عینک

بڑھاپے میں نظر کی حفاظت

انسان جب بوڑھا ہونے لگتا ہے تو اس کے جسمانی اعضا کمزور ہو جاتے ہیں۔ اہم ترین اعضا میں ہماری آنکھیں بھی شامل ہیں۔ ماہرین امراض چشم کی رو سے بڑھاپا سب سے پہلے پردہ بصارت (Retina)پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پردہ بصارت آنکھوں کے ڈھیلوں کی پشت پر موجود ایک جھلی ہے۔ اس جھلی میں ہی روشنی کے حساس خلیے ہمیں نظر آنے والا منظر پیدا کرتے ہیں۔ یہ منظر پھر کیمیائی اور برقی پیغام بروں کے براہ عصبی نس (Optic nerve) کے ذریعے دماغ میں پہنچتا ہے۔ یوں ہم منظر دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

بڑھاپے میں عموماً ذیابیطس بھی حملہ کرتا ہے۔ اگر یہ قابو سے باہر ہو جائے، تو آنکھوں کی ایک بیماری ’’ذیابیطس شبکیہ مرض‘‘ (Diabetic retinopathy) جنم دیتا ہے۔اس بیماری میں عصبی نس اور پردہ بصارت پر خون کی نئی غیرمعمولی رگیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ خون کی یہ ابنار مل رگیں اکثر پھٹ کر آنکھوں میں خون پھیلا دیتی ہیں، تاہم یہ درد پیدا نہیں کرتیں۔ جو بوڑھے 10سال یا زیادہ عرصہ ذیابیطس کا شکار رہیں، ان میں ذیابیطس شبکیہ مرض کی کوئی نہ کوئی صورت جنم لیتی ہے۔

اس مرض کے ابتدائی مرحلے، پس منظر شبکیہ مرض (Background retinopathy)میں نظرمعمول کے مطابق رہتی ہے۔تاہم مرض کی شدید حالت، کثیر ذیابیطسی (Proliferative Diabetic) شبکیہ مرض اچانک حملہ کرتی ہے… اگر بروقت علاج نہ ہو تو انسان اندھا بھی ہو سکتا ہے۔ ماہر امراض چشم ڈاکٹر کامران زاہد کا کہنا ہے ’’اگر یہ مرض جلد دریافت ہو جائے تو سرجری یا لیزر کے مروجہ علاجی طریقوں سے اس پر قابو پانا آسان ہے۔‘‘ تاہم یہ مرض اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ یہ بہت جلد اور تیزی سے مریض کو دبوچتا ہے۔ حتی کہ نظر دھندلاجاتی ہے۔ چنانچہ اس مرض پر قابو پانے کا گریہ ہے کہ اسے جلد شناخت کر لیا جائے۔

بیش تنائو یا ہائپرٹینشن بھی متوسط عمر سے مرد و زن کو عموماً چمٹ جاتا ہے۔ یہ بیماری بھی پردہ بصارت کو نقصان پہنچاتی اور’’ بیش تنشی‘‘ (Hypertension) شکبیہ مرض پیدا کرتی ہے۔ اس بیماری میں بھی خون کی ابنارمل حسیں جنم لیتی ہیں اور اکثر پردہ بصارت یا عصبی نس سوج جاتی ہیں۔ کبھی کبھی پردہ بصارت کی شریانوں میں خون کی فراہمی نہیں ہو پاتی۔ ایسی صورت میں بصارت ختم ہو سکتی ہے۔ اس مرض کا علاج بیش تنائو دور کر کے کیا جاتا ہے۔ نیز شریانیں بند ہوں تو بذریعہ سرجری یا لیزر ان کا علاج ہوتا ہے۔

بڑھتی عمر کے باعث ایک بیماری ’’بھڑک اور روشنیاں‘‘ (Flashes & Floators) بھی انسان کو نشانہ بناتی ہے۔اس مرض میں دیکھتے ہوئے متحرک دھبے سامنے آ جاتے اور منظر میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ بظاہر یہ مرض بصارت کو نقصان نہیں پہنچاتا لیکن یہ ایک خطر ناک بیماری، شبکیاتی علیحدگی (Retina Detachment) کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔ اس بیماری میں پردہ بصارت پر شگاف پڑتا ہے کہ آنکھ کا محلول اسے ڈھیلے سے جدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ یہ عمل جب مکمل ہو جائے، تو انسان کی بینائی جاتی رہتی ہے۔

اگر شبکیاتی علیحدگی چمٹ جائے یا پردہ بصارت بھڑک پڑے تو سرجری یا لیزر طریقہ علاج کے ذریعے صحت یابی ملنا ممکن ہے۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ آپریشن بھی ہوتا ہے تا کہ خرابی مکمل طور پر کافور ہو جائے۔ اس بیماری کا بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ نظر کمزور کردیتی ہے۔ چنانچہ بوڑھے مرد وزن کو چاہیے کہ وقتاً فوقتاً اپنی آنکھوں کا معائنہ کراتے رہیں۔

۰۵ برس سے بڑے خواتین و حضرات میں بینائی کا ایک خلل ’’منسلک بہ جلدی انحطاط (Age related macular degenration) بھی عام ہے۔ اگر مریض سگریٹ نوشی کرتا اور موٹاپے و امراض قلب میں مبتلا ہے، تو اس مرض چشم کے چمٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔اس کی ابتدائی علامات میں نظر دھندلا جانا اور ارتکاز(فوکس) میں خرابی شامل ہیں۔ اس بیماری میں ڈھیلے کی جلد سوج جاتی ہے اور خون بھی رستا ہے۔ ماہرین امراض چشم ایک طبی ٹیسٹ ’’فلور سکین انجیو گرافی‘‘ (Fluorescien Angiography) کے ذریعے یہ بیماری دریافت کرتے ہیں۔ بطور علاج آپریشن ہوتا ہے تاہم ایسی ادویہ بھی دستیاب ہیں جو آنکھوں میں ڈالی جاتی ہیں تا کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں۔

اس مرض میں مبتلا مرد وزن کو چاہیے کہ وہ سگریٹ نوشی فوراً بند کردیں نیزسمارٹ ہونے کی کوشش کریں۔ بعض ڈاکٹر وٹامن کھلاتے ہیں تا کہ بیماری جلد کافور ہو جائے۔ مزید براں مریض کو چاہیے کہ وہ پتوں والی سبزیاں کھائے جو مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آخر میںیاد رکھیے، سال میں ایک مرتبہ آنکھوں کا طبی معائینہ ضرور کرائیے۔ بینائی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اسے کھو کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ چنانچہ اس کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔

مادہرین نے گزشتہ4 برس میں 40 تحقیقات کا جائزہ لے کر انکشاف کیا ہے کہ اگر انسان روزانہ صرف 30 منٹ پیدل چلے، تو25مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ راز یہ ہے کہ آپ جتنا زیادہ چلیں گے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہو گا۔ چلنے کے نمایاں فوائد یہ ہیں: ٭ وزن میں کمی: اگر60 کلو وزن والا آدمی یا عورت روزانہ آدھ گھنٹہ تیزی سے چلے، تو اس کے 150 حرارے جلیں گے۔ یوں یہ عمل کبھی اسے فربہ نہیں ہونے دے گا۔

آنتوں کے سرطان سے حفاظت: سرطان (کینسر) کی جدید تحقیق کرنے والے برطانوی رسالے، برٹش جرنل آف کینسر میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ جو مرد وزن باقاعدگی سے پیدل چلتے اور ورزش کرتے ہیں، ان کی آنتوں یا معدے میں ایسے گومڑے جنم نہیں لیتے جو بعدازاں سرطانی گٹھلیوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ امراض قلب میں کمی:۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امراض قلب کی بیشتر اقسام غیر محترک رہنے سے جنم لیتی ہیں۔ چنانچہ چہل قدمی دل کی بیماریاں دور رکھتی ہیں۔

ازدواجی زندگی میں فائدہ:۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردوں میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن آدمی جسمانی طور پر مستعد رہے تو وہ بڑھاپے میں بھی اپنی طاقت خاصی حد تک بحال رکھتا ہے۔ چلنے سے ہڈیوں کی ورزش ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ خصوصاً خواتین ہڈیوں کی بوسیدگی (اوسٹیوپوروسیز) مرض کا نشانہ نہیں بنتیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیاں مضبوط کرنے کی خاطر ہفتے میں180 منٹ چلنا کافی ہے۔

بھلکڑپن کی دوری:۔ بڑھاپے میں یادداشت جاتے رہنا ایک عام خلل ہے۔ ماہرین نے تحقیق سے دریافت کیا ہے کہ جو بوڑھے مردوزن روزانہ کم از کم 1.6 کلومیٹر پیدل چلیں، ان کی یادداشت اچھی رہتی ہے۔ دراصل چلنے سے ہمارے دماغ کا حرام مغز بڑھتا ہے، یوں یادداشت کو ضعف نہیں پہنچتا۔ طاقتور مامون نظام:۔ چہل قدمی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے مامونی نظام (Immune System) کو تقویت دیتی ہے۔ چنانچہ انسان خصوصاً موسمی بیماریوں مثلا نزلہ، زکام، کھانسی وغیرہ میں جلد مبتلا نہیں ہوتا۔

پھیپھڑوں سے لاپرواہی نہ برتیے ہمارے جسم کے اہم ترین اعضا میں پھیپھڑے بھی شامل ہیں کیونکہ انسان انہی کی بدولت سانس لیتا اورخود کو زندہ رکھتا ہے۔ افسوس کہ بہت سے مرد وزن خصوصاً بوڑھے اس اہم عضو سے غفلت برتتے ہیں۔ نتیجہ وہ پھیپھڑوں کے کسی نہ کسی مرض کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ان میں سب سے عام ’’مزمن نقبا ریوی‘‘ (Chronic Obstructive Pulmonary) مرض ہے۔

یہ بیماری شدید ہو جائے تو دو قدم چلنے پر انسان کا سانس پھول جاتا ہے اور وہ کوئی کام نہیں کر پاتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ درج ذیل علامات کا شکار ہیں، تو مطلب یہ کہ آپ پھیپھڑوں کے کسی نہ کسی مرض میں گرفتار ہیں:

٭سات آٹھ سیڑیاں چڑھنے کے بعد آپ کا سانس چڑھ جاتا ہے اور آپ تقریباً ہانپنے لگتے ہیں۔

٭سال میں کم از کم دو بار سینے کی کسی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں۔

٭ عموماً کھانسی کا شکار رہتے ہیں۔ نیز کھانے پر بلغم آتا ہے حالانکہ آپ کسی مرض میں مبتلا نہیں ہوتے۔

٭سینے یا کمر میں مسلسل درد رہے۔ سینے میں کھچاوٹ کا احساس ہو، نیز سانس لیتے ہوئے خرخراہٹ جنم لے۔

اگر کسی قاری میں درج بالا علامات پائی جاتی ہیں تو بہتر ہے کہ وہ پھیپھڑوں کا طبی معائینہ کرائے۔

دراصل انسان کو احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ پھیپھڑوں کی کسی بیماری میں مبتلا ہے۔ یہ بیماریاں عموماً سگریٹ نوشی یا منشیات کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ تاہم مٹی، دھول اور گاڑیوں کا دھواں بھی پھیپھڑے خراب کر سکتا ہے۔ ذیابیطس قسم اول کے شکار بچوں اور بڑوں میں انسولین موجود نہیں ہوتی، چنانچہ انھیں اپنے خون میں شکر کی سطح بار بار چیک کرنی پڑتی ہے۔ یہ صورت حال کئی والدین کو بہت تنگ کرتی ہے۔ وہ رات کو دو تین بار اٹھتے ہیں تا کہ شکر کی سطح دیکھ سکیں۔ یوں ان کی نیند خراب ہوتی ہے۔

والدین کی پریشانی دیکھ کر ہی ایک آسٹریلوی سائنس دان پروفیسر نموتھی جونز نے ایسا طریق کار ایجاد کیا ہے جو موبائل کے ذریعے خود کار طریقے سے کام کرتا ہے۔ سب سے پہلے بچے یا بڑے کے جسم نصب میں نصب ایک چھوٹا سا سینسر موبائل سے برقی رابطہ رکھتا ہے۔سینسرخون میں مسلسل شکر کی سطح نوٹ کرتا اور معلومات (ڈیٹا) موبائل کو بھجواتا ہے۔ جب جسم میں انسولین کی سطح کم ہو جائے تو موبائل (بلیک بیری) میں نصب کمپیوٹر ایک پمپ کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ یہ ہارمون خارج کرنے لگے۔ یہ انسولین پمپ بچے یا بڑے کے جسم سے بندھا ہوتا ہے۔

پروفیسر نموتھی نے یہ ایجاد پتّے کے فطری عمل کی نقل کرتے ہوئے بنائی ہے۔ اس ایجاد کا فائدہ یہ ہے کہ یہ بدن انسانی میں شکر کی سطح خود کار (آٹومیٹک) انداز میں نوٹ کرتا اور ضرورت پڑنے پر انسولین فراہم کر دیتا ہے۔ چنانچہ دوسروں کو ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ ہر وقت مریض پر دھیان دیں۔ اس آلے کی مدد سے خصوصاً اب والدین چین کی نیند سو کر صحت پا سکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply