خونی کھیل

شہتیروں کی آڑی ترچھی لکیروں کے درمیان میں جکڑا رہا۔ پرشگاف دیواریں قہقہہ لگاتی رہیں اور میری آنکھیں بے نور ہوتی چلی گئیں۔ قہقہوں کے دہانوں سے بدبودار دھواں امنڈتا رہا اور سارا ماحول دھند و تاریکی میں ڈوب گیا۔ ہتھیلی پر پھیلے ہوئے صحرا کی وسعتوں میں چند الفاظ کے نامراد کارواں گم ہوگئے اور میں ان کی واپسی کی آس لگائے برسوں بیٹھا رہا۔ قطرہ قطرہ روشنی اور پھر طویل خاموشی کی چادر منجمد احساس کے بدن پر ناکامیوں کے برس کے دھبے ۔۔۔۔ میرے خدا یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ مجروح روحیں کب تک پکارتی رہیں گی؟ سوالوں کے تیز خنجر سروں پر جھولتے رہے اور لہو کا رنگ بدلتا رہا۔

شریانوں میں لہو کی گرمی جاگی تو میں تازہ دم ہوکر کھڑا ہوا اور نئے دن کا سفر شروع ہوا۔ اجاڑ سا ویران دن اپنے سوکھے ہونٹوں پربھوکی پیاسی زبان پھیرتا اور ہوا کی گرمی سے تازگی چوسنے کی ناکام کوشش کرتا دھیرے دھیرے آگے بڑھتا رہا۔ سورج کا چہرہ اترا ہوا تھا اور راستے اندھیروں کی جھولی میں گم ہوتے جا رہے تھے۔ راستوں کے پیچ و خم میرے وزن سے تھرا جاتے اور میرے قدم ایک عجیب سے کپکپی میں ڈوب جاتے۔ میں سنبھلتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔

’’بھوں ۔۔۔۔ بھوں ۔۔۔۔۔‘‘

میں رک گیا۔ اندھیرے میں ڈراؤنی سی آواز تھرتھرائی۔ آنکھیں رفتہ رفتہ تاریکی سے مانوس ہوچلی تھی۔ اپنے چاروں طرف بیشمار خونخوار کتوں کو دیکھ کر میں سہم گیا۔ کتوں کی لمبی زبانیں باہر لٹک رہی تھیں، جس سے خون کے قطرے دھیرے دھیرے ٹپک رہے تھے۔ میں سہما سہما ان کی زد سے بچنے کی کوشش کرتا رہا۔ اندر لرزہ طاری تھا۔ دفعتاً چند کتے مجھ پر جھپٹ ہی پڑے اور میری پنڈلی میں ان کے نوکیلے زہریلے دانت پیوست ہوگئے۔

درد کا دھواں ساری روح کو دھندلا کر گیا۔ پانی کی سطح پر عصا کی ضرب سے راستے بن گئے۔ اور روشنی اطمینان سے دریا پار ہوگئی۔ اندھیرے راستے ہی ڈھونڈتے رہ گئے۔ روشنی آسمان کی وسعتوں سے محو گفتگو ہوئی توساری دنیا جلنے لگی۔ نیل کے کنارے پارسائی کو داغ دار بنانے کی کوشش ہوئی۔ حق و صداقت کو مصلوب کیا گیا اور ریگزاروں میں پتھر برسائے گئے۔ سچائی کہاں کہاں بھٹکے۔۔۔۔۔!

کس کس کا ظلم برداشت کرے۔۔۔۔۔!!

کرب کی لامحدود وسعتوں پر جب آنکھیں نم ہوئیں تو درد کا احساس اور شدید ہوتا چلا گیا۔ میرے سامنے اب دور تک پھیلی ہوئی مایوسیوں کا درد ناک چہرہ تھا۔ بہت سے انسانی پیکر صلیبوں پر جھول رہے تھے۔ درد کی آواز سارے ماحول کو بوجھل بنا رہی تھی۔ صلیبوں پر جھولتے ہوئے انسانی چہرے صاف نظر نہیں آرہے تھے۔ ہر صلیب کے نیچے لٹکے ہوئے انسان کے جسم کا خون بہہ بہہ کر جمع ہو رہا تھا جسے کتے بڑی آزادی سے پی رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے درندگی جھلکنے لگی تھی۔

’’تم ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ دور سے ایک آواز گونجی۔

’’میں ۔۔۔۔ میں وفا ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘ صلیب کی اونچائی سے ایک دھیمی آواز ابھری اور پھر ڈوب گئی۔ کالا ہیولا آگے بڑھا۔ ’’اور تم۔۔۔۔۔؟‘‘

’’مجھے پیار کہتے ہیں ۔۔۔۔؟‘‘

’’ہا ہا ۔۔۔۔۔ہا ۔۔۔۔۔پیار ۔۔۔۔۔ پیار و محبت! تیرے انجام یہ رونا آیا۔‘‘

ہیولا پھر آگے بڑھا۔ ’’اور تم ۔۔۔۔۔؟‘‘ آواز کرخت ہوگئی۔ ’’جی ۔۔۔۔۔؟ میں سچائی ہوں۔‘‘

’’سچائی ۔۔۔۔۔! تیرا ستیاناس ہو۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے وہ بڑھتا آرہا تھا۔ ’’اور تم ۔۔۔۔۔؟‘‘

’’میں انصاف ہوں ۔۔۔۔۔‘‘ ’’ہونہہ ۔۔۔۔۔!‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا ۔۔۔۔۔ ’’اور تم ۔۔۔۔۔؟‘‘

’’نیکی۔۔۔۔۔!‘‘ ’’واہ ۔۔۔۔۔! اور تم ۔۔۔۔۔‘‘

’’ایمان ۔۔۔۔۔!‘‘ ’’ایمان ۔۔۔۔۔ ہونہہ ۔۔۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔۔؟‘‘ ’’شرافت۔۔۔۔۔!‘‘

’’چھوڑ دی میں نے ۔۔۔۔۔‘‘ پھر وہ آگے بڑھا۔۔۔۔۔ ۔۔تمہارا نام ؟‘‘ ’’ذہانت ۔۔۔۔۔!‘‘

’’دھت تیری ماں ۔۔۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔۔؟‘‘

’’میں رحم ہوں ۔۔۔۔۔ دیا ۔۔۔۔۔‘‘

’’دیا ۔۔۔۔۔ یہ اپنا دھرم نہیں۔‘‘ اور پھر سوالات ہی سوالات ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔ آوازیں بدستور آتی رہیں اور میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اندھیرے میں کچھ دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ میری پنڈلیوں سے لہو بہتا رہا۔ دفعتاً ایک بڑی سی صلیب میرے سامنے آگری اور کتوں نے مجھے گھسیٹ کر زبردستی اس پر لٹکا دیا۔ میں ہاتھ پیر مارتا رہا مگر نجات نہ مل سکی اور صلیب پھر اونچی کھڑی کردی گئی۔ میں نے اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ تمام صلیب ہی صلیب تھی۔ میری وحشت بڑھ گئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوئے جب میں نے بغور دیکھا۔ تمام صلیبوں پر میں ہی جھول رہا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو اللیث جاوید

Leave a Reply