حضرت سہلہؓ بنت سہیلؓ

حضرت سہلہؓ کا شمار نہایت عظیم المرتبت صحابیات میں ہوتا ہے۔ وہ قریش کے خاندان بنی عامر بن لویٔ سے تھیں۔

حضرت سہلہؓ کے والد سہیلؓ بن عمرو رؤسائے قریش میں سے تھے اور اپنی فصاحت لسانی کی بدولت خطیب قریش کے لقب سے مشہور تھے۔ وہ اپنی فصیح و بلیغ اور زور دار تقریروں سے بڑے بڑے مجمعوں کو متحرک کردیتے تھے۔ بدقسمتی سے ان کا سارا زور بیان اور ملکۂ خطابت فتح مکہ تک اسلام کے خلاف صرف ہوتا رہا۔ خدا کی قدرت سہیل جس قدر اسلام کی مخالفت میں سرگرم تھے، ان کی اولاد اسی قدر اسلام کی شیدا اور اس سے محبت رنے والی تھی۔ ان کی دو بیٹیاں سہلہؓ اور ام کلثومؓ اور دو بیٹے عبد اللہؓ اور ابو جندل عاصؓ ان سعادت مند روحوں میں سے تھے، جنھوں نے بعثت کے بالکل ابتدائی زمانے میں دعوت توحید پر لبیک کہا۔ حضرت سہلہؓ کی شادی رئیس قریش عتبہ بن ربیعہ کے فرزند ابو حذیفہ ہیشمؓ سے ہوئی۔ وہ بھی سابقین اولین کی مقدس جماعت میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے۔ دونوں میاں بیوی قریش کے مقتدر خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود کفار کے مظالم سے محفوظ نہ رہ سکے اور سن ۵ بعدِ بعثت میں حضور کی ایماء پر حبش کی طرف ہجرت کر گئے۔ وہاں دو تین مہینے ہی گزرے تھے کہ انہوں نے رسولِ اکرمﷺ اور مشرکین قریش کے مابین صلح ہوجانے کی خبر سنی۔ یہ خبر سن کر وہ چند دوسرے مہاجرین حبشہ کے ہمراہ عازم مکہ ہوگئے۔ ابھی مکہ کے راستے میں ہی تھے کہ انہیں اس خبر کے غلط ہونے کی اطلاع ملی۔ لیکن اب انہوں نے واپس جانا مناسب نہ سمجھا اور امیہ بن خلف کی حمایت حاصل کرکے مکہ میں داخل ہوگئے۔

علامہ طبریؒ کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضرت سہلہؓ اور حضرت ابو حذیفہؓ ہجرتِ مدینہ تک مکہ ہی میں مقیم رہے لیکن ابن اسحاقؒ اور بعض دوسرے اہل سیر نے لکھا ہے کہ وہ سن ۶ بعدِ بعثت میں دوبارہ ہجرت کر کے حبش چلے گئے۔ وہیں ان کے فرزند محمدؓ بن ابو حذیفہؓ پیدا ہوئے۔

حضوؐر کی ہجرت الی المدینہ سے کچھ عرصہ پہلے ۳۳ مردوں اور آٹھ عورتوں پر مشتمل ایک جماعت حبشہ سے مکہ واپس آگئی۔ اس میں حضرت سہلہؓ حضرت ابو حذیفہؓ اور ان کے فرزند محمدؓ بھی شامل تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب حضوؐر نے صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی تو حضرت سہلہؓ، ان کے شوہر اور فرزند اپنے آزاد کردہ غلام حضرت سالمؓ کے ہمراہ مکہ سے مستقل ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے اور پھر ساری زندگی وہیں گزاری۔ حضرت سالمؓ جو سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ کے نام سے مشہور ہیں، اصل میں حضرت ابو حذیفہؓ کی ایک دوسری بیوی حضرت تبیتہؓ بنت یعار انصاریہ کے غلام تھے انھوں نے آزاد کردیا، تو حضرت ابو حذیفہؓ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا اور وہ لوگوں میں سالمؓ بن ابو حذیفہؓ کے نام سے مشہور ہوگئے لیکن جب یہ حکم نازل ہوا: ادعوھم لابائھم یعنی لوگوں کو اپنے اصل باپوں کی نسبت سے پکارو، تو لوگ حضرت سالم رضی اللہ عنہ کو سالمؓ مولیٰ ابو حذیفہؓ کہنے لگے۔

مسند ابو داؤد میں ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابو حذیفہؓ کو حضرت سالمؓ کا اپنے گھر میں آنا جانا ناگوار گزرنے لگا۔ چناں چہ حضرت سہلہؓ، سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا:

’’یا رسول اللہ (ﷺ) سالم کو ہم اپنا بیٹا سمجھتے تھے اور وہ بچپن سے ہمارے گھر میں آتا جاتا تھا، لیکن اب ابو حذیفہؓ کو اس کا ہمارے گھر میں داخل ہونا ناگوار گزرتا ہے۔‘‘

ارشاد ہوا: اس کو اپنا دودھ پلا دو، تو وہ تمہارا محرم ہوجائے گا۔ غرض اس طرح حضرت سالمؓ، حضرت ابو حذیفہؓ اور حضرت سہلہؓ کے رضاعی فرزند ہوگئے۔

ام المومنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ یہ صرف حضرت سالمؓ کے لیے مخصوص اجازت تھی۔ ورنہ جوانی کی حالت میں رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

حضرت ابو حذیفہؓ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عہد خلافت میں یمامہ کی مشہور جنگ میں شہادت پائی۔ ان کی شہادت کے بعد کچھ عرصہ بعد حضرت سہلہؓ نے حضرت عبد الرحمنؓ بن عوف سے نکاح کرلیا۔

سالِ وفات اور مزید حالات کتابوں میں نہیں ملتے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
طالب ہاشمی

Leave a Reply