہے ۔

بعض لڑکیوں کو کچھ’’ معاملوں ‘‘کے لیے دہلی میں ہفتے بھر رکھ کر ٹریننگ بھی دی جاتی ہے اور اسی کے لحاظ سے ان کی تنخواہ متعین ہوتی ہے ۔تربیت یافتہ لڑکیوں کی5500 ، نیم تربیت یافتہ کی3500 اور غیر تربیت یافتہ کی 1500 روپے تنخواہ ہوتی ہے ۔

جب گراہک پلیسمنٹ ایجنسیوں سے ان معصوم، بے گناہ لڑکیوں کوبطور خادمہ اپنے گھر لے جاتے ہیںتو وہ مکمل طور پر ان ہی لوگوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ اگر گھر والے شریف ہیں تو ان کی قسمت ورنہ ڈانٹ پھٹکار، سخت محنت کے ساتھ ساتھ مارپیٹ اور بعض اوقات جسمانی تشددان کی قسمت بن جاتے ہیں۔ انہیں مارا پیٹا جاتا ہے بلکہ ان کے جسم کو داغااور جلایابھی جاتاہے اور ذہنی وجسمانی جنسی زیادتی کی جاتی ہے ۔ دہلی میں اس قسم کے واقعات اکثر اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں دہلی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں دہلی کے پاش کالونی وسنت کنج میں ایک گھر کی خادمہ کو نہ صرف مارا پیٹا جاتا تھا بلکہ اس کو پیشاب پینے پر مجبور کیا جاتا تھااور گرم توے سے جلایا بھی جاتا تھا، انشورنس سیکٹر میں اعلیٰ عہدے پر فائز اور لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والی اس خاتون کا رویہ اپنی خادمہ کے ساتھ نہایت وحشیانہ تھا۔ شام ہوتے ہی اس پر تشدد شروع ہوجاتا اور وہ سوچتی کہ کاش شام نہ ہو۔ وہ اس کو اکثر برہنہ اور نیم برہنہ حالت میں رکھتی کہ وہ گھر سے بھاگ کر نکل نہ جائے یا کسی سے شکایت نہ کردے۔ مذکورہ لڑکی کسی طرح ایک NGOسے اپنی شکایت کرنے میں کامیاب ہوگئی جس کی شکایت پر اسے آزاد کرالیا گیا اور اس کی مالکن کو جیل بھیج دیا گیا۔ لڑکی اسپتال میں بھرتی کرنا پڑا جہاں وہ خطرے سے اہر ہے۔اسی طرح ’دوارکا‘ میں پچھلے سال مارچ میں ایک ڈاکٹر جوڑے نے اپنے فلیٹ میں کام کرنے والی بچی کو جو صرف 13سال کی تھی،ایک کمرے میں 6دن کے لیے بند کر کے چھٹی منانے ’بینکاک‘ چلا گیا تھا۔ اس طرح کے واقعات جو آئے دن اخباروں کی زینت بنتے محض اس بات کی دلیل ہیں کہ اندر کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اور ظاہر ہے یہ واقعات پوری صورت حال کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود نہ تو اس نظام پر حکومتی پکڑ ہوتی ہے جو اس ظلم کا بنیادی سبب ہے اور نہ ان افراد کو قرار واقعی سزا ملتی ہے جو اس کا حصہ ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے گھریلو نوکرانیوں کو تحفظ دینے کے سلسلے میں ریاستی حکومت کو 2010 میں ہدایت دی تھی۔ لیکن اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ گورنمنٹ نے قانون دانوں سے اس مسئلے پر اگست؍ 2012 میں مشورہ مانگا تھا لیکن اسے بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ہر کیس کے بعد معاملہ کچھ دنوں کے لیے اچھلتا ہے اور حکومت کچھ بیانات دیتی ہے ،عوام احتجاج کرتے ہیں اور پھر اگلے کیس تک کے لیے سو جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر اس پر کوئی قانون کیوں نہیں بن رہا اور قانون سازوں نے اس کے خلاف اب تک کوئی بل کیوں نہیں پاس کیا کہ اس پر روک لگ سکے؟؟

وجہ صاف ہے کہ ہمارے ملک میں جاری کرپشن اور رشوت ستانی اور اس پر مستزاد بااثر لوگوں اور سیاست دانوں کی سر پرستی وہ اسباب ہیں جو قانون کو ان تک پہنچنے کے لیے ہمیشہ روکتے رہے ہیں ورنہ حکومتی نظام کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاروبار پر شکنجہ کسے۔

عموماً غریب گھروں کی لڑکیاں ہی ان کا شکار ہوتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین غربت کی وجہ سے ان کو بیچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ہمارے یہاں کا موجودہ معاشی سسٹم ایسا ہے کہ جو امیر ہے وہ امیر سے امیر تر ہوتاچلا جارہاہے ،جو غریب ہے اس کی غربت میں روزبروز اضافہ ہورہاہے ۔

حکومت کم عمر بچے بچیوں سے کام لینے کے لیے خلاف قانون توبناتی ہے لیکن غریبی کے اسباب پرتوجہ نہیں دیتی ہے ۔ ان کو تعلیم دلانے کی بات کرتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس کے گھر میں کھانے کو نہ ہو تووہ اپنے بچوںکو تعلیم کیسے دلائے گا ؟ وہ تو یہی چاہے گا کہ اس کی اولاد بھی کام کرے تاکہ گھر چل سکے۔ لمبی قید یا بھاری جرمانے کم عمر بچیوں سے کام لینے سے نہیں روک سکتے یہ تو اسی وقت ممکن ہوگا جب والدین کے پاس پیسہ ہو کہ وہ اپنے بچوں سے کام کرانے کے بجائے تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج سکیں ۔

اسلام نے اس کا حل زکوۃ اور وظیفہ کی شکل میں پیش کیا ہے کہ جو لوگ مال دار ہیں ، وہ اپنے مال میں سے غریبوں کا حق نکالیں تا کہ وہ بھی اس دنیا میں آرام و سکون سے رہ سکیںاور ان کے بچے بچیاں بھی بچپن ہی سے کام کرنے کے بجائے تعلیم حاصل کر سکیں۔واقعہ یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ میں نماز کے بعد جس تاکید و تکرار کے ساتھ قرآن مجید نے زکوۃ، صدقات ، انفاق ، یتیموں اور حاجت مندوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کیا ہے ، کسی اور عمل پر اس اہمیت کے ساتھ زور نہیں دیا ہے ۔اس کے علاوہ اسلامی حکومت اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ وہ ان کو وظیفہ دے۔حضرت عمر ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش ہی سے وظیفہ مقرر کر دیتے تھے۔

دوسری بات یہ کہ اصحاب ثروت کی سوچ کوبھی بدلنا ہوگا ۔جتنے بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں، سب میں مجرم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے عہدے پر فائز لوگ تھے ۔ روپے پیسے کی کمی نہ تھی لیکن تب بھی انہوں نے غریب بچیوںکے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا۔

جب کہ اسلام نے ہمیشہ غریبوں سے حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی ہے۔خود نبیِ کریم ﷺ نے اس کی بارہا تاکید کی ہے اورفرمایا: تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالی ان ضعفاء و غرباء کی وجہ سے تمہیں روزی دے رہے ہیں۔(بخاری)

شیئر کیجیے
Default image
ا ے۔ ایس۔ علیگ

تبصرہ کیجیے