نفع

ہر چند کہ شب کی تاریکی ہر سو پھیلی ہوئی تھی لیکن نیند تھی کہ آنکھوں سے کوسوں دور۔۔۔ سوچوں کے سمندر میں ایک طوفان برپا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت ایک سیلاب رواں تھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ آنسو خوشی کے ہیںیا غم کے! میں تو بس چہرے پر ہاتھ رکھے زار و قطار رو رہی تھی۔ نادم، شرمندہ شرمندہ، پشیمان پشیمان۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ ہم ایک پروگرام میں مدعو تھے۔ دل میں ارادہ تھا کہ آخر میں کچھ رقم اللہ کی راہ میں دینی ہے۔ اس کے بعد دانت میں بے حد درد کی وجہ سے واپسی پر ڈاکٹر کا دوسرا اپوائنمنٹ تھا اور روٹ کینال شروع ہونا تھا، پھر بیٹے حسان کے بھی تبدیلیِ موسم کے حساب سے کچھ کپڑے لینے تھے۔ تھوڑی دیر کو ذہن بھٹکا: ’’ارے ابھی تو خرچے بہت ہیں، نیک کام پھر سہی۔‘‘ لیکن فوراً ہی سارے خیالات رد کر کے سوچا ’’سب سے اشد اور ضروری یہی کام ہے۔ نیک کام میں بھلا دیر کیسی؟‘‘ استغفار پڑھی اور ساری رقم دے ڈالی۔ بوجھل ذہن و دل مطمئن ہوگئے۔ پھر بھاگم بھاگ ڈینٹل کلینک پہنچے اور قدرے بے زار سے ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔

باری آنے پر ڈاکٹر صاحبہ نے سلام و دعا کے بعد جلدی سے اپنی مجبوری بتا دی کہ ٹریٹمنٹ تو آج شروع کردیں، رقم ہم کل ہی دے پائیں گے۔ ظاہر ہے ہم تو تھے ہی دانتوں کے جملہ امراض کے مریض۔ ڈاکٹر صاحبہ سے اچھی خاصی واقفیت تھی۔ انھوں نے قدرے لاتعلقی سے فرمایا: ’’نو پرابلم، چلئے پہلے آپ کے دانت کا ایکسرے کرلیتے ہیں، پھر کام شروع۔‘‘

پہلے ایک پھر دوسرا، یکے بعد دیگرے ایکسرے نکلے۔ ہم نے ڈرے اور سہمے ہوئے دل سے پوچھ ہی لیا ’’ڈاکٹر صاحبہ آخر ماجرا کیا ہے؟‘‘ دل نے کہا یقینا ضرور دال میں کالا ہے۔ لگ رہا تھا کہ ستم بالائے ستم یعنی یک نہ شد دو شد، یقینا دو دانتوں کا علاج کروانا پڑے گا۔ یہ سانحہ ہمارے ساتھ کئی دفعہ وقوع پذیر ہوچکا تھا۔ ’’نہیں بی بی آپ کا اِن فکشن تو ٹھیک ہوچکا ہے۔ روٹ کینال کی ضرورت نہیں ہے۔ بس کچھ دوائیں اور کھا لیں۔‘‘

خوشی خوشی گھر کو لوٹے تو ہماری بہن ثمینہ آئی ہوئی تھی۔ شاید اسے آئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی۔ شکل دیکھتے ہی جلدی سے بیٹے حسان کے کپڑے دکھانے لگی: ’’باجی میں یہ حسان کے لیے تحفے میں لائی ہوں۔‘‘

’’کیوں بھئی!‘‘ ہم نے کہا تو اس نے کہا: ’’وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہے اس لیے۔‘‘

پھر دیگر کاموں سے فارغ ہوکر عشاء کی نماز پڑھی۔ جاء نماز پر ہی بیٹھے بیٹھے دن بھر رونما ہونے والے واقعات کی گتھیاں سلجھ گئی تھیں۔ دل بے قرار کو قرار آچکا تھا۔ سب کچھ صاف صاف عیاں تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کہ ایک کے بدلے دس دوں گا۔ میری راہ میں خرچ کرو، مجھ سے کاروبار کرو۔ چار سو روپے دے کر میرے چار ہزار سے زیادہ روپے بچ گئے۔ کاش کہ ہم سب اس پر عمل کریں اور نفع ہی نفع کمائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
روبینہ اعجاز

Leave a Reply