شیطان کی چالیں، قرآن کریم کی روشنی میں

صاحب تفہیم القرآن وِاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ (البقرۃ:۱۴) کے ضمن میں رقم طراز ہیں: ’’شیطان عربی زبان میں سرکش، متمرد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں۔ انسان اور جن دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جن کے لیے آیا ہے لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اور سیاق و سباق سے بہ آسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مراد ہیں اور کہاں جن۔‘‘

شیطان کو ابلیس بھی کہا جاتا ہے۔ الابلاس (افعال) کے معنی سخت نا امیدی کے باعث غمگین ہونے کے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے ابلیس مشتق ہے۔ قرآن میں ہے و یوم تقوم الساعۃ یبلس المجرمون (۳۰-۱۲) اور جس دن قیامت برپا ہوگی، گناہ گار مایوس و مغموم ہوجائیں گے۔ مختصراً ابلیس کا لفظی ترجمہ ہے ’’انتہائی مایوس ۔‘‘ اصطلاحاً اس سے وہ جن مراد ہے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی، آدم اور بنی آدم کے لیے مطیع و مسخر ہونے سے انکار کردیا اور اللہ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی اور نسل انسانی کو گمراہ کرنے اور بہکانے کا موقع طلب کیا۔ یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ شیطان اور ابلیس محض کسی مجرد قوت کا نام نہیں بلکہ وہ انسان کی طرح ایک صاحب تشخص ہستی ہے۔ جس نے اللہ کے حکم سے بغاوت کی۔ غرور اور تکبر سے اس نے سرکشی کا رویہ اپنایا تھا۔

شیطان کی سرکشی اور بغاوت

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ اللہ کے حکم کی تعمیل میں سب سر بہ سجود ہوگئے مگر شیطان اکڑ گیا اور اس نے غرور کا اظہار کیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تیری اس سرکشی کا محرک کیا ہے؟

’’پوچھا تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟‘‘ بولا: ’’میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔‘‘ شیطان نے عزت و برتری کا ایک جھوٹا تصور اپنے ذہن میں قائم کیا اور یہ سمجھا کہ وہ بزرگی اور عزت کے منصب پر فائز ہے۔ اس جھوٹے پندار اور عزت کے بے بنیاد دعوے نے اسے راندۂ درگاہ بنا دیا اور وہ ذلیل اور پست ہوکر رہ گیا۔ (الاعراف:۱۲،۱۳)۔ اس کے مادۂ تخلیق اور نسلی تفاخر نے اس سے اہانت کا ارتکاب کرایا اور اللہ کو چیلنج کیا کہ وہ ثابت کرے گا کہ انسان جس فضیلت سے مشرف کیا گیا ہے وہ ہرگز اس کا استحقاق نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا کہ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ یعنی میرے بندوں پر تجھے اقتدار نہ ہوگا، (بہروپ بھر کر جو معجز نمائی بھی دکھائے گا، میرے بندے تیرے جھانسے میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ تیرے تمام تر حربے اور ہتھکنڈے اکارت جائیں گے)۔

شیطان انسان کا ازلی دشمن

شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اس نے برملا اعلان کیا کہ وہ انسان کو شر اور بدی کی راہ پر لانے کے لیے اپنی تمام تر قوتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔ قرآن حکیم اس کے کھلا دشمن ہونے کا اعلان فرماتا ہے:

’’لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر مت چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔‘‘ (البقرۃ:۱۶۹)

گویا شیطان برائی و بے حیائی کا داعی ہے۔ اس کا وطیرہ یہ ہے کہ وہ اسراف و تبذیر کی روش کو مستحکم کرنے پر پورا زور صرف کرتا ہے، مگر اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے پر سد راہ بن جاتا ہے۔ اور ناداری، غربت اور افلاس کا شکار ہونے کا خوف دلاتا ہے۔

’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرم ناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اور داتا ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۶۸)

دین حق سے گہرا اخلاص رکھنے والوں سے بھی بعض اوقات کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔ گناہ کی نحوست سے شیطان کو یہ موقع میسر آجاتا ہے کہ وہ مخلصین کو دوسری غلطیوں اور لغزشوں کی طرف آمادہ کرے اور بزدلی اور گھبراہٹ پیدا کرے اور ان کی عزیمت و استقامت اور بہادری و مردانگی میں ضعف پیدا کرے۔ غزوۂ احد میں بھی شیطان نے مومنوں کو بہکا کر ان کے قدم ڈگمگا دیے۔ قرآن نے شیطان کے اس بہکاوے پر یوں روشنی ڈالی:

’’تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے، ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیے۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا برد بار ہے۔‘‘ (آل عمران:۱۵۴)

دوسرے مقام پر اسی مضمون کو یوں بیان کیا :

’’اب تمہیں معلوم ہوگیا ہے کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا رہا تھا۔ لہٰذا آیندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۷۵)

شیطان کے حربے اور ہتھکنڈے

شیطان انسان کو برے اخلاق کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر ایسا حربہ اختیار کرتا ہے جو خوشنما بھی ہو اور دل ربا بھی۔ ایسی زیب و زینت سے آراستہ اور مزین ہو کہ انسان اس پر لٹو ہوجائے، وہ اعمال بد میں گرفتار ہو، ایسے میں شیطان اسے اطمینان دلاتا ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہواچھا ہی کر رہے ہو۔ وہ انہیں وعدوں اور امیدوں میں الجھاتا ہے۔ یوں لطف و لذت سے مسحور کر کے انسان کو غلط راہوں پر گامزن کر دیتا ہے، اس کی فریب کاری کے انداز جدا جدا ہیں۔ وہ انسان کی کمزوری کی مناسبت سے اپنے دام میں اسے پھانس لیتا ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ اس کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں۔ ’’وہ ان کاموں کو جو اللہ کے ہاں ناپسندیدہ اور مبغوض ہیں اور جن کی حرمت کا قطعی ذکر کتاب حکیم میں موجود ہے۔ اور بعض صحت انسانی کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں، جاذب اور دلکش بنا کر پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے:

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اورجوا اور یہ آستانے اور پانسے سب گندے کام ہیں اِن سے پرہیز کرو۔ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔‘‘ (المائدۃ:۹۰)

وہ انسانوں کے مابین دوریاں، بے گانگیاں اور دشمنیاں پیدا کرتا ہے اور بغض و عداوت کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اور اپنے چیلوں چانٹوں کے ذریعے اس کی نشو و نما میں اضافہ کرتا ہے۔

’’شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور نماز سے روک دے، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہوگے؟‘‘ (المائدہ:۹۱)

شیطان کے مفسدانہ اور تخریب کارانہ طرزِ عمل کی وجہ سے قرآن نے بندوں کو اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور اس کی رفاقت کو نہایت بری رفاقت قرار دیا۔

’’سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا، اسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی۔‘‘ (النساء:۳۸)۔

چناں چہ اہل ایمان کے لیے لازمی ہے کہ وہ شیطان کی چالوں کو سمجھے اور اپنے آپ کو ہر آن ان سے بچانے کی فکر میں رہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عتیق الرحمن صدیقی

Leave a Reply