شہد

شہد نیم گرم پانی میں ڈال کر لیا جائے تو صرف ۷ منٹ میں دورانِ خون میں داخل ہوجاتا ہے اور جب ٹھنڈے پانی کے ساتھ پیا جائے ۲۰ منٹ میں۔ اس میں پائے جانے والے شکر کے آزاد سالمے دماغ کی کارکردگی کو آسان بناتے ہیں۔

خون پیدا کرنے میں مدد دینا

شہد نیا خون بنانے میں توانائی کے ذخیرے کا کردار ادا کرتا ہے اور خون کی کمی کے مریضوں میں اس عمل کو تیز کرنے میں معاون ہے۔ یہ خون کی صفائی اور اس کے مقوی ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس سے خون کی گردش باقاعدہ ہوتی ہے۔ یہ خون کی چھوٹی نالیوں کے عوارض میں بھی مفید ہے۔

معدے کا دوست

شہد تیزابیت یا تخمیر کا باعث نہیں بنتا کیونکہ یہ جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر موجود آزاد ذرات چکنائی کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ماں اور گائے کے دودھ میں آئرن کے نہ ہونے کو بھی پورا کردیتا ہے۔ آنتوں کے عمل کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یہ اندرونی سکون کا بھی باعث ہے اور بھوک میں اضافہ کرتا ہے۔

رائل جیلی

رائل جیلی چھتے کے اندر کارکن مکھیوں کا بنایا ہوا سفید سیال مادہ ہے۔ اس قوت بخش مادے میں شکر، لحمیات، چکنائی اور بہت سے حیاتین پائے جاتے ہیں۔ یہ جسم کی کمزوری اور بڑھاپے کے جسمانی اثرات جیسے مسائل میں استعمال ہوتا ہے۔

جراثیم کش خصوصیات

شہد کی یہ خصوصیت مزاحمتی اثر کہلاتی ہے۔ شہد پر کیے گئے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جراثیم کش اثرات، شہد کو پانی میں ملا کر پتلا کرکے پینے سے دوگنے ہو جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہد کی وہ مکھیاں جو نوزائیدہ مکھیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، وہ بھی ان کو پتلا شہد ہی پلاتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply