حسن تو شرم اور حیا میں ہے!

خوبصورتی ہر ایک کو پرکشش لگتی ہے مگر حد سے بڑی ہوئی ہر چیز بری ہو جاتی ہے۔ سجنا، سنورنا اور اپنے خدوخال کو دلکش روپ دینا ازل سے عورت کی تمنا رہی ہے اور اپنی اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ ہمیشہ سے ہزاروں جتن کرتی آئی ہے مگر آج کی عورت نے اس خوبصورتی کو پانے کے لیے ہر حد پار کردی ہے وہ لباس کی تراش خراش میں گھنٹوں ضائع کردیتی ہے۔ استطاعت نہ ہونے کے باوجود نت نئے کپڑے، جیولری اور بیوٹی پارلر جانا، عورت کا معمول بن چکا ہے اور یہ سب باتیں مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک مسلمان عورت خود کو خوب صورت دیکھنے کے لیے مغربی لباس کا استعمال کرتی ہے، ان کے طور طریقے اپناتی ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود اسلام نے عورت کو سجنے سنورنے سے منع نہیں کیا مگر عورت کے بناؤ سنگھار اور اس کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں۔

آج ہمارے معاشرے کی عورتیں اسلام کی بجائے مغرب کی پیروی کر رہی ہیں۔ یہ عورتیں مردانہ کپڑے پہنے، غیر اخلاقی لباس میں دو پٹوں سے بے نیاز ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی عورتوں کو سخت ناپسند کیا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ آج کی مسلمان عورت نے حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کو رول ماڈل بنانے کی بجائے فلمی دنیا کے ستاروں کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے۔ یہ عورت آج اسلام کانام روشن کرنے کے بجائے مغربی تہذیب کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن گئی ہے۔ یہ عورت جتنا مغرب کے رنگ میں ڈھلتی جاتی ہے، خود کو ماڈرن تصور کرتی ہے حالاں کہ ماڈرن ہونے کا مطلب بے حیائی نہیں ہے۔ خوبصورتی کا مطلب فحاشی نہیں۔ آج کی عورت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے جہنم کی آگ تیار کر رہی ہے اور خود کو تباہی کے دہانے پر لے گئی ہے۔ عورت بیٹی بھی ہے، بیوی بھی، بہن بھی اور ماں بھی۔ جب ایک بیٹی کے روپ میں ہوتی ہے تو اپنے گھر والوں کے لیے خدا کی رحمت کہلاتی ہے۔ جب بیوی کا روپ دھارتی ہے تو مرد کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خوبصورت تحفہ ہوتی ہے اور جب ماں بنتی ہے تو اپنے قدموں تلے جنت رکھتی ہے مگر یہ تمام درجے اس عورت کے پاس ہوتے ہیں جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتی ہے اور وہ عورت جو اپنے رب کی پیروی نہیں کرتی وہ بیٹی کے روپ میں ایک مصیبت اور بدترین تحفہ بھی ہوسکتی ہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کی ہر عورت اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائے۔ اللہ تعالیٰ کے دیے گئے احکامات پر عمل کرے۔lllخوبصورتی ہر ایک کو پرکشش لگتی ہے مگر حد سے بڑی ہوئی ہر چیز بری ہو جاتی ہے۔ سجنا، سنورنا اور اپنے خدوخال کو دلکش روپ دینا ازل سے عورت کی تمنا رہی ہے اور اپنی اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ ہمیشہ سے ہزاروں جتن کرتی آئی ہے مگر آج کی عورت نے اس خوبصورتی کو پانے کے لیے ہر حد پار کردی ہے وہ لباس کی تراش خراش میں گھنٹوں ضائع کردیتی ہے۔ استطاعت نہ ہونے کے باوجود نت نئے کپڑے، جیولری اور بیوٹی پارلر جانا، عورت کا معمول بن چکا ہے اور یہ سب باتیں مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک مسلمان عورت خود کو خوب صورت دیکھنے کے لیے مغربی لباس کا استعمال کرتی ہے، ان کے طور طریقے اپناتی ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود اسلام نے عورت کو سجنے سنورنے سے منع نہیں کیا مگر عورت کے بناؤ سنگھار اور اس کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں۔

آج ہمارے معاشرے کی عورتیں اسلام کی بجائے مغرب کی پیروی کر رہی ہیں۔ یہ عورتیں مردانہ کپڑے پہنے، غیر اخلاقی لباس میں دو پٹوں سے بے نیاز ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی عورتوں کو سخت ناپسند کیا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ آج کی مسلمان عورت نے حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کو رول ماڈل بنانے کی بجائے فلمی دنیا کے ستاروں کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے۔ یہ عورت آج اسلام کانام روشن کرنے کے بجائے مغربی تہذیب کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن گئی ہے۔ یہ عورت جتنا مغرب کے رنگ میں ڈھلتی جاتی ہے، خود کو ماڈرن تصور کرتی ہے حالاں کہ ماڈرن ہونے کا مطلب بے حیائی نہیں ہے۔ خوبصورتی کا مطلب فحاشی نہیں۔ آج کی عورت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے جہنم کی آگ تیار کر رہی ہے اور خود کو تباہی کے دہانے پر لے گئی ہے۔ عورت بیٹی بھی ہے، بیوی بھی، بہن بھی اور ماں بھی۔ جب ایک بیٹی کے روپ میں ہوتی ہے تو اپنے گھر والوں کے لیے خدا کی رحمت کہلاتی ہے۔ جب بیوی کا روپ دھارتی ہے تو مرد کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خوبصورت تحفہ ہوتی ہے اور جب ماں بنتی ہے تو اپنے قدموں تلے جنت رکھتی ہے مگر یہ تمام درجے اس عورت کے پاس ہوتے ہیں جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتی ہے اور وہ عورت جو اپنے رب کی پیروی نہیں کرتی وہ بیٹی کے روپ میں ایک مصیبت اور بدترین تحفہ بھی ہوسکتی ہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کی ہر عورت اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائے۔ اللہ تعالیٰ کے دیے گئے احکامات پر عمل کرے۔

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ صدف

Leave a Reply