لاش

وہ دونوں خاکی وردی والے ریلوے مہتر اسٹریچر لیے میرے قریب سے گزرے، اتنے قریب سے کہ میں اسٹریچر میں پڑے آدمی کا چہرہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ اسٹریچر پر پڑے آدمی کا چہرہ دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اپنی ہی لاش دیکھ لی ہو۔ اس کا پیٹ کچلا ہوا تھا اور کچلے ہوئے پیٹ میں سے اس کی آنتیں نکل آئی تھیں۔ خون اور گدلا گاڑھا سیال اسٹریچر پر پھیلا ہوا تھا۔ مردہ آدمی کی دونوں آنکھیں حلقوں سے باہر نکل آئی تھیں۔ ناک، منہ اور دونوں کانوں سے خون رسنے کے بعد جم کر پپڑی ہو رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میری آنتیں سکڑتی جا رہی ہیں اور خون کا نمکین مردہ ذائقہ میرے منہ میں گھل گیا ہے۔ مجھے زور کی ابکائی آئی اور میں پیٹ پکڑ کر پلیٹ فارم پر اکڑوں بیٹھ گیا۔

میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ بذریعہ بس اپنے قصبہ سے چھ گھنٹے کے تھکادینے والے سفر کے بعد لکھنو پہنچا تھا۔ اور ایک ایمرجنسی سفر پر بنارس کی گاڑی کے لیے قلی کے ہمراہ جب پلیٹ فارم پر پہنچا تو محسوس ہوا کہ یہ پلیٹ فارم ٹرین کا نہیں حشر کا ہو۔

’’اف کتنا رش ہے کیا ہمیں جگہ مل سکے گی۔‘‘ شاہدہ نے دھیرے سے کہا۔ اس کے لہجے میں گھبراہٹ تھی۔ ’’شاید!‘‘ میں نے مختصر سا جواب دیا۔ نہ جانے کیوں اتنی بھیڑ دیکھ کر کچھ زیادہ کہنے سننے کی طبیعت نہیں ہو رہی تھی۔

’’میرے خیال سے یہ گاڑی ہمیں چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘ شاہدہ نے دبی آواز سے کہا۔

’’تو کیا بنارس تک پیدل چلیں۔‘‘ میں چڑھ سا گیا۔

’’آپ سفر پر نکلتے ہیں تو سامان کے ساتھ ناک پر غصہ بھی باندھ لیتے ہیں۔‘‘ شاہدہ کو بھی میرے اس جواب پر غصہ آگیا تھا۔

’’تم بات ہی ایسی کرتی ہو۔‘‘ میں نے جھلا کر کہا۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے اپنے قلی سے پوچھا۔

’’کیوں بھئی! اس گاڑی کے بعد دوسری گاڑی کب ہوگی؟‘‘

’’دوسری گاڑی تو آپ کو صبح نو بجے ملے گی باؤ جی۔‘‘

’’سنا تم نے‘‘ میں نے شاہدہ کو مخاطب کیا۔ ’’رات یہیں گزاری جائے کیا؟‘‘

’’بھیا کیا اس میں بھی اتنی ہی بھیڑ ہوگی؟‘‘ شاہدہ نے قلی سے شاید اس امید میں پوچھا کہ جواب نفی میں مل جائے۔

’’نہیں بہن جی بھیڑ تو اس میں اس سے جیادہ ہی ہوگی۔‘‘ قلی نے سوچتے ہوئے کہا۔

’’اب کیا خیال ہے تیسری گاڑی سے چلا جائے؟‘‘ مجھ پر پھر جھلاہٹ سوار ہونے لگی۔

’’خدا کے لیے چپ رہیے یہ پلیٹ فارم ہے ہمارا گھر نہیں۔‘‘ شاہدہ نے غصہ کو دباتے ہوئے ملتجیانہ انداز میں کہا۔ میں کچھ کہنے ہی کو تھا کہ پلیٹ فارم پر موجود لوگوں میں بے چینی پھیل گئی بیٹھے ہوئے لوگ اٹھ اٹھ کر کھڑے ہونے لگے۔

’’تیار ہوجایے باؤ جی، گاڑی آرہی ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر قلی نے بڑا بیگ اٹھا کر سر پر رکھا اور دائیں ہاتھ میں اٹیچی اٹھا کر مستعد ہوگیا میں نے بچی کو گود میں اٹھا لیا اورشاہدہ نے منے کو لا دلیا۔ ہاتھی کی طرح قوی الجثہ انجن لوہے کی چکنی پٹریوں پر دھواں اگلتا پھنکاریں مارتا پلیٹ فارم کے آخری سرے تک پھسلتا چلا گیا۔

انجن کے رکتے ہی لوگ ڈبوں کی طرف لپکے اورپلیٹ فارم پر شور مچ گیا۔ میں بھی اپنے قلی کی رہنمائی میں بچی کو گود میں لیے ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا ڈبہ، اس طرح میں نے کئی ڈبے دیکھ ڈالے مگر مایوسی ہاتھ آئی۔ لوگ ڈبوں میں ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے تھے ایک چوتھائی ڈبوں کی تو کھڑکیاں دروازے بند تھے۔ ہمارا قلی ہر ڈبے کی کھڑکیوں پر مکے مارتا مگر لوگ جیسے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے بیٹھے تھے۔ ایک ڈبے کی کھڑکی کسی آدمی نے پان کی پیک تھوکنے کے لیے کھولی اور بہت سارے لوگ کھڑی پر ٹوٹ پڑے۔ دو ایک تو کھڑکی سے ہی پھنس پھنسا کر اندر کود گئے۔ اب میری ہمت جواب دے گئی۔

’’جانے دو بھائی مشکل ہے۔‘‘ میں نے قلی سے کہا۔

’’نہیں باؤ جی مشکل کیسے ہے، سب ٹھیک ہوجائے گا ’’اتنا کہہ کر وہ ایک ڈبے کی طرف لپکا۔ اس کے پیچھے میں اور میرے پیچھے شاہدہ تھی۔ جب تک اس ڈبے تک پہنچتے کھڑکی کا شیشہ گرا دیا گیا۔ میں جھلانے لگا تھا اور دل ہی دل میں سنٹرل ریلوے کو کوسنے لگا، جس نے دو برس پہلے ٹرینوں میں زائد ڈبے لگانے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ اب تک فائلوں میں لال فیتہ سے بندھا پڑا تھا۔ شیشہ بند کھڑکی سے جھانک کر میں نے اندر ڈبے میں دیکھا تو لوگ کھڑکی کی طرف سے منہ پھیرے بیٹھے نظر آئے۔ قلی نے شیشہ تھپ تھپایا مگر کسی نے بھی کھڑکی کی طرف دیکھنے کی حماقت نہیں کی۔ مجھے لگا جیسے سارا اخلاق یہ لوگ گھول کر پی گئے ہیں۔ اور اپنی کھال کو سخت کرلیا ہے اب کے ذرا زور سے شیشہ پیٹا، ایک دیہاتی عورت نے میری طرف دیکھا۔ میں نے اپنی آنکھوں میں ساری تکلیف کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے گود میں سہمی بچی کو دکھلاکر چیخا۔‘‘ دیکھو بہن میرے ساتھ بچے ہیں پلیز۔‘‘ میرا انداز بھیک مانگنے جیسا تھا۔ شاہدہ بھی مجھ سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔ دیہاتی عورت نے اپنے ساتھ بیٹھے مرد سے کچھ کہا مرد نے اپنے دو چار ساتھیوں سے ایسے صلاح و مشورہ کیا۔ جیسے دو ملکوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہونے جا رہا ہو۔ پھر ایک نے بڑھ کر شیشہ اٹھا دیا۔ قلی نے جھٹکے سے یہ بیگ اندر پھینکا۔ پھر اٹیچی کو، شاہدہ کو میں نے اندر دھکیلا۔ پھر منے کو، پھر بچی کو اور آخر میں قلی کی مزدوری دے کر میں اندر داخل ہوگیا۔

اندر پہنچ کر میں نے دیہاتی عورت سے ’’تھینک یو‘‘ کہا۔ وہ مجھے بس سر سے پیر تک گھورتی رہی۔ سگریٹ بیڑی کے دھوئیں سے آنکھیں جلنے لگیں۔ شاہدہ کی گود میں بچی رو پڑی۔ شاید اسے بھوک لگی تھی دیہاتی عورت نے شاہد کو کھینچ تان کر جگہ دی۔ شاہدہ اس کے قریب بیٹھ کر بچی کو دودھ پلانے لگی۔ منے کو گود میں لادے میں پسینے میں شرابور کھڑا تھا۔‘‘ آپ اس بکسے پر بیٹھ جائیے۔‘‘ ایک نوجوان نے مجھ سے کہا۔

میں کھڑکی کے قریب رکھے ٹرنک پر بیٹھ گیا اور منے کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔ کھڑکی سے باہر پلیٹ فارم پر لوگ اب تک ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے۔ گاڑی نے جیسے ہی سیٹی دی ایک نوجوان اٹیچی لٹکائے ہماری طرف کھڑکی کے شیشے پیٹنے لگا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر نظر گھمالی۔ اب ہم اسے اندر کیسے لیتے۔ جگہ ہی کہاں تھی۔ وہ بدستور شیشہ پیٹے جا رہا تھا اور کچھ کہہ بھی رہا تھا۔ میں نے شیشے کی جھری سے منہ لگا کر جھلا کر زور سے کہا۔ ’’آگے نکل جاؤ بھائی۔ آگے بہت جگہ ہے۔‘‘

وہ شیشہ پیٹتا جا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی اور بدحواسی تھی۔ میں نے جلدی سے کھڑکی کی طرف سے منہ پھیر لیا۔

دوسری سیٹی کے ساتھ گاڑی رینگنے لگی اور وہ نوجوان پلیٹ فارم پر گاڑی کے ساتھ چلتے ہوئے پھر دوڑتے ہوئے شیشہ پیٹنے لگا۔ گاڑی نے رفتار پکڑی اور وہ پیچھے چھوٹ گیا۔ گاڑی کے پلیٹ فارم سے نکلتے ہی میں نے کھڑکی کا شیشہ اٹھا دیا اور کمپارٹمنٹ میں ٹھنڈی ہوا کا فرحت بخش جھونکا در آیا۔

کوئی گھنٹہ بھر بعد بریک کی چن چناہٹ کے ساتھ گاڑی رک گئی۔ میں نے کھڑکی سے سر نکال کر اندھیرے میں دیکھا۔ لوگ پیچھے کی طرف جا رہے تھے۔ شاید کسی نے چین کھینچی تھی۔

پندرہ بیس منٹ بعد گاڑی پھر چل پڑی تھی۔

کانپور اسٹیشن پر گاڑی پلیٹ فارم سے لگی۔ بھیڑ یہاں بھی تھی۔ میں کھڑکی سے نیچے اتر آیا۔ اور ابھی آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ وہ دونوں خاکی وردی والے ریلوے کے مہتر اسٹریچر لیے میرے قریب سے گزرے۔ اتنے قریب ہے کہ میں اسٹریچر پر پڑے آدمی کا چہرہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ اسٹریچر پر پڑے آدمی کا چہرہ دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے میرے دماغ پر دو ہاتھ تیزی سے ضربیں لگا رہے ہوں۔ میری آنکھیں دھندلا گئیں۔ مجھے لگا جیسے میں نے اپنی ہی لاش دیکھ لی ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ساجد رشید

Leave a Reply