بیٹی اور بہو میں فرق کیوں؟

بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے جسے بچپن ہی سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’بیٹی تو پرایادھن ہے۔‘‘ اپنے ماں باپ کے سائے میں اسے بے پناہ اہمیت حاصل ہوتی ہے جسے سب کچھ سکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ گھر کو صاف ستھرا کس طرح رکھنا ہے، کھانا کس طرح پکایا جاتا ہے، سینا پرونا کسے کہتے ہیں، گھر کی کون سی چیز کہاں رکھی جاتی ہے۔ غرض کہ اسے ہر چیز کے بارے میں اچھی طرح آگاہ کردیا جاتا ہے تاکہ دوسرے گھر میں جاکر اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ مگر جب اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ یہ لڑکی پیا کے دیس سدھار جاتی ہے تو اسے وہ اہمیت حاصل نہیں ہو پاتی جو کہ والدین کے گھر میں ہوتی ہے۔ یا اس گھر کے لوگ اپنے گھر کی لڑکیوں یا بہنوں اور بیٹیوں کو دیتے ہیں۔ اور پھر گھر میں مشکلات اور معاشرتی تنازعات شروع ہوجاتے ہیں جب کہ کوئی بھی لڑکی والدین کے گھر سے یہ تعلیم لے کر نہیں جاتی کہ وہ اپنے شوہر کو لے کرعلیحدہ ہوجائے اور اپنی مرضی اور اختیار کی زندگی گزارے۔ بلکہ یہ حالات ہوتے ہیں جو اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیتے ہیں۔

ساس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو بات اس کی زبان سے نکل جائے وہ پوری ہو۔ اور اس طرح وہ بہو پر اپنی مرضی مسلط کرکے اسے ہمہ وقت دبا کر رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ جس کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ ایک جاندار، سمجھ دار، عقلمند اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیت ہے۔ اس کے بھی کچھ جذبات اور احساسات ہیں۔ وہ کوئی بے زبان جانور نہیں کہ جہاں چاہا باندھ دیا اور جو چاہا کام لے لیا۔ سسرال میں لڑکی نے قدم کیا رکھا بس ساس سسر کی یہ خواہش بیدار ہوگئی کہ وہ ان کی خدمت کرتی رہے۔ نندیں چاہتی ہیں کہ ان کے ناز اٹھائے جائیں اور دیوروں کی توقع یہ کہ بھابی دوڑ دوڑ کر ان کے کام کرتی رہیں۔ جب ایک گھر کے اتنے سارے افراد کسی ایک شخصیت سے اس قدر توقعات وابستہ کرلیں تو انہیں پورا کرنا بڑا دشور ہوجاتا ہے یا ان میں کسی نہ کسی طرح کمی واقع ہوہی جاتی ہے۔ تو کیا یہ انصاف ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے یا اسے باتیں سنائی جائیں۔ ہر کوئی اپنا حق تو وصول کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے مگر یہ کم ہی لوگ سوچتے ہیں کہ گھر میں آنے والی لڑکی کا بھی کچھ حق ہے جو کہ وہ مانگ بھی نہیں سکتی اور یہ کہ اہل خانہ کی اس کے سلسلے میں بھی کچھ ذمہ داریاں اور اخلاقی حدیں ہیں۔

ساس اپنی مرضی سے کھانا تیار کراتی ہے اور بہو بیچاری کسی ناپسندیدہ ڈش کو بھی پکانے پر مجبور ہے جسے وہ خود اس کو نہیں کھاسکے گی۔ گھر کے بکھیڑوں میں الجھ کر اسے آرام بھی نہ ملے اور مرضی کا کھانا بھی نہیں تو پھر وہ کیا کرے؟ اگر وہ اس حوالے سے زبان کھول دے تو اسے زبان درازی کے طعنے دیے جائیں گے اور ایک لمحے میں سارا خاندان اس کے خلاف محاذ بنا کر اکٹھا ہوجائے گا خواہ وہ آپس میں کبھی ایک دوسرے کے لیے ایک محبت کا بول بھی نہ کہہ سکے ہوں۔ شوہر ایسے موقع پر ایک عجیب کشمکش کا شکار ہوجاتا ہے کہ کس کا ساتھ دے۔ بیوی کی حمایت کرے تو گھر والوں کی سنے اور گھر والوں کا کہا مانے تو بیوی کی نگاہ میں مجرم ٹھہرے۔ لہٰذا وہ خاموشی میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ ایک پورے خاندان کے خلاف جنگ میں مصروف لڑکی محض خون کے آنسو رو کر دوبارہ ان لوگوں کی خدمت میں جٹ جاتی ہے، کیوں کہ بہرحال اسے اپنے والدین اور بھائیوں کی عزت کا خیال ہے۔ وہ سوچ لیتی ہے کہ یہی اس کا گھر ہے جہاں مرضی چلے یا نہیں لیکن حالات سے سمجھوتہ کرنا ہی ہوگا۔

ساس کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کو تبدیل کرے اور یہ سمجھ لے کہ یہ کسی اور کی نہیں ان کی ہی بیٹی ہے جو کہ خدا نے آپ کو ان بیٹیوں کی جگہ عطا کی ہے جو کہ آپ کے گھر سے اپنے گھروں میں جاکر بس چکی ہیں۔ جن بیٹیوں کو آپ نے جنم دیا وہ اب کسی دوسرے گھر کی ہوچکی ہیں اور جو آپ کی خدمت کر رہی ہے اب آپ کی بیٹی ہے جسے اچھے سلوک کی ضرورت ہے۔ ایسے کتنے ہی خاندان ہیں جہاں گھر کی بہو نے سارے معاملات کو سنبھال رکھا ہے۔ جو ساس سسر کی خدمت کرنے کے ساتھ ہی شوہر اور بچوں کی ذمہ داریاں بھی پوری کر رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود بہت سے گھرانوں میں اسے سکون کی زندگی نصیب نہیں ہوپاتی۔

اگر ہم اپنی معاشرتی زندگی میں ہونے والی ان تبدیلیوں اور مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ اس کا بنیادی سبب دین سے دوری ہے کیوں کہ دین ہی وہ چیز ہے جو ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا شعور عطا کرتا ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایثار اور دوسروں کے لیے قربانی دینا سکھاتا ہے۔ یہ حقوق سے زیادہ فرائض کی ادائیگی اور ہر صورت میں احسان کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

ہمارے گھروں اور خاندانوں میں لوگ ایمان کی بنیادی خوبی ایثار سے ناواقف ہیں۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ مومنین کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں خواہ اس میں ان کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ ظاہر ہے اجتماعی یا معاشرتی زندگی میں اگر یہ خوبی نہ ہو تو اس کا سکون غارت ہوجائے گا۔ اور ہر آدمی اپنا حق مانگے گا اور اس سے ذرا بھی کم پر راضی نہ ہوگا اور ایسی کیفیت میں انتشار اور ٹکراؤ لازمی ہے۔

دوسری اہم چیز ہے عفو و درگزر اور معاف کرنے کی خوبی۔ اہل ایمان کی اہم ترین خوبی معاف کردینا ہوتی ہے۔ جو لوگ زندگی میں معاف کردینے کا جذبہ رکھتے ہیں وہ کبھی بھی انا اور خود پسندی کا شکار نہیں ہوتے۔ معاشرتی زندگی میں اکثر مشکلات اسی ’انا‘ یا معاف کردینے کی خوبی نہ ہونے کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ معاف کردینا معاشرہ میں پیار ومحبت کا چلن عام کرتا ہے۔ خود غرضی، حسد اور نفرت کا خاتمہ کرتا ہے۔ اور ساس بہو کے رشتوں میں جو چیز زہر گھولتی ہے وہ یہی خرابیاں ہیں۔

مائیں اپنی بیٹیوں کے لیے کس قدر قربانیاں اور ایثار کرتی ہیں اور اس کے بدلے میں بیٹیاں اور بیٹے کس طرح ماں باپ کو چاہتے اور ان سے محبت کرتے ہیں اگر ہمارے سماج کی ساس بھی ماں کا روپ دھار کر بہو کو بیٹی بنالے تو سارے مسائل حل ہیں۔ اور پھر اگر چھوٹی چھوٹی خامیوں اور کوتاہیوں کو معاف کرنے اور اسے سکھانے کی روش اختیار کی جائے تو گھر جنت کا نمونہ ہوجائیں گے۔

لہٰذا ہمارے سماج کی ہر ساس کو چاہیے کہ گھر میں آنے والی بہو کو بھی اپنی بیٹی ہی سمجھے، وہ اپنی خدمت اور وفا شعاری کے بدلے میں صرف پیار محبت اور عزت کی طلب گار ہوتی ہے۔ جب وہ ہمارے گھر کے لیے سب کچھ کر رہی ہے تو کیا ہم اس کو یہ بھی نہیں دے سکتے کہ وہ چین اور سکون سے جی پائے۔ وہ اپنے تمام پیاروں اور ہمدردوں کو چھوڑ کر آپ کے گھر کا حصہ بن گئی ہے تو کیا اسے بیٹی کا درجہ بھی نہیں مل سکتا۔ جس کے بل پر وہ باقی زندگی کو خوشگوار انداز سے گزار سکے۔

دراصل ایک دوسرے کے حق کو سمجھنا اور فرائض کو ایمان داری سے نبھانا بہت ضروری ہے۔ تعلیم محض ڈگریوں اور اسناد کو جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اخلاقی سطح پر وہ اوصاف عطا کرتی ہے جس کے ذریعے ہم دنیاوی معاملات کو دیکھتے، سمجھتے اور پرکھتے ہیں۔ اگر ہم صرف اپنا اخلاق بہتر کرلیں دین کو زندگیوں میں ڈھال لیں ار لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تو انصاف پر مبنی ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاجائے گا جس کی مثال دی جاسکے گی، جہاں ہر کوئی خوش و خرم دکھائی دے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندرت شاہین (کولھا پور)

Leave a Reply