امن

اسلم : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اختر : و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اسلم : تعلیم سے فراغت کے بعد جناب کی کیا مصروفیات ہیں؟

اختر : ایک بہت بڑے انقلاب کی کوشش میں ہوں

اسلم : کیسا انقلاب بھائی!

اختر : میں چاہتا ہوں کہ سارے انسان معاشی اعتبار سے برابر ہوجائیں اور دنیا میں امن قائم ہوجائے۔

اسلم : خوب ابھی میرے ساتھی امن کے تعلق سے کچھ سنا رہے تھے۔

اختر : وہ کیا ہے ذرا سنائیے۔

ارشد : امن ۔۔۔ ایک نعرہ ہے! جو ہر لڑاکو نے اختیار کرلیا ہے۔

امن ۔۔۔ ایک شور ہے! جس کے پیچھے خوفناک جنگوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

امن ۔۔۔ ایک پیشہ ہے! جو بے شمار مفسدوں کا ذریعہ معاش ہے۔

امن ۔۔۔ ایک ہتھیار ہے! جس کے بل پر قومیں ایک دوسرے پر حملہ کرتی ہیں۔

امن۔۔۔ ایک لبادہ ہے! جسے ہر جنگجو اوڑھنے پر مجبور ہے۔

غرض یہ کہ آج پوری دنیا امن کی آگ میں جل رہی ہے اس لیے شاید اب تیسری جنگ عظیم نہ ہو۔

امن زندہ باد۔ امن پائندہ باد۔

اسلم : عجیب بات ہے، فطرت کے خلاف ایسا انقلاب؟ جو آپ فرما رہے ہیں ناممکن ہے۔ بھلا بتائیے تو کیا دن کو رات سے بدلا جاسکتا ہے۔

اختر : چھوڑو دوست وہی پرانی باتیں کیا دیکھتے نہیں کہ آج دنیا کی ہر معاشی پالیسی میں دولت مند حد سے زیادہ دولت جمع کرلے رہا ہے اور غریب غربت کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہے۔

اسلم : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بندوق کی گولی سے انقلاب لایا جاسکتا ہے اور دنیا میں معاشی مساوات سے غربت کو امیری میں بدلا جاسکتا ہے۔

اختر : مطلب نہیں سمجھا!

اسلم : دلوں پر حکومت کی کوشش کرو تو امیر، امیر نہ رہے۔ اور غریب کو غربت کا احساس نہ ہو۔

اختر : وہ کون سا معاشی نظام ہے، جو ایسا انقلاب لاسکتا ہے اور دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

اسلم : وہ معاشی نظام جیسے مالک ارض و سماء نے قرآن کے ذریعے دیا اور حضورﷺ نے عملی طور پرنافذ فرما کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیا تھا۔ آج بھی اس پر عمل کر کے دنیا کو پھر ایک بار امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔

اختر : شکریہ بھائی آپ نے اچھی رہنمائی فرمائی۔

اسلم : ارے بھائی اس میں شکریہ کے ساتھ بحیثیت مسلم میری ذمہ داری ہے۔

اختر : اچھا اللہ حافظ۔ فی امان اللہ۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد عبد الرشید منظر لطیفی (کریم نگر، اے پی)

Leave a Reply