آخری خوبصورت آدمی

میں سوچ رہا ہوں میرے بعد شہر کا کیا ہوگا۔۔۔۔ کیا ہوگا؟؟

حیرت ہے کہ اتنے بڑے بڑے واقعات رونما ہو رہے ہیں مگر کسی کو کچھ فکر نہیں ہے۔ اہل شہر پر وحشت طاری ہے۔ انسانوں کی شکلیں عجیب و غریب ہوگئی ہیں۔ ان کی آنکھیں بند ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ اب تو صرف آنکھوں کے نشان ہی باقی رہ گئے ہیں۔ زبانیں لمبی ہوکر منہ سے باہر لٹک رہی ہیں۔ رالیں ٹپک ٹپک کر لباس کو غلیظ کر رہی ہیں۔ توندیں بڑھ کر گھٹنوں سے ٹکرانے لگی ہیں۔ سورج نکلتا ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی پھینکنے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات کرتے ہیں تو پتھروں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ آنکھیں کھولتے ہیں تو آگ برستی ہے۔ باغات میں کانٹے بو رہے ہیں۔ زمینوں میں تھور کاشت کرنے لگے ہیں۔ ہوا جو آندھی اور طوفان بن گئی ہے، برسوں سے ایک ہی رخ پر چل رہی ہے۔ اولوں کی برساتیں ہوتی ہیں۔ دیواروں پر گھاس اگنے لگی ہے۔ ہواؤں میں زہر بھر گیا ہے۔ سرخ گرد و غبار نے فضا میں مستقل جگہ بنالی ہے۔ شہر میں درندوں کے غرانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جن میں درندوں کی غراہٹ اور انسانوں کی چیخوں کا شور ہے۔ کچھ دنوں سے درندوں کے پنجوں کے نشان گلی کوچوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کی طرف متوجہ کرنے کے لیے میں شہر کے چوک میں کھڑا لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں مگر میری آواز کوئی نہیں سنتا ۔۔۔۔ کوئی نہیں سنتا!!

آخر میں نیرو تو نہیں ہوں کہ میرا شہر جلتا رہے اور میں شہر سے باہر بیٹھا بنسری بجاتا رہوں ۔۔۔۔ بجاتا رہوں!!

اب تو شہر کے لوگوں نے کانوں میں روئی ٹھونس لی ہے تاکہ میری آواز انہیں سنائی نہ دے، لیکن اب سے کچھ عرصہ پہلے میرے اور ان کے درمیان سلسلۂ کلام جاری تھا۔ پھر میری باتیں انہیں عجیب لگنے لگیں۔ پھر وہ مجھ سے چڑنے لگے ۔۔۔۔ اور پھر تو میری باتیں انہیں زہر لگنے لگیں۔ مجھے یاد ہے جب گوالوں نے پہلی بار دودھ میں پانی ملایا تو انہوں نے شور مچایا کہ گوالے دودھ میں پانی ملا رہے ہیں۔ اس پر میں نے اتنا کہا تھا کہ پانی دودھ میں نہیں خون میں ملا رہے ہیں۔ اس بات کا سب نے برا منایا۔ بعض نے کہا کہ میں ان کا مذاق اڑا رہا ہوں۔ بعض نے اسے اپنی توہین سمجھا۔ بعض نے مجھے اپنا مخالف قرار دے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گوالوں کو کسی نے نہیں پوچھا اور وہ دودھ میں پانی ملاتے ملاتے آخر پانی میں دودھ ملانے لگے!!

ایک مرتبہ شور مچانے کے خلاف بہت شور مچایا گیا۔ سب نے کہا کہ اعصاب کی صحت کے لیے مکمل خاموشی ضروری ہے۔ شور شرابے سے اعصابی نظام خراب ہو جاتا ہے۔ میں نے صرف یہ کہا کہ زیادہ خاموشی بھی اعصابی سکون کو تباہ کردیتی ہے۔ کچھ نہ کچھ شور شرابہ بھی مچنے دو کہ شور شرابہ آزادی کا دوسرا نام ہے۔ شور شرابہ مچا کر بھی انسان تسکین پاتا ہے۔ اس پر ایسے ایسے کلمات میری شان میں کہے گئے کہ سچ جانئے میں اپنے آپ کو ان کا مستحق نہیں سمجھتا۔

ایک بار شہر کے سب بچوں نے جھوٹوں کی زبان بندی کرنے کی مہم کا آغاز کیا۔ سب نے بیک زبان کہا کہ جھوٹوں کے مسلسل جھوٹ نے سچ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر جھوٹوں کو اسی طرح جھوٹ بولنے کی کھلی چھٹی ملی رہی تو سچوں کے منہ بند ہوجائیں گے۔ اس پر میں نے محض اتنا کہا کہ دیکھو جھوٹوں کو بھی بولنے دو ۔۔۔۔ آخر وہ بھی انسان ہیں ۔۔۔۔ اور بولنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے ۔۔۔۔ پھر وہ جھوٹ کو جھوٹ سمجھ کر نہیں بلکہ سچ سمجھ کر بولتے ہیں ۔۔۔ اگر ہم سچ بول رہے ہیں تو جھوٹ کا سامنا کرو اور اس کا منہ بند کردو ۔۔۔۔ سچ تو ہمیشہ کا جیتا ہوا گھوڑا ہے!!

اس پر مجھے جھوٹ کا حامی قرار دیا گیا اور وہ صلواتیں سنائیں کہ سارے شہر کو میری اصل نسل کا علم ہوگیا حالانکہ اس فخر کو میں نے ہمیشہ چھپا کر رکھا تھا۔

میرے لیے یہ بات بڑی ہی عجیب تھی کہ سچے جھوٹوں سے بے حد خائف دکھائی دے رہے تھے!!

اس وقت میرا اور اہل شہر کا سلسلۂ کلام منقطع ہوگیا۔ میں گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور چوکوں میں کھڑے ہوکر انہیں بلاتا۔ مگر کوئی میری آواز نہ سنتا۔ لوگ کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ تب مجھے محسوس ہونے لگا کہ لوگوں نے مجھے اپنا دشمن قرار دے لیا ہے۔۔۔۔ دشمن!!

تب مجھے ان سے خوف آنے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ میرے لیے منصوبے بنا رہے ہیں ۔۔۔۔ میں قید میں نہیں ہوں مگر اپنے آپ کو قید تنہائی میں محسوس کرتا ہوں، مجھے اپنے ارد گرد درندوں کی غراہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ شہر جنگل بن گیا ہے۔۔۔ جنگل۔

مجھے اپنی فکر نہیں کہ میں ان باتوں کا عادی ہوگیا ہوں اور پھر یہ سب کچھ تو میرے نام لکھ دیا گیا ہے۔ مجھے تو شہر کی فکر ہے کہ اس شہر کی بنیادوں میں میرا بھی خون شامل ہے۔ اس کی تعمیر میں میرا بھی پسینہ بہتا رہا ہے۔

پرانی داستانوں میں لکھا ہے کہ ہر سال ایک خوفناک بلا سمندر سے نکل کر شہر پر حملہ کرتی۔ اس سے بچنے کے لیے شہر کے ایک خوب صورت آدمی کو ساحل سمندر پر لے جاکر بلا کے آگے ڈال دیا جاتا۔ برسوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ حتی کہ شہر کے ایک ایک خوبصورت آدمی کو بلا کے آگے ڈال دیا گیا۔ تب ایک سال بلا نے شہر پر حملہ کر دیا کیوں کہ شہر میں اب بد صورتوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا تھا!!

چند روز سے ایسا لگتا ہے کہ شہر والوں نے میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرلیا ہے۔ شاید اس خوفناک بلا کے آگے ڈالنے کے لیے اب کی بار مجھے منتخب کرلیا گیا ہے۔۔۔۔ کہ میں اس شہر کا آخری خوبصورت آدمی ہوں ۔۔۔۔ آخری خوبصورت آدمی!!

مجھے اپنی موت کا غم نہیں ۔۔۔۔ اپنی ز ندگی کی فکر نہیں ۔۔۔۔ کہ موت میرے لیے ایک نئی زندگی کا نام ہے ۔۔۔۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ میرے بعد شہر کا کیا ہوگا۔۔۔۔ کیا ہوگا!!؟؟ lll

شیئر کیجیے
Default image
اکبر حمیدی

Leave a Reply