گھر والوں کو حادثات سے بچائیے

یوں تو چھوٹے موٹے حادثات انسانی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن تسلی سے بیٹھ کر اگر سوچا جائے تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ہماری غلطی، غفلت اور لاپرواہی کا عنصر چھپا ہوا ضرور ملے گا۔ گھروںمیں ہونے والے حادثات عموماً چھوٹے موٹے اور زیادہ سنگین نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ان حادثات کی بدولت انسان زخمی، معذور یا تکلیف میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات گھریلو حادثات کی بدولت موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

گھر میں ہونے والے حادثات میں خاتون خانہ کی لاپرواہی کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ ہاتھ میں چاقو یا چھری کا لگ جانا، پاؤں میں کانٹا چبھنا اور کیلے کے چھلکے پر سے پھسل جانا وغیرہ۔ بعض اوقات اس قسم کے گھریلو حالات موت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بدولت گھر کے لوگ حادثات کا شکار بنتے ہیں۔ اور ان سے کس طرح بچاؤ ممکن ہے۔

٭ گھروں میں عموماً بچے سیڑھیوں پر کھلونوں کو ادھر ادھر پھیلا کر رکھتے ہیں اور پھر ان چیزوں کو سمیٹے بغیر کمرے میں آجاتے ہیں۔ کھلونوں سے کھیلنے کے بعد واپس اسی جگہ پر سمیٹ کر رکھنے کی عادت بچوں کے اندر ضرور پیدا کریں۔

٭ بے شمار گھروں میں سیڑھیوں پر کاٹھ کباڑ نظر آتا ہے۔ اس سے ٹھوکر کھاکر گرنے سے بڑا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ خصوصاً اگر اندھیرا ہوتو حادثے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

٭ ۔۔۔ اکثر خواتین کپڑے دھونے کے بعد اس بات کا خیال نہیں رکھتیں کہ کپڑے دھونے والی جگہ پر صابن یا سرف گرنے سے پھسلن ہوجاتی ہے۔ بچے ایسی جگہوں پر ضرور جاتے ہیں اور پھر گر پڑتے ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ کپڑے دھونے کے فوراً بعد فرش کی صفائی کے بعد پنکھے چلا دیں اور بچوں کو فرش پر بھاگنے دوڑنے نہ دیں۔

٭ ۔۔۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت بعض بچے اور بڑے انہیں پھلانگتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس طرح آپ کو گرنے یا چوٹ لگنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ بچوں کو منع کریں کہ وہ بھاگ بھاگ کر سیڑھیاں نہ چڑھیں۔

٭ کچھ خواتین کو عادت ہوتی ہے کہ وہ سیڑھیوں کے زیادہ چکر لگانے کے بجائے ایک بار ہی سارا سامان اتارنا یا چڑھانا پسند کرتی ہیں۔ اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

٭ رات کے وقت اندھیرے میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتے وقت محتاط ہوکر چلیں۔ اگر فاصلہ زیادہ ہو تو ٹارچ استعمال کریں۔ اس قسم کی احتیاط سے آپ کسی بھی چوٹ سے آسانی سے بچ سکتے ہیں۔

٭ ۔۔۔ جن گھروں میں چھ سے دو سال تک کے بچے ہوں وہاں ماؤں کو ہر وقت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ بچوں کو اونچی جگہوں پر اکیلا نہ بٹھائیں اور نہ کھلی جگہ پر تنہا چھوڑیں جہاں ان کے گرنے کا امکان ہو۔ ایسے کھلونے نہ دیں جن سے ان کے زخمی ہونے کا امکان ہو۔ اگر بچہ سائیکل چلانا سیکھ رہا ہو تو جب تک وہ بااعتماد طریقے سے سائیکل چلانا سیکھ نہ جائے اسے اکیلا یاباہر سڑک پر نہ جانے دیں۔

٭ سڑک پر چلتے وقت بچوں کے ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھیں بعض اوقات بچے ہاتھ چھڑا کر سڑک پر دوڑتے ہیں اور حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں اسی طرح بچوں کو آگ کی طرف متوجہ نہ کریں۔

٭ گھروں میں اکیلی ہوں تو بجلی کے تار اور پلگ پانی سے دور رکھیں۔ گیلے ہاتھوں سے بجلی کی تاروں یا بجلی کے سامانوں کو ہاتھ نہ لگایا جائے ورنہ کرنٹ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔

٭ گھر سے باہر جاتے وقت اس بات کا اطمینان کرلیں کہ گیس کا چولہا اچھی طرح بند ہے۔

٭ گولیاں یا ادویات وغیرہ درج تاریخ سے پہلے ہی استعمال کرلیں تو بہتر ہے۔ دھوپ میں پڑی رہنے والی دوائیں جن کے ڈبے پیلے پڑ گئے ہوں ایسی ادویات استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اکثر لوگ دوائیں باتھ روم میں رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں کیوں کہ حتی الامکان کوشش کریں کہ ادویات بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ بے دھیانی، لاپرواہی اور جلد بازی سے کیے گئے کام اکثر حادثات کا موجب بنتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر قابو پاکر اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو حادثات سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔

ایک اہم بات

گھر میں دو مقامات ایسے ہیں جو سب سے زیادہ نازک اور ذرا سی لاپرواہی یا بے توجہی کے سبب بچوں سے زیادہ بڑوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔ ان مین گھر کا باتھ روم اور گھر کا کچن بہت اہم ہیں۔

اکثر بزرگوں کے ساتھ یا گھر میں حاملہ عورتوں کے ساتھ باتھ روم میں گرتے اور کولہے کی ہڈی کے فریکچر یا حمل ضائع ہوجانے کے حادثات ہوتے ہیں۔ ایسا صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہاں پر پانی یا چکنائی پر پھسل جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ باتھ روم استعمال کرنے کے بعد اچھی طرح خشک کر دیا جائے۔ اگر گھر میں ضعیف والدین ہیں تو ضروری ہے کہ سوکھے کپڑے سے خشک کردیا جائے۔

دوسرا مقام کچن ہے اس کے بارے میں دو قسم کی احتیاط درکار ہے۔ ایک احتیاط کچن میں کھانا پکاتے وقت، سبزیاں کاٹنے وقت، گیس چولہا جلاتے وقت اور تیل میں چیزیں فرائی کرتے وقت درکار ہے۔ دوسری احتیاط کچن کا کام سمیٹ کر چولہا بند کرتے وقت درکار ہے۔ اس کے لیے یقینی بنائیں کے سلنڈر کا ریگولیٹر بند کر دیا ہے اور چولہے کے آن آف کرنے کا بٹن بند ہے۔ گھر میں اگر بچے ہوں تو ہمیشہ جولہا بند کرنے کے ساتھ ساتھ ریگولیٹر بھی بند کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
ارم فاطمہ

Leave a Reply