دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو

ایک زمانہ تھا جب کہ صبح صبح گلی کوچوں میں مکانوں سے تلاوت کلام پاک کی آواز آیا کرتی تھی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بچے اپنا سبق یاد کرتے چلے جا رہے ہیں اور انھیں راستے کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔ اسی زمانے میں گھر گھر چھوٹے چھوٹے مکتب ایک ایک محلے میں کئی کئی کھلے ہوتے تھے۔ ان میں آپس میں کوئی نظم نہیں تھا لیکن ہماری خواتین کو پڑھنے کا ہی نہیں پڑھانے کا بھی بڑا شوق تھا گوکہ یہ شوق قرآن حکیم کی تعلیم ہی تک محدود تھا یا اس میں کہیں کہیں اردو بھی شامل تھی۔ اس وقت کی محبوب ترین کتاب ابر رحمت یا تعلیم الاسلام تھی۔ رفتہ رفتہ ان بڑی عورتوں کی جگہ لینے والا کوئی آگے نہیں بڑھا اور بس جو چراغ گل ہوا پھر نہ جل سکا اور اس طرح ہمارے گھر ہی نہیں محلے اور گاؤں کے گاؤں ظلمت کدہ بن گئے۔ اور فی زمانہ تعلیم کا طوفان اٹھا تو اس طرح ہماری نسلیں اردو سے نہ آشنا، قرآن سے نابلد، تاریخ اسلام سے یکسر ناواقف۔ انٹر اور ہائی اسکول کے طلبہ طالبات ہی نہیں گریجویشن کے طلبہ تک اردو اور اپنی تاریخ نہیں جانتے۔ جب پوچھتے ہیں تو جواب ہوتا ہے ہمارے اسکول میں اردو تھی ہی نہیں۔ وہ جو خود رَو ہرا بھرا جنگل اُگ رہا تھا وہ روشن مستقبل کے خوابوں کی نذر ہوگیا اور اس کے حصول کے لیے ہم نے سودا اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنی روایات ہی سے کیا۔ ہماری ضروریات وہی ہیں لیکن وقت کا مزاج اور اپنی قدروں کے حصول کے لیے اس کے تقاضے بدل گئے۔

اب حصولِ تعلیم کی آسانیاں اور سہولتیں پہلے سے زیادہ ہیں۔ نسلوں میں ذہانت بھی بلا کی ہے۔ ایسی صورت میں تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنی قدروں اپنی تاریخ اپنے نصب العین سے پہلے سے زیادہ قریب ہوتے اور اس کے حصول کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے لیکن ہوا یہ کہ ہمارے تشخص کی تمام قدریں پس منظر میں جا پڑیں اور ہم بھی اسی دوڑ میں اسی طرح شامل ہوگئے جیسے اور ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ احساس زیاں کسی نہ کسی نوعیت میں باقی ہے اس احساس کو غنیمت جانتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گھر گھر بستی بستی حصول تعلیم کا صور پھونک دیں ہمارا اپنی قدروں اور تشخص کے لیے پیچھے کی طرف دوڑنا آگے ہی بڑھنے کے مترادف ہوگا البتہ اس کا عنوان یہ ہی ہوگا:

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد داؤد (نگینہ)

Leave a Reply