لہو کا چراغ

ادھر رات کی دیوی زلفوں کی گرہیں کھولنے کی تیاریاں کر رہی تھی، ادھر بستی سے کافی پرے قبیلے کے جواں مرد مصروف جدال تھے۔ خیموں کے اندر کنواری لڑکیاں اور بزرگ عورتیں، اپنے بھائی باپ یا بیٹوں کی منتظر۔

اور وہ نادیدہ دشمن جو موقع ملتے ہی شب خون مارنے میں ماہر تھا، اپنے ارادے کی تکمیل کی خاطر اپنی کمین گاہ سے چلا۔ بستی کی طرف اٹھتا اس کا ہر قدم، اس کی حیرت میں اضافہ کر رہا تھا، اور اس کی حیرت کا اس وقت تو ٹھکانا ہی نہ رہا جب اس نے بستی کے سب سے بڑے چوراہے پر، ایک اونچے سے چبوترے پر ایک چراغ جلتا ہوا دیکھا۔ جس کی روشنی پوری بستی پر پھیلی تاریکی کا مقابلہ کر رہی تھی۔

ایک ذرا سا چراغ ۔۔۔۔ اور ساری بستی منور۔

شب خونی کی حیرت میں اضافہ ہوا، کچھ سوچ کر آگے بڑھا، چراغ کے قریب پہنچا، پنجوں کے بل کھڑا ہوا، اور اس نے دیکھا چراغ میں تیل کی جگہ خون بھرا ہے، ایڑیاں پھر زمین سے جالگیں، چہرہ پل بھر کو سرخ ہوا، دوسرے ہی لمحے وہ دل شکستہ مغموم جس راستے سے آیا تھا اسی راہ لوٹ گیا۔

کافی دیر بعد جب رات کی دیوی اپنی زلفوں کی ہر گرہ کھول چکی تب بستی سے پرے، قبیلے کے وہ جواں مرد جو مصروفِ جدال تھے تھکے قدموں لوٹے تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے۔

’’یہ چراغ ۔۔۔ کس نے روشن کیا؟‘‘

ایک ہی سوال سب کی آنکھوں میں گھس کر دماغ کی شریانوں میں رینگنے لگا، مگر دماغ میں بسیرا کیے اضمحلال نے مزاحمت کی۔

’’کیا ہوگا کسی نے! چلو،چل کر آرام کریں۔۔۔ اس پر صبح سوچیں گے۔‘‘

’’ہاں! کہ اس وقت ہم میں سے ہر فرد نڈھال ہے۔‘‘

دوسرے روز انھیں پتا چلا کہ وہ جو قبیلے کی شہ رگ قرار دیے گئے، انھی میں سے ایک اللہ کے بندے کے اکلوتے بیٹے نے یہ چراغ روشن کیا ہے۔

’’تم نے یہ چراغ کیوں روشن کیا؟‘‘ بستی کے کچھ لوگ وفد کی صورت میں اس جوان کے دروازے پر پہنچے اور ان میں سے ایک بزرگ نے سوال کیا۔

’’تاکہ اندھیرا ختم ہو ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ تمہارا نقصان نہ ہو! ۔۔۔۔ تم نہیں جانتے یہ اندھیرا ۔۔۔۔‘‘

اندھیرا ۔۔۔۔ بستی کے باشندوں کا دیرینہ رفیق ہوتا جا رہا تھا اور کبھی یہی اندھیرا دشمنی بھی اختیار کرلیا کرتا۔ اسی اندھیرے میں انھوں نے غیروں کے علاوہ اپنوں پر بھی شب خون مارے تھے۔ اور یہ اندھیرے کا ہی کرم تھا کہ آج تک لٹنے، مٹنے اور مرنے کے باوجود، وہ اپنے دشمن کو نہیں پہچان پائے تھے۔

سورج کی پہلی کرن، ان کے لٹنے، مٹنے اور ان میں سے کسی کے مرنے کی خبر دیتی، غصے سے ان کی آنکھیں حلقوں سے ابل پڑتیں، تیوریاں چڑھتیں، بھنویں سکڑتیں اور ان کی آنکھوں کے صحرا میں اونٹنیاں دوڑنے لگتیں۔ ’’ہم آج پھر لوٹے گئے۔‘‘

’’ہم پر تباہی بھی نازل ہوئی۔‘‘

’’آخر۔۔۔ آخر یہ پہرے دار کہاں جا مرتے ہیں؟‘‘

’’ہاں یہ پہرے دار کہاں جا مرتے ہیں؟‘‘

’’ہم نے تو جان و مال ان کی حفاظت میں دے دیا تھا تاکہ چین کی نیند سو سکیں۔ لیکن ان کی بیداری ہمارا سکون غارت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔‘‘

’’ہاں۔۔۔۔ ان کی بیداری ہمارے چین کی دشمن ہے۔‘‘

’’پھر کیا کیا جائے؟‘‘

’’کیا ہم یونہی لٹتے رہیں، مرتے رہیں؟‘‘

’’نہیں، نہیں۔۔۔۔! وہ جو ہماری حفاظت پر مامور ہیں ۔۔۔۔ انھیں بلاؤ۔‘‘

’’ہم حاضر ہیں آقا۔‘‘

’’رات۔۔۔۔ تم سب کہاں جا مرے تھے؟‘‘

’’ہم اپنے فرائض سے غافل نہ تھے آقا۔‘‘

’’پھر یہ لوٹ کیسی؟‘‘

’’اندھیرا بہت تھا، غضب کی تاریکی تھی۔‘‘

’’پر تمھاری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوچکی ہیں۔‘‘

’’پھر بھی ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا آقا۔‘‘

’’ارے۔۔۔ تم سب یہاں بازپرس کر رہے ہو۔۔۔ وہاں ہمارے جوانوں کی لاشیں پڑی ہیں!‘‘

کچھ دیر کو ماحول پر سناٹا چھا گیا۔ آنکھوں کے صحراؤں میں اونٹنیاں کچھ تیزی سے دوڑنے لگیں۔ تیوریاں ایسی چڑھیں کہ اترنے کو تیار نہ ہوئیں۔ پھر سب سے پہلے بستی کے سردار کی تیوریاں اتریں۔ وہ اونٹنیاں تھیں۔ پھر یکایک وہ دائیں سمت طوفانی رفتار سے دوڑیں اور ۔۔۔ دوسرے ہی پل دوڑ پڑے بستی کے جوان۔ خیموں کے پردے ہٹے، گرے، اٹھے اور اب جو گرے تو آگے آگے جوان، تیغ براں پر گرفت مضبوط کیے اور ان کے پیچھے ان کی بیویاں۔

بستی کے باہر کھلے میں صفیں آراستہ ہوئیں۔ ادھر کی عورتوں نے ادھر کے مردوں پر، اور ادھر کی عورتوں نے ادھر کے مردوں پر مباہلہ کیا، مباہلے کے بعد آمنے سامنے کی صفوں سے ایک ایک جوان نکلا، رجز پڑھے گئے، تیغ براں فضا میں لہرائی، پینترے بدلے گئے، حملوں کا تبادلہ ہوا۔ عورتیں مردوں کو غیرت دلاتی رہیں، حوصلے بڑھاتی رہیں، بزرگ چمکتی آنکھوں سے ضروریات کے تبادلے دیکھتے رہے۔ دفعتاً تیغ براں لہرائی، ایک جوان کا سر قلم ہوا۔ مقتول کے عزیزوں میں ماتم شروع ہوا، فاتح نے مفتوح کا سر اٹھا کر اپنے ساتھیوں کی طرف اچھال دیا۔ اور خود فتح کے نشے میں مست جھومتا ہوا اپنے ساتھیوں کی جانب بڑھا۔

صبح سے اب تک کئی لاشیں گر چکی تھیں۔ سورج بھی تھک کر زرد ہو چلا تھا، شام صحرا کے ذرّوں میں چھپنے کو بے چین کہ رات کی دیوی نے زلفوں کی گرہیں کھولنی شروع کیں۔ طے یہ پایا کہ اب دوسرے روز صفیں آراستہ ہوں گی۔ لیکن دوسرے دن صفیں آراستہ نہ ہوئیں بلکہ وہ سب وفد کی صورت میں اس وجیہہ کے دروازے پر پہنچے۔ اور ان میں سے ایک بزرگ نے سوال کیا: ’’تم نے یہ چراغ کیوں روشن کیا۔۔۔؟‘‘

جواب سن لینے کے بعد کافی دیر تک مجمع پر خاموشی چھائی رہی۔ پھر وہ بزرگ، جوان سے مخاطب ہوا: ’’ہم تمھارے ممنون ہیں کہ ۔۔۔ تم نے ہمیشہ ہمارا بھلا سوچا ہے ۔۔۔۔ ہمیں اعتراف ہے کہ جب جب حملوں میں شدت ہوئی تم ہمارے کام آئے، ہم نے اپنی امانتیں تمھیں سونپیں اور قسم ہے ہبل کی ہم نے تمھیں امین پایا۔۔۔۔ صادق پایا!‘‘

دن اسی طرح گزرا کیے۔ شب خون کا سلسلہ تقریباً ختم ہوا۔ چراغ سے چراغ جلے، روشنی دور دور تک پھیلی، لوگ چونک چونک کر ان کی طرف متوجہ ہوتے رہے اور ان چراغوں سے روشنی لیتے رہے۔ ایک روز۔

ایک روز ایک عظیم اجتماع کے خاتمے سے پہلے چراغ جلانے والے کے حضور اس کے ماننے والوں سے نذرانے پیش کرنے شروع کردیے۔

دولت، ثروت

بھیڑ بکریاں

اونٹ

غلام، کنیزیں

’’یہ سب کیا ہے؟‘‘

’’ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔‘‘

’’کیسا فرض؟‘‘

’’آپ نے ہمیں روشنی عطا کی ہے! قوم کے افراد اس کے صلے میں نذرانے پیش کر رہے ہیں۔‘‘

’’اوہ ۔۔۔۔ تم مجھے ۔۔۔۔۔ میرے کام کا اجر دینا چاہتے ہو؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’اچھا ۔۔۔ تو پھر تم سب مجھے وہ دو، جو دے سکتے ہو اور جسے دے کر بخدا تم خسارے میں نہیں رہوگے۔‘‘

’’ہم سمجھ نہیں سکے حضور۔‘‘

’’دیکھو ۔۔۔۔ اگر میری محنت، میری قربانیوں کا اجر ہی دینا ہے تو مالِ دنیا میرے سامنے سے ہٹالو ۔۔۔! اور سنو۔ میں اپنی محنت کا، اپنی قربانیوں کا تم سے کوئی اجر کوئی صلہ نہیں چاہتا مگر ۔۔۔۔‘‘

’’مگر‘‘

’’مگر کیا؟‘‘

’’ہاں ہاں کہئے مگر ۔۔۔۔‘‘

’’مگر یہ کہ تم مجھ سے محبت کرنے والوں سے محبت کرو!‘‘

’’محبت؟‘‘

’’اپنے محبت کرنے والوں سے؟‘‘

’’ہاں مجھ سے محبت کرنے والوں سے محبت کرو! کیوں کہ یہی وہ افراد ہیں جو اس چراغ کو کبھی نہ بجھنے دیں گے۔ اس لیے کہ جو میں نے کیا ہے وہی یہ سب کر رہے ہیں۔

مجمع کی اکثریت چہ میگوئیاں کرنے لگی۔ کچھ لوگوں نے محبت کی قسمیں کھائیں۔ کچھ گومگو کے عالم میں کھڑے رہے اور ۔۔۔۔

کچھ عرصہ بعد چراغ جلانے والی ہستی نے دنیا سے پردہ کیا تو لوگوں نے اپنی محبت کا ثبوت اس طرح دیا کہ مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے چراغ جلانے والی ہستی سے محبت کرنے والوں کو چن چن کر قتل کرتے چلے گئے۔ ان سے نسبت ظاہر کرنے والوں کے خون کی ندیاں بہادی گئیں۔

اندھیرا پھر بڑھ رہا ہے۔۔۔۔!

لوگ پریشان ہیں۔۔۔۔!

شبخون کا سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔!

لیکن ۔۔۔۔

چراغ آج بھی جل رہا ہے ۔۔۔۔۔!lll

شیئر کیجیے
Default image
علی امام نقوی

Leave a Reply