بچہ

سرد موسم اور نوزائیدہ بچے

نوزائیدہ بچہ زیادہ اور خصوصی توجہ اور دیکھ بھال چاہتا ہے۔ ایک ماں کے لیے یہ بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو موسم کی تمام بیماریوں سے بچا کر رکھے۔ عموماً ہر موسم میں بچے کو موسمی اثرات اور بیماریوں سے بچانے کی ضرورت پیش آتی ہے مگر سرد موسم کچھ زیادہ احتیاط چاہتا ہے۔ اکثر مائیں سردیوں میں پریشان ہوجاتی ہیں کہ بچے کو ٹھنڈ سے محفوظ کس طرح رکھیں۔ نوزائیدہ اور چھوٹے بچے آسانی سے سردیوں میں ٹھنڈ کا شکار ہوجاتے ہیں تاہم یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ بہت زیادہ پریشان ہوا جائے۔ بس ذرا درست اقدامات کرلیے جائیں تو مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔ ذیل میں اسی حوالے سے کچھ کارآمد ٹپس دیے جا رہے ہیں جن کو اپنا کر مائیں اپنے بچوں کو خوش اور صحت مند رکھ سکتی ہیں۔ چوں کہ بچوں میں بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت، قوت مدافعت کم ہوتی ہے، اس لیے انہیں بہرحال خاص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

٭ روزانہ اپنے بچے کی صفائی ستھرائی کریں اور یہ عمل روزانہ کے ساتھ ساتھ ہر موسم میں ہونا چاہیے مگر سردیوں میں بچے کو نیم گرم پانی سے نہلایا جائے۔ اس سے قبل کسی معیاری تیل سے بچے کے جسم کا اچھی طرح مساج ضرور کرلیں۔

٭ غسل دینے کے بعد بچے کو کچھ دیر کے لیے دھوپ میں لٹایا بٹھا دیں۔

٭ بچے کو ٹھنڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے گرم کپڑوں کا مسلسل استعمال نہ کریں۔ اس سے پسینہ آتا ہے اور ٹھنڈے پسینہ کی وجہ سے اس کا امکان رہتا ہے کہ بچہ کھانسی اور ٹھنڈ کا شکار ہوجائے۔

٭ بچے کو وقفہ وقفہ سے نیم گرم پانی دیتی رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

٭ صبح اور شام کے وقت بچے کو ساتھ لے کر گھر سے باہر نہ جائیں۔

٭ ٹھنڈ سے بچانے کے لیے بچے کو تھوڑی مقدار میں شہد دیں۔

٭ کھڑکیاں بند نہ کریں اور جب بچہ سو رہا ہو تو اس کا منہ نہ ڈھانپیں۔ اس سے بچے کو سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔

٭ ہر وقت ہیٹر آن نہ رکھیں۔ اس سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

٭ رات میں بچے کو ڈائپر لگانے کی ضرورت نہیں لیکن اگر لگانا ہی ہو تو ہمیشہ خشک ڈائپر پہنائیں۔

٭ ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر بغیر کوئی بھی دوا نہ دیں۔

سردیاں اور بچے کی جلد کی حفاظت

سرد موسم اگرچہ بڑوں کی جلد کے لیے بھی کافی پریشان کن ہوتا ہے مگر چھوٹے بچوں کے لیے یہ موسم بہت زیادہ ہی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ بچے کی جلد بہت حساس ہوتی ہے اور اگر آپ ایسے خطے میں رہتی ہیں جہاں ٹھنڈ کچھ زیادہ ہی پڑتی ہے تو آپ کو اپنے بچے کا اضافی کیئر کرنے کی ضرورت ہے۔ سرد موسم جلد کو خشک کردیتا ہے جسکی وجہ سے جلد میں خارش ہونے لگتی ہے۔

غسل اور موئسچرائزنگ

بچے کو نہلانے کے بعد گھر سے باہر لے جانا نہیں چاہیے۔ اس سے بچے کی جلد پھٹنے لگتی ہے۔ غسل دینے کے بعد بچے کے پورے جسم پر موئسچرائزر کا استعمال کریں تاکہ بچے کے جسم میں نمی کی کمی نہ ہو۔ بے بی لوشن اس سلسلے میں بہترین ہے۔ یہ بہترین موئسچرائزر ہے اور یہ آپ کے بچے میں نمی کی کمی نہیں ہونے دے گا۔ سر سے پاؤں تک لوشن کا استعمال کریں اور اس دوران خیال رہے کہ لوشن بچے کی آنکھ اور منہ میں نہ جانے پائے۔ اگر آپ کو موئسچرائزر کے انتخاب میں دشواری پیش آئے تو آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرسکتی ہیں۔ اس طرح آپ مطمئن بھی رہیں گی کہ آپ پرفیکٹ موئسچرائزر استعمال کر رہی ہیں۔ سب سے بہتر بات دیسی تیل کا استعمال ہے جو بے ضرر ہوتا ہے۔

بچے کے ملبوسات

بلاشبہ سرد موسم میں بچے کو گرم ملبوسات پہنانا اچھی بات ہے۔ اسے گرم کوٹ، ٹوپی اور دستانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ اس قدر گرم نہ ہوں کہ پسینہ آنے لگے۔ بے بی جلد کی مناسب سے نرم گرم ملبوسات بالکل ٹھیک رہتے ہیں کیوں کہ سرد موسم میں بچے کی جلد اور بھی نرم ہوجاتی ہے۔

ایک بات خاص طور پر ذہن میں رکھنے کی ہے کہ مائیں بعض اوقات سردی سے بچانے کی خاطر موٹے موٹے اونی کپڑے پہنا دیتی ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہی کپڑوں میں بچے کو سلا کر مزید کمبل اوڑھا دیتی ہیں۔ یہ درست نہیں ایسی صورت میں بچہ گرمی سے بے چین ہوکر رونے لگتا ہے مگر مائیں سمجھ نہیں پاتیں کہ بچے کو گرمی لگ رہی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بلقیس بانو

Leave a Reply