لفافہ

حجاب کے نام

والدین کا اولاد سے تعلق

ماہ ستمبر ک حجاب اسلامی خوب صورت ہے۔ مضامین اچھے ہیں۔ ’’بچوں کے جھگڑے اور والدین‘‘ اچھا لگا۔ خواتین کے استحصال کی شکلوں پر جو تحریر ہے وہ دنیا میں تہذیبی و ثقافتی استعماریت کی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔

اولاد کی سخت دلی پر سمیر یونس کی مترجم تحریر پسند آئی۔ یہ تحریر اس حیثیت سے اہم ہے کہ بھاگتی دوڑتی زندگی میں والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں۔ اس لیے نہ تو ان کی مناسب رہنمائی ہوپاتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے والدین سے مانوس ہوتے اور ان کی محبت کا مزہ چکھ پاتے ہیں۔ ایسے میں جب وہ اپنی دنیا آپ بنانے لگتے ہیں تو والدین کو شکایت ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنی محبت اور پرخلوص محبت کا احساس کرائیں اور زندگی کے ہر مرحلے میں ان کی رہنمائی کریں۔ اگر اولاد کا والدین سے مضبوط تعلق قائم ہوگیا تو یہ کیفیت ان شاء اللہ نہ ہوگی جس کا مضمون میں تذکرہ ہے۔

فرید الاسلام تمکین

نیاریان، فیروز آباد (یوپی)

ستمبرکا شمارہ

ستمبر کا شمارہ حسین رنگوں کا امتزاج کے ساتھ موصول ہوا۔ ویسے تو سبھی مضامین قابل مطالعہ اور کارآمد ہیں جو حجاب اسلامی کی خصوصیت ہے، لیکن عنیزہ طارق کا افسانہ تحفہ بہت ہی خوب ہے۔ بے شک عبایا کے کئی فوائد ہیں۔ جسے محترمہ نے خوبصورت طریقے سے پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ مضر صحت کھانے ڈاکٹر آمنہ فرید کی کارآمد تحریر پڑھ کر علم میں اضافہ ہوا۔

واصفہ غنی

نیو قاضی محلہ، اورنگ آباد (بہار)

ایک تبصرہ

عرض خدمت یہ ہے کہ حجاب اسلامی ماہنامہ میں پہلے کی سی بات نہیں رہی۔ وہ اثر پذیری، مقصدیت باقی نہیں۔ کوئی مضمون کسی عنوان پر ہو قرآن و احادیث اور سیرت وغیرہ سے مدلل نہیں چھپ رہے ہیں۔ بس کسی طرح ماہنامہ حجاب چھاپنا ہے، کچھ مضامین کچھ افسانے جمع کرلو اور چھاپ دو چلو اس مہینہ کا پرچہ نکل گیا اور آپ نے اطمینان کا سانس لے لیا۔ نہ تاثر بنتا ہے۔

اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ مقصد کو سامنے رکھئے ۔ نصف انسانیت کے لیے ماہنامہ نکال رہے ان کے اپنے مسائل، ان کی حالت اور ان کی دلچسپیاں، پھر ان کا نظریہ اسلامی سے ہٹ جانا کتنی ہی باتیں ہیں جن کو سامنے رکھ کر مضامین مقالات چاہے مختصر کیوں نہ ہوں لکھے جاسکتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی حجاب میں کوئی اچھا سا افسانہ یا مضمون آجاتا ہے ورنہ اب صرف ایک اردو کا ماہنامہ ہوکر رہ گیا۔ امید کہ غور فرمائیں گے۔

ڈاکٹر محمد حبیب الرحمن

گلبرگہ (کرناٹک)

[ڈاکٹر صاحب! آپ کی تحریر ماہنامہ حجاب اسلامی سے پرخلوص تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ آپ نے وقت نکال کر اپنی رائے سے آگاہ فرمایا۔ ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔لیکن ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حجاب اسلامی سے جو مقصد حاصل کرنا ہے وہ ہمہ وقت ہمارے سامنے ہے۔ جہاں تک اثر پذیری کا تعلق ہے تو یہ انسانوں کے ہاتھ میں نہیں۔ دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کب کس دل کو اللہ تعالیٰ متاثر کردے کہا نہیں جاسکتا۔

ہماری مشکل یہ ہے کہ آپ کے خط سے ہم صرف آپ کا تاثر جان پا رہے ہیں لیکن حجاب اسلامی کو مزید بہترببانے کے لیے کن خطوط پر مزید کام کرنا ہے آپ کے خط سے ظاہر نہیں ہوتا۔ براہ کرم کچھ عملی رہنمائی فرمائیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ ایڈیٹر]

ساس بہو کے جھگڑے

اکتوبر کا حجاب اسلامی سامنے ہے ۔ ’’بیٹی اور بہو میں فرق کیوں؟‘‘ مضمون بہت پسند آیا۔ ساس اور بہو کے جھگڑے ہمارے معاشرے میں عام بات ہیں اور اکثر خاندانوں میں اسی کے سبب ٹوٹ پھوٹ واقع ہوتی رہتی ہے۔

مذکورہ مضمون میں ندرت شاہین نے جن اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ دراصل اسلام ہی کی معاشرتی تعلیمات ہیں جن سے آج خود مسلمان ناواقف ہیں اور ان کے گھروں کی بھی وہی حالت ہے جو دوسروں کے گھروں کی۔

اس سلسلے میں ایک اہم بات ماؤں کا دوہرا معیار بھی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو تو ہر رعایت دیتی ہیں اور اس کے لیے اس کی سسرال والوں سے جنگ بھی کرنے کو تیار رہتی ہیں مگر اپنے گھر کی بہو کو اس کے بنیادی انسانی حقوق بھی دینے کو راضی نہیں یہی اصل جھگڑے کی جڑ ہے۔

اگر مضمون کو معاشرتی زندگی میں عملاً برتا جائے تو ایک اچھا ماحول تیار ہوسکتا ہے۔

صوفیہ رحمن

(بذریعہ ای میل)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply