زندہ مشینیں مردہ انسان

’’ہم تم سے زیادہ طاقتور ہیں۔‘‘

’’نہیں، ہم زیادہ طاقتور ہیں۔‘‘

’’ہم تمہارے سارے دیش کو اپنے ایک ہی بم سے اڑا دیں گے۔‘‘

’’اور ہماری آخری ایجاد چشم زدن میں ساری دنیا کا جغرافیہ تبدیل کردے گی۔‘‘

جب انسان نے اپنی تہذیب کی معراج پر پہنچ کر اپنے خوبصورت چہرے پر سائنسی خول چڑھا لیا تو وہ قبل از تاریخ کا کوئی خونخوار غیر طبعی جانور نظر آنے لگا۔

’’تیسری عالمگیر جنگ ہوگی۔‘‘

’’تیسری عالمگیر جنگ نہیں ہوگی۔‘‘

’’اگر تیسری عالمگیر جنگ ہوئی تو ساری دنیا فنا ہوجائے گی۔

جنگ کا آتش باراژدہا تن کر مستعد کھڑا رہا، اور اس کے خونیں سائے میں سارا کرۂ ارض کانپ کانپ کر سکڑتا رہا۔ خوف زدہ انسان کا خوابیدہ احساس گویا قیامت کا نظارہ کر کے بے اختیار ہکلاتا ہوا جاگ اٹھا۔

’’خدارا، تیسری عالمگیر جنگ کو روک لو۔‘‘

’’ہم لڑنا نہیں چاہتے۔‘‘

’’ہم بھی لڑنا نہیں چاہتے۔‘‘

’’ہم امن پسند طاقتوں کو یکجا کر کے جنگ کو ناممکن بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

’’ہم بھی امن کے پجاری ہیں، لیکن اگر تم نے ذرا بھی خلل ڈالنا چاہا تو پہلے ہماری طاقت کا اندازہ کرلینا۔‘‘ ’’ہم دنیا کی فرسٹ پاور ہیں۔‘‘

’’نہیں، فرسٹ پاور ہم ہیں۔‘‘

آتش بار اژدہا انسان کی حماقت سے لطف اندوز ہوکر کڑک کڑک کر ہنسنے لگا۔

’’ہمارے اسپوتنک تمہارے اسپوتنکوں سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔‘‘

’’ہم خلا کے مالک ہیں۔‘‘

’’تم ہمارے غلام ہو۔‘‘

’’دیکھو اب بھی جنگ کو روک لو۔‘‘!

جنگ کا اعلان ہوگیا۔ دونوں طاقتوں نے اپنے اپنے میڈیا میں نہایت افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مکمل امن و سکون کے لیے اب جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

چند غیر اہم ممالک کی درخواست پر دونوں طاقتوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگ کے دوران خطرناک اور تباہ کن سائنسی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گی، مگر چوں کہ ہر دو کا خیال تھا کہ حریف اسے چکمہ دے کر مغلوب کرنا چاہتا ہے اس لیے دونوں نے بوکھلا کر بیک وقت اپنی اپنی نہایت خطرناک آٹومیٹک مشینوں کے بٹن دبا دیے۔

’’رک جاؤ۔‘‘

’’ہہ ہہ ہا ۔۔۔ ہہ ہا ہہ!!‘‘ انسان کی بنائی ہوئی اٹومیٹک مشینیں گڑگڑ کرتی ہوئی دیوانہ وار ہنس پڑیں۔ مانو سارے سنسار کے کتے عالم بھر کی مخلوقات کے مستقبل کے متعلق سوچ سوچ کر بے اختیار رونے لگے ہوں۔

’’جب ہمارے بٹن دبا دیے جاتے ہیں تو ہم کبھی نہیں رکتیں۔‘‘

’’دھڑام۔۔۔۔ دھڑ۔۔۔۔۔ گھر ۔۔۔۔ دھم،،، م!‘‘

آناً فاناً چار سو قیامت بپا ہوگئی۔ مہلک گیسوں کے فلک شگاف دھماکے، آگ کے لاتعداد شعلے، دھوئیں کی ان گنت دیواروں میں محبوس مرتے کراہتے انسانوں کی لگاتار چیخ پکار، گویا لامحدود واویلا مچاتی ہوئی تمام کرہ ارض کی ارواح پناہ کے لیے جہنم کے دورازے پیٹ رہی ہوں!

’’بچاؤ۔۔۔۔ رحم!‘‘

’’ہہ ہا ہہ ہہ۔۔۔ ہا!‘‘ ہنستے ہنستے تباہ کن آٹومیٹک مشینیں بے حال ہوگئیں۔‘‘ ارے بے وقوفو! اگر تم ہم سے رحم کی ہی بھیک مانگنا چاہتے تھے تو ہمارا ایک دل بھی بنا دیتے، گدھے!‘‘

گدھوں نے ہراساں ہوکر چیختے ہنکارتے ادھر ادھر دوڑنا چاہا۔

’’دھام ۔۔۔ دھم۔۔۔ م م!‘‘ معاً بم پھٹا، او رگدھوں کی روحیں زمین سے میلوں اوپر اچھل کر خلا میں سرپٹ بھاگنے لگیں، مانو ان کے اجسام کی دھجیاں نہ اڑی ہوں، اور وہ واقعی اپنی ٹانگوں پر ہی دوڑ رہے ہوں۔‘‘

’’س ۔۔۔ سیں۔۔۔ یں۔۔۔ یں۔۔۔!‘‘

زہریلی گیسوں کی بے شمار گھنی تہوں نے ہزارہا میل کا فاصلہ گھیرے میں لے لیا، اس گھیرے کے اندر انسان، ہاتھی، مگرمچھ، اور دیگر بڑے اجسام سکڑتے سکڑتے چیونٹیاں بن گئے اور چیونٹیاں اور دوسرے چھوٹے کیڑے مکوڑے پھیلتے پھیلتے ویل مچھلیاں سی نظر آنے لگے۔ پھر اپنے آپ ان کی بصارت زائل ہوگئی۔ پھر قوتِ گویائی چھن گئی۔ پھر گلے گھٹنے لگے۔ اور وہ عالم بے بسی میں ہچکیاں لیتے ہوئے چل بسے۔

’’گھر۔۔۔۔ ر۔۔۔ ررم۔۔۔ م!‘‘

دیکھتے ہی دیکھتے سارا دیش خونیں آگ کی گرفت میں آگیا۔ اس آگ کے طوفان میں انسان جلتے رہے، انسان کی ساری جدوجہد ساری تعمیر جلتی رہی، ننھے منے پرندوں کے گیت ان کے گلوں میں رک کر وہیں جل کر راکھ ہوگئے۔ تتلیوں سے باتیں کرتے ہوئے رنگا رنگ پھول سیاہی کے ڈھیر بن کر رہ گئے۔ سانپوں نے زمین کے اندر اپنے بلوں میں شدید تپش محسوس کرتے ہوئے مزید نیچے جانا چاہا لیکن جیسے انہیں بند کڑھاؤ میں ڈال کر آگ پر رکھ دیا گیا ہو۔ ان کی روحیں تڑپتی ہوئی خوش نما گولائیوں میں سے نکل کر دھرتی کے اندر ہی اندر گھستی چلی گئیں، زمین کے بہت نیچے اپنے سوختہ احساس کو سمندر میں ڈبو دینے کے لیے!

’’شیں۔۔۔۔ ایں۔۔۔ ش۔۔۔ یں!‘‘

اس ملک میں عجیب مہلک جراثیم کی بارش ہونے لگی، جس سے پہلے تو آدمی کی ٹانگیں سکڑ سکڑ کر تنکے ہوکر رہ گئیں، پھر اس کے بازو چھوٹے ہوتے ہوتے کندھوں میں جاگھسے، پھر اس کا سر گردن میں دھنس گیا، اور پھر اس کی موت واقع ہوگئی۔

’’دھم م م ۔۔۔ م!‘‘

اس بھیانک بم کے پھٹتے ہی مابی ڈک سمندر کی تہہ سے اوپر ابھر کر غیر متوقع طور پر خشکی کی جانب بڑھنے لگا، جیسے اسے معلوم ہوگیا ہو کہ اب تھوڑی دیر میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا۔ زمین کے کئی بڑے بڑے حصے پانی کے میلوں نیچے ڈوب جائیں گے اور ساگر کی ناقابل پیمائش تہیں اوپر ابھر آئیں گی!

جنگ کا اژدہا اس ہمہ گیر انہدام پر کڑک کڑک کر ہنستا رہا۔ گویا یہ سوچ کر کہ یہ لوگ طاقت کے نشے میں حواس کھو بیٹھے تھے، انہوں نے سائنس کے بل بوتے پر ایک دوسرے کے خلاف لڑنا چاہا تھا مگر مشینیں آپس میں سازش کر کے اب کل نوعِ انسان کے خلاف کھڑی ہوگئی ہیں، اسے یکسر مٹانے کے لیے!

یہ شہر اپنی تباہی سے پہلے جنت کا ایک خوبصورت ٹکڑا تھا۔ سارے جہاں کے اسکولوں میں طلباء کو یہ سبق دیا جاتا تھا کہ دنیا کا یہ سب سے بڑا شہر تہذیب و تمدن کا گہوار ہے۔ یہاں کے لوگ نہایت خوش حال تھے۔ عمارتیں، فلک پیما، اور سڑکیں نہایت کشادہ، انسان کے بڑھتے پھیلتے اقبال کی طرح۔ یہاں اناج کے ان گنت انبار جمع تھے۔ کپڑے کی بے شمار ملیں تھیں، یہاں کی فیکٹریوں میں بنے ہوئے ریل کے ڈبے، موٹر گاڑیاں اور ہوائی جہاز ساری دنیا میں بھیجے جاتے تھے۔

کبھی اس شہر میں نہایت اعلیٰ تھیئٹر تھے۔ نہایت راست بخش پبلک پارک بنے ہوئے تھے۔ جہاں سارے دن کے تھکے ماندے والدین شام کو ٹانگیں پسار کر اپنے خوب صورت خنداں بچوں کو دیکھتے رہتے جو اپنے ننھے منے پیروں سے ادھر ادھر دوڑتے پھدکتے خوب غل مچامچا کر کھیلتے رہتے۔ یہاں عالمی شہرت کی ایک یونیورسٹی تھی، جیسے خود علم و ہنر کی یونانی دیوی، ایتھینا نے اپنے پروں سے اس پر سایہ ڈال رکھا ہو اور چمکیلے گانوں میں ملبوس شگفتہ، تازہ دم طلباء کے پرمغز مباحثوں کو سن سن کر سوچ رہی ہو کہ انسان کا مستقبل کتنا روشن ہے!

یہاں لاکھوں شہریوں کے آراستہ گھر تھے، گھر، جن سے متعلق سوچتے ہوئے ان کے ذہنوں میں چور دروازوں سے آرام اور سکھ آداخل ہوتے۔ جن کی کھڑکیوں سے ماں باپ کی شفقت جھانکتی نظر آتی۔ کم عمر بہن بھائیوں کے مقدس قہقہے لوٹنیاں لیتے ہوئے باہر آگرتے اور نوجوان سہاگنیں کام سے لوتتے ہوئے شوہروں کی راہ تکتیں۔

ابھی کل ہی یہ عظیم شہر دھرتی پر جنت کا نمونہ بن کر انسان کی عظمت کا ایپک گاگا کر سردھن رہا تھا، مگر اب یہ شہر ملبے کے بڑے بڑے ڈھیروں کے نیچے جلا پڑا تھا۔ جیسے پہلے اسے دو نالی بندوق سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہو۔ پھر چھری سے اِس کا بند بند کاٹا گیا ہو، اور پھر اسے جلا دیا گیا ہو۔ یہاں بے انتہا ملبے کے نیچے دبی ہوئی بچوں کی مسکراہٹیں رو رہی تھیں۔ بوڑھوں کی پرخلوص دعاؤں نے شرمندہ ہوکر اپنا منہ ڈھانپ لیا تھا، اور نوجوان تندرست جسموں کے ٹوٹے پھوٹے اعضا دفن تھے۔

دفعتاً ملبے کو اٹھانے کے لیے کہیں سے آٹومیٹک گاڑیاں آ نمودار ہوئیں۔ یہ بالکل خالی گاڑیاں بغیر ڈرائیوروں کے خود بخود چلی آرہی تھیں۔ سائنس کے کرشمے! اپنی اپنی مناسب پوزیشن پر پہنچ کر یہ سب خود بخود رک گئیں اور انسانی امداد کے بغیر نہایت مستعدی سے اپنے آپ ملبے کے ڈھیر اٹھانے لگیں۔ مردوں کے ڈھیر، جنہیں یہ زندہ گاڑیاں کسی سائنسی پلان کے مطابق نہ جانے کہاں پھینک آئیں گی!

وہ لاش کھلونے بنانے والے بوڑھے موفو کی تھی۔ بوڑھے موفو کی دوکان طرح طرح کے کھلونوں سے لدی پڑی تھی۔ بکریاں، شیر، چیتے، سانپ، آدمی۔ سب اس کی دوکان کے چھوٹے سے کمرے میں آپس میں چوبیس گھنٹے ہنستے کھیلتے رہتے۔ کوئی ایک بھی دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی کوشش نہ کرتا۔

سانپ آدمی کے گلے میں لہراتا اس کے کانوں میں کہہ رہا ہوتا۔ ’’دیکھو بھیا!تم میرے زہر کی برکتوں سے واقف نہیں اگر تم چاہو تو اسے نکال کر اپنے بیمار بھائیوں کے لیے ہزاروں دوائیاں بنا سکتے ہو۔‘‘

شیر بکری سے التجا سی کرتا نظر آتا۔ ’’بہن، تمہارا دودھ تو بڑا لذیذ ہوتا ہے۔

اوربکری ہنس کر جواب دیتی۔ ’’اچھا، اب زیادہ خوشامد نہ کرو۔ میرا بدن ٹوٹ رہا ہے، اسے چاٹ چاٹ کر ذراہلکا کردو۔‘‘

بوڑھا موفو اپنی تخلیقات کو بڑے فخر سے دیکھتے ہوئے کہا کرتا۔ ’’میری اس چھوٹی سی حسین دنیا میں بسے ہوئے سب چھوٹے بڑے جاندار بہت سمجھدار ہیں۔ باہم مل بیٹھنے کے سب رموز جانتے ہیں۔ رولف بیٹے! تم سرکاری نوکر ہو۔ اپنے بڑے وزیر صاحب سے کہنا کبھی یہاں آکر ان بے ضرر جانداروں کی یہ دنیا بھی دیکھیں۔ شایدمیری یہ ننھی سی گورنمنٹ دیکھ کر انہیں اپنی بڑی گورنمنٹ کے لیے کوئی بڑا نکتہ ہاتھ آجائے۔‘‘

مگر بڑے وزیر صاحب تو بڑے مصروف آدمی تھے، انہیں تیسری عالمگیر جنگ کی تیاریوں کا معائنہ کرنا تھا، اور معائنہ کرنے کے بعد دشمن ملک کے بڑے وزیر صاحب کو امن کے موضوع پر ایک ڈپلومیٹک خط لکھنا تھا، اس کے بعد ایک دھمکی آمیز خط پھر ایک کھلی وارننگ اور آخر میں اعلانِ جنگ، جس کے بعد بوڑھے موفو کے کھلونوں کی یہ سندر دنیا تہ و بالا ہوگئی۔ کھلونے بھی ٹوٹ پھوٹ گئے اور کھلونے بنانے والا کھلونا بھی!

اس ڈھیر کے نیچے چوبیس سالہ چوبو کی کٹی ہوئی لاش جھانک رہی تھی۔ چوبو ایک موٹر ریسر تھا۔ بے حد تیز اور ہوشیار موٹر ریسر۔ ابھی پچھلے ہی سال اس نے موٹر ریسنگ کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ مگر ریسنگ گاڑیاں تیز تیز چلاتے ہوئے اس نے یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی ریس بھی اتنی جلدی طے کرلے گا۔ اپنی زندگی سے متعلق تو اس نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ اس کی ایک محبوبہ تھی۔ کیلیفورنیا کے سرخ سیب کی مانند ایک گول مٹول دنیا پیاری حسینہ، جینیا۔۔۔ جب بھی وہ کوئی موٹر ریس جیت کو لوٹتا تو انعام لے کر خوشی سے گنگناتا ہوا وہ سب سے پہلے اپنی جینیا کے پاس آتا۔ پھر وہ دونوں گھنٹوں سر جوڑے مستقبل میں جھانکتے رہتے۔ اگلی بہار میں ان کی شادی ہوجائے گی۔ ہنی مون منانے کے لیے انہوں نے سات ماہ پہلے ہی ساحل پر ایک وِلابک کروا رکھا تھا۔ ہنی مون کے سہانے دور کا ایک ایک لمحہ وہ ایک دوسرے کی طرف تکتے تکتے گزار دیں گے۔ ساری زندگی گلے مل کر گزار دیں گے۔

’’چوبو، جب میں بوڑھی ہوجاؤں گی تو پھر بھی تم مجھے اسی طرح پیار کیا کروگے؟‘‘

’’ہاں جینی، تمہیں بھی اور تمہارے بچوں کو بھی۔‘‘

جینیا کو اپنی ماں کی ایک لوری یاد آنے لگتی۔ ’’پھر تم جوان ہوجاؤگی اور ہم بوڑھے۔ پھر تم ہماری دیکھ بھال کروگی اور ہم تمہارے بھرے بھرے بدن کی طرف دیکھ کر خوش ہوں گے۔ پھر ہم ہمیشہ کے لیے سوجائیں گے اور تم ہمیں بھول جاؤگی، اپنی ماں کو بھول جاؤگی۔ خود ایک ماں بن جاؤگی۔‘‘

’’چوبو، مجھے بچے بڑے اچھے لگتے ہیں۔‘‘

’’اور مجھے بھی، جینی۔‘‘

ان جواں سال محبت کرنے والوں کی نظریں اپنے مستقبل میں ہی رہیں۔ تادم آخر رہیں۔ اب بھی ان کی کٹی جلی لاشیں گویا پرامید سی تھیں۔ بڑے چاؤ سے آنے والے زمانے کو سنوار رہی تھیں!

آج صبح اس پرائمری اسکول کے بچے مارننگ اسمبلی میں خدا سے دعا مانگ رہے تھے۔

’’ہولی لارڈ، میں ساری اے بی سی ڈپڑھ چکا ہوں۔ اب میں بڑی بڑی کتابیں پڑھوں گا۔ پڑھ لکھ کر نہایت اچھا آدمی بنوں گا۔ میری مدد کرنا خدایا!‘‘

’’یا خدا، میری امی ہر وقت بیمار رہتی ہے۔ میں بڑی ہوکر ڈاکٹر بنوں گی اور اپنی ماں کی صحت کا بڑا خیال رکھوں گی۔ مجھے ڈاکٹر ضرور بنانا، خدایا!‘‘

’’ہولی فادر، میرے ماں باپ مرچکے ہیں۔ مجھے بڑا پیار کیا کرتے تھے، ان کا خیال رکھنا!‘‘

’’میں نے کل شام کو اپنے باغ میں سفید گلاب کا ایک پودا لگایا تھا، پیارے خدا، یہ پودا کبھی نہ کمھلائے!‘‘

’’ساتویں آسمان میں بیٹھے ہوئے پروردگار! اپنے فرشتوں سے کہو وہ ہماری دنیا میں جنگ نہ ہونے دیں۔‘‘

ابھی یہ بھولے بھالے بچے ہاتھ باندھے آنکھیں موندے دعا ہی مانگ رہے تھے کہ خطرے کا الارم بے تحاشا بجنے لگا۔ یکبارگی ایک آتشیں دھماکا ہوا۔ اور یہ بچے وہیں قطاروں میں کھڑے کھڑے اپنی ننھی منی خواہشات سمیت جل کر سیاہ ہوگئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان معصوموں کی روحیں اب بھی اسی طرح کھڑی خدا سے اپنی نیک دعائیں مانگنے میں مگن ہیں!

رسل اس دور کا ایک عظیم ترین فلاسفر تھا۔ وہ ساری زندگی فلسفہ رجائیت کا پودا اپنے خون سے سینچتا رہا۔ انسانی ذہن کے خوبصورت ارتقا سے متعلق سوچتا رہا۔ جنگ کے امکان کو دماغ سے قطعاً خارج کر کے بڑے چین سے امن و تعمیر کا ذکر چھیڑتا رہا، اور دور افق پر نگاہیں جمائے یوں منتظر بیٹھا رہا گویا اسے یقین ہو کہ انسان کا نیا، تابناک مستقبل سورج کی تازہ، حیات پرور شعاعوں پر دوڑا دوڑا ایک نئی صبح کا پیام لائے گا۔

رسل بھی اپنی توقعات کے خلاف آسمانی کینوس پر ایک بھیانک سائنسی جنگ کا پروفائل دیکھ کر پہلے تو کانپ اٹھا، لیکن پھر مادرانہ پیار سے اسے بنانے سنوارنے کا جتن کرنے لگا۔

’’زندہ رہو اور زندہ رہنے دو۔‘‘

سب قوموں نے رسل کو پادریوں کی سی معصومیت سے جواب دیا۔

’’ہم بھی تو یہ چاہتے ہیں۔‘‘

’’جیسے آکاش میں جھوٹے موٹے ٹمٹماتے تارے چندا کی شوبھا کو بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح کمزور دیش بھی تمہارا ایک سنگھار ہیں۔‘‘

دنیا کی سب مقتدر طاقتوں نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ ’’خدا کا تخلیق کردہ یہ ہمہ گیر ڈرامہ، انواع و اقسام کے جانداروں کا یہ طربیہ کھیل فطری اصولوں کے عین مطابق ہے اسے یوں ہی چلنے دو، خواہ مخواہ ہنگامی اختتام پر لاکر اسے مسخ نہ کرو۔‘‘

سارے عالم نے رسل کی اس رائے سے اتفاق ظاہر کیا۔

’’اگر نفرت نے انسان دوستی پر قابو پالیا تو اس سائنسی جنگ میں تمہاری مقدس کتابیں دم توڑ دیں گی۔ تمہاری شاعری و فلسفہ خود کشی کرلیں گے، تم خود مرجاؤگے!‘‘جواباً ساری طاقتوں نے رسل کو اپنی امن پسندی کا یقین دلانا چاہا۔

رسل اپنی کامیابی پر بے حد خوش ہوا۔ مانو طوفان کے بعد اوجھل روشنی کے مینار پھر نظر آنے لگے۔ مگر ایک دن جب وہ بڑی شادمانی سے انسان کی بنیادی نیکی اور بیدار مغری پر اپنے نظریہ کے مطابق ایک مقالہ لکھ رہا تھا تو اچانک اعلانِ جنگ ہوگیا۔ اس کے قلم کی روانی جھٹکا کھا کر رک گئی۔ ذہن میں نشو ونما پاتا ہوا نظریہ چیخ مار کر گر پڑا، اور آنکھوں میں امید کی فروزاں مشعلیں آنسوؤں میں ڈوب گئیں۔

’’میں کیوں سوچتا ہوں؟ کیوں لکھتا ہوں؟ کیوں؟!‘‘ مانو دورِ حاضر کے اس عظیم ترین بوڑھے مفکر کے سر پر کسی وحشی نے پورے زور سے اپنی رائفل کا بھاری دستہ دے مارا ہو۔

’’جب جاہل طاقتیں قادر مطلق ہیں تو میں کیوں سوچتا ہوں؟ انسان کی فکر، تہذیب، ادب، موسیقی، سب زوال پذیر ہیں۔ اس کے جسم کی طرح فانی ہیں۔ کرۂ ارض کے مکمل خاتمے کے لیے وحشیانہ پن کا ایک مبہم سا اشاراہ بھی کافی ہے۔ پھر میرے سوچنے لکھنے سے فائدہ؟ میں کبھی نہ سوچوں گا، کبھی نہ سوچنے کی قسم کھاتا ہوں!‘‘

رسل آخری دم تک اپنی قسم پر اڑا رہا۔ مظلوموں کی ان گنت چیخوں کے باوجود وہ بالکل خاموش رہا، قطعاً خالی الذہن نظر آتا رہا، مانوتا کی لاش کی مانند۔ اس حالت میں یک بیک اس پر پچیس منزلہ بلڈنگ کی سب چھتیں آگریں۔ ان چھتوں کے نیچے اس کی گراں بہا کتابیں دفن ہوگئیں۔ شہرت اور وقار فن ہوگئے، انسانیت دفن ہوگئی!

یہ شہر، وہ شہر، وہ دیش، سب جزیرے، براعظم، ساری دنیا، تخریب و تباہی کی مکمل تصویر بن گئی۔ بوڑھا، بے بس ایشیا اپنے پراچین مندروں اور قدیم مسجدوں کا واسطہ دے دے کر چل بسا۔ تعلیم یافتہ یورپ اور امریکہ نے اپنے قیمتی ملبوسات تار تار کر کے پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے آگ کے سیلاب میں چھلانگ لگادی۔ اور بھولا بھالا افریقہ موت سے پیشتر کسی بندھے ہوئے خوف زدہ پالتو بیل کی مانند ادھر ادھر تکتا رہ گیا۔

قیامت کی اس تصویر کا نظارہ کرنے کے لیے کرۂ ارض پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچا۔ سب مچھلیاں،انسان، حیوان، پرندے، کیڑے، مکوڑے جیسے گھڑی بھر میں کوئی نہایت ڈراؤنا خواب دیکھتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ کرۂ ارض پر پانی میں خشکی پر، کہیں بھی زندگی کا نام و نشان نظر نہ آتا تھا۔ جگہ جگہ مردوں کے تہہ بہ تہہ انبار لگے ہوئے تھے۔ انسان مرچکا تھا۔ چار سو گری پڑی ان گنت انسانی لاشوں میں ایک سانس بھی باقی نہ رہا تھا، مگر آٹومیٹک تخریبی مشینیں بدستور دھڑک دھڑک کر چل رہی تھیں۔ اپنے احمق موجد کی موت کے بعد بھی زندہ تھیں۔ گویا زندگی کو یکسر ختم کرنے کے بعد موت کی دھجیاں اڑانا چاہتی ہوں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
جوگندر پال

Leave a Reply