4

گھر کی ترتیب و آرائش

کہا جاتا ہے کہ گھر، بچوں اور طرزِ رہائش سے مکین کے ہنر اور سلیقے کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ تو حقیقت ہے کہ انسان کی طبیعت پر ماحول کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کے گرد و پیش کی چیزیں قرینے سے رکھی اور سجی ہوں تو وہ ذہنی طور پر کافی سکون و طمانیت محسوس کرے گا۔ برعکس اس کے اگر اشیاء بے قاعدہ اور بے ترتیب پڑی ہوں تو وہاں بیٹھنے پر کوفت سی محسوس ہوگی۔ صاف ستھرے مکان میں سلیقہ سے رکھی چیزوں کو دیکھ کر صاحب مکان کے ذوق سلیم کاپتہ چلتا ہے۔ آرائش و زینت مکان کے لیے کسی خاص چیز کی ضرورت نہیں بلکہ ہر وہ چیز جو آپ کے گھر میں موجود ہے، درست جگہ رکھنے سے آرائش کا مفہوم پورا ہو جاتا ہے، جس کا انحصار گھر والی پر ہے۔ گھر کی حالت دیکھ کر مالکہ مکان کی ذہنی کیفیت کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ بے کار چیزوں کی بھرمار اور جگہ جگہ بے قرینہ پڑی ہوئی اشیاء اس کے مزاج اور سلیقہ کی غمازی کرتی ہیں۔ اس لیے مکان کی آرائش میں آپ اپنے جمالیاتی ذوق کو ضرور بروئے کار لائیں۔ مکان کی آرائش و درستگی کے سلسلے میں گھر کا ہر حصہ توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ سامان آرائش جتنا مختصر اور صاف شفاف ہو، زیادہ موزوں اور بہتر رہتا ہے۔ اس کا ضرور خیال رکھیں۔

مکان کا فرش صاف ستھرا رکھیں۔ ہفتہ میں ایک بار ضرور دھوئیں۔ صحن میں اگر کچی جگہ ہو تو وہاں موسم موسم کے خوش وضع اور خوشنما پھول لگائیں یا پھر صحن میں چند گملے رکھ چھوڑیں تاکہ ان میں لگے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر آپ کی طبیعت بشاش رہے اور باہر سے آنے والے بھی آپ کے ذوق کی داد دیں۔ اسی طرح ہر ایک کمرہ مناسب طور پرآراستہ کریں۔ اور ہر چیز سلیقہ اور ترتیب سے سجائیں۔

ملاقات کا کمرہ

فرنیچر ہلکا اور صاف چمکیلا عمدہ لکڑی کا خوبصورت بنا ہوا ہو۔ صوفوں کا کپڑا خوش رنگ پھولدار ہو تو اچھا رہے گا۔ رنگ ایسا منتخب کریں جو آنکھوں کو برانہ لگے۔ اگر اوپر کے حصہ پر سادے غلاف چڑھا دیں تو اچھا رہے گا کیوں کہ اس صورت میں میلا ہونے پر اسے بہ آسانی دھولا یا جاسکتا ہے اور صوفے بھی محفوظ رہیں گے۔ میز پر کوئی خوشنما کڑھا ہوا میز پوش ڈالیں۔ کشن کے غلاف بھی الگ بنائیں تاکہ برابر بدلے جاسکیں۔ کمرے میں صرف سینریاں اور مناظر لگائیں جو فوٹو وغیرہ سے زیادہ بہتر رہیں گی۔

بیٹھنے کا کمرہ

کمرہ صاف کر کے حسب حیثیت فرش بچھائیں، عمدہ قالینوں کا کام بھی معمولی دری سے بہ آسانی لیا جاسکتا ہے۔ ہاں! اگر آپ نہایت عمدگی سے فرش کو آراستہ کرنا چاہتی ہیں تو پھر فرش کے لیے استعمال کی جانے والی چیزوں کو خریدتے وقت رنگ کا ضرور خیال رکھیں۔ فرنیچر، کمرے کی نوعیت کے مطابق استعمال کریں تاکہ کمرہ کباڑ خانہ معلوم نہ ہو۔ نیز اس طرح صفائی کے وقت بھی چیزیں اٹھانے اور پھر درست کرنے میں دقت نہ ہوگی۔ میز پر پھولدان میں تازہ پانی ڈال کر پھول لگا کر رکھیں۔ تصویروں کی بلا ضرورت ایک کمرے میں بھرمار نہ کریں۔ سامان زیبائش مثلاً گلدان، صناعی کے نمونے آرٹسٹوں کے طغرے وغیرہ جتنے صاف ستھرے اور مختصر ہوں، اتنا ہی اچھا ہوگا، تاکہ کمرے کی سادگی اور خوبصورتی جلوہ گر رہے۔

سونے کا کمرہ

کھڑکیاں اور دروازے کھول کر رکھیں۔ پلنگ صاف اور ان کے پائے چمکدار ہونے چاہئیں۔ بستر کی چادریں اور غلاف تکیہ صاف دھلے ہوئے ہوں۔ اس لیے چادریں اور غلاف تکیہ جلدی جلدی بدلتی رہا کریں تو زیادہ مناسب ہو۔ فرش کو برش سے صاف کر کے دروازوں، کھڑکیوں کے پردوں ، تصاویر، میز، کرسیوں اور کمرے میںموجود دیگر اشیاء کی اچھی طرح جھاڑ پونچھ کریں۔ ہر ہفتہ بستروں کو دو گھنٹے ضرور دھوپ میں رکھیں۔ شب خوابی کے کپڑے اسی کمرے میں کھونٹیوں پر لٹکا دیں۔ میلے کپڑے الگ غسل خانہ میں کسی بڑے صندوق یا تھیلے میں رکھیں۔

سامان کی جگہ

تمام سامان جھاڑ پونچھ کر قرینے سے رکھیں۔ سوٹ کیس، بکس، بیگ، اٹیچی وغیرہ کی جگہ مقرر کر کے رکھیں اور ان پر اُجلے دھلے ہوئے جھاڑن ڈال کر انھیں ڈھانک دیں۔ ہر ایک چیز کے لیے جگہ مقرر کریں تاکہ جو جگہ جس چیز کے لیے مقرر ہے۔ وہ ہمیشہ مخصوص جگہ پر ہی ملے۔ اور جب اٹھائی جائے تو پھر وہیں رکھ دی جائے۔

باورچی خانہ

یہ خصوصیت سے ہماری توجہ کا محتاج ہے۔ ہماری بہت سی بہنیں اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی ہیں۔ اُن کے ڈرائننگ روم تو نفاست و زیبائش کا مرقع ہوتے ہیں مگر باورچی خانہ خستہ حالت میں ہوتا ہے۔ ہماری بعض بہنیں باورچی خانہ کو گھر کی آرائش میں شامل نہیں سمجھتیں۔ وہ خیال کرتی ہوں گی کہ باہر سے آنے والے ڈرائنگ روم میں بیٹھیں گے، باورچی خانہ دیکھنے کون جائے گا جو اس کا کچھ اہتمام کیا جائے۔ حالاں کہ یہی جگہ ہماری بہنوں کی توجہ کی سب سے زیادہ مستحق ہے۔ کیوں کہ اسی جگہ پر گھر کے سب افراد کی صحت کا دار و مدار ہے۔

ہر ماہ باورچی خانہ کی سب چیزیں نکال کر دیواریں اور چھت صاف کریں۔ چینی، شیشے اور اسٹیل وغیرہ کے برتن الگ الگ رکھیں۔ روزانہ کے استعمال کے برتن الماری میں اچھی طرح بند رکھیں تاکہ مکھی مچھر وغیرہ نہ بیٹھیں۔ گندے، برتن فوری طور پر صاف کرلیا کریں۔ باورچی خانہ کے فرش کوروز دھلوایا کریں۔ اگر فرش پر کہیں چکناہٹ وغیرہ کے دھبے معلوم ہوں تو انھیں رگڑ کر صاف کرلیں۔ تاکہ فرش پر گندگی نظر نہ آئے۔ تمام کھانے کی اشیاء کو ڈھک کر رکھیں اور بچا ہوا کھانا فوراً فریج میں محفوظ کردیں۔ اگر فریج نہ ہو تو کھلی جگہ اچھی طرح ڈھک کر رکھیں۔ اگر چیونٹیوں کا اندیشہ ہو تو پہلے کسی برتن میں پانی بھر لیں اور دوسرا برتن اس میں رکھیں تاکہ چیونٹیاں نہ چڑھ سکیں۔ ہر ہفتہ باورچی خانہ کے تمام برتنوں کو صاف کرکے دھوپ میں رکھیں تاکہ وہ اچھی طرح خشک ہوکر صاف ہوجائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زینب غزالی

تبصرہ کیجیے