واپسی

وہ میں نہیں تھا۔

آئینہ جھوٹ بول رہا تھا۔

یہ طے کرلینے کے بعد کہ میں اپنے افسر اعلیٰ سے معافی مانگ لوں گا۔ جوکچھ میں نے اپنے ساتھیوں کے سامنے سچ کہا تھا اس کے لیے اپنے افسر اعلیٰ کے روبرو اقرار کرلوں گا کہ میں نے جھوٹ بولا تھا اور آئندہ کبھی اس طرح کی غلطی نہ کرنے کا وعدہ کرلوں گا۔ پھر التجا بھرے لہجے میں اپنی ترقی کے لیے درخواست کروں گا، آئندہ وفادار رہنے کی قسم کھاؤں گا اور یہ عہد بھی کروں گا کہ میں ان لوگوں کے بارے میں مسلسل اطلاعات بہم پہنچاتا رہوں گا جو میرے دفتری ساتھی ہیں اور افسر اعلیٰ کے بارے میں اکثر غلط بیانیوں سے کام لیتے اور سازشوں کے جال بنتے رہتے ہیں۔

یہ طے کرلینے کے بعد میں نے سوچا کہ یہ سب کچھ کہنے سے قبل دوچار بار ریہرسل کرلوں کہ بغیر ریہرسل کے تو صرف سچ ہی بولا جاسکتا ہے۔

میں جب آئینے کے سامنے آیا تو عجیب تماشا دیکھا۔ آئینے کے سامنے تو میں تھا مگر اس میں عکس میرا نہیں تھا۔ میں نے بڑی توجہ سے دیکھا۔ آنکھیں میری تھیں۔ چہرہ بھی میرا تھا، سارا وجود میر اتھا، مگر میں وہ نہیں تھا جو آئینہ بتا رہا تھا۔ ایک عالم حیرانی میں کچھ دیر تک میں آئینے کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر میں نے عکس کے خدوخال کو اپنے سراپا کے مطابق جانا۔ فریب نگاہ کو نظر انداز کیا اور افسر اعلیٰ کے سامنے جو کچھ کہنا چاہتا تھا اس کی ریہرسل شروع کرنے کے ارادے سے پہلے لفظ ادا کیے۔ ’’جناب والا‘‘

ہیں، یہ کیا۔ میں چونک اٹھا یہ آواز میری نہیں تھی۔ یا اللہ۔ کیا میری صورت کے ساتھ آواز بھی کہیںکھوگئی ہے۔ عکس میرا نہیں ہے۔ آواز میری نہیں ہے۔

تو پھر میں کہاں ہوں، اور یہ کون ہے جو اس کمرے میں موجود ہے؟ اور میں بے وجود و بے صدا کون سے جذبوں کے صحراؤں میں گم ہوگیا ہوں۔

میں نے آئینے پر نظریں گاڑ دیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے عکس کی آنکھیں میرا جسم چھید رہی ہیں۔ یا پھر میری نگاہوں کے تار سے عکس لرزاں ہے۔ اس سے پہلے کہ عکس معدوم ہو یا میرے جسم میں چبھے اور بڑھے میں نے آئینے کی جانب سے آنکھیں پھیر لیں۔

میری بیوی سامنے دالان میں بیٹھی چاولوں سے کنکر بین رہی تھی۔ میں ذرا سا کھنکارا کہ وہ میری طرف متوجہ ہو تو میں اپنے بارے میں کچھ پوچھوں۔ مگر وہ اپنے کام میں منہمک رہی۔ میں نے پھر آئینے کی جانب رخ کیا کہ ان الفاظ کو دہرا ہی لوں جو رات کا فاصلہ طے کرنے کے بعد دوسرے دن مجھے اپنے افسر اعلیٰ کے سامنے ادا کرنے ہیں۔

’’میں اپنی غلطی پر نادم ہوں سر۔‘‘

سر۔!

ایسے موقعوں پر تو سرخم ہوجانا چاہیے۔ مگر مجھ میں سربلندی کا احساس کیوں سر اٹھا رہا ہے۔ اور یہ کیسی آواز ہے جو وجود کے زنداں سے لفظوں کی بیڑیاں پہن کر حلقوم کی تاریک راہ داری سے کسی قیدی کی طرح لڑکھڑاتی ہوئی آرہی ہے مگر جس پر لہجے کی کھنک بغاوت کے جذبے کی طرح سایہ فگن ہے۔ میں اپنے وجود میں ارادے کی تبدیلی کے سرسراتے ہوئے جذبے کو سلانے کی کوشش کرتا ہوں تو پھر مجھ میں پیاس جاگتی ہے، اپنی آواز سننے کی پیاس۔ اپنے آپ کو دیکھنے کی پیاس۔ میں کنکھیوں سے آئینے کی طرف دیکھتا ہوں تو وہاں ایک استخوانی پیکر، التماس و التجا کے لبادے میں لپٹا ہوا، آنکھوں میں ندامت و پشیمانی کے اندھیرے سمیٹے، چہرے پہ بے چینی کی بے شمار خراشیں لیے، ہاتھوں کو حرص و طمع کا کشکول بنائے، پیروں میں خوف اور دبدبے سے اٹھتی لہروں کا ارتعاش دبائے، کذب و ریا کی تصویر بنا موجود تھا۔ میں کراہت سے آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ آنکھیں بند کرتے ہی احساس کے دریچے کھل جاتے ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ کیا میں ایسا ہوں؟ اور کیا آدمی جب جھوٹ کے سائبان میں آجاتا ہے تو چہرے کے نقوش بدل جاتے ہیں؟ آواز کی کھنک گھگھیاہٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور آدمی، آدمی نہیں رہتا، خواہشوں کا انبار بن جاتا ہے!

پھر میں بھاگ کر سچ کے سورج کی تمازت میں کھڑا ہوجاتا ہوں۔ عکس سے حاصل کی ہوئی عبرت دھوپ کی طرح میرے چہرے پر پھیل جاتی ہے اور میں لہجے میں خود اعتمادی کا انداز لپیٹ کر کہتا ہوں۔

’’ایسی تیسی افسر اعلیٰ کی۔ میں اپنی گردن میں چاپلوسی کا طوق ہرگز نہیں ڈالوں گا۔ میں اپنے ساتھیوں کی مخبری کا بوجھ نہیں اٹھاؤں گا۔‘‘

تب دالان میں بیٹھی ہوئی، چاولوں میں سے کنکر چننے والی میری بیوی حیرت سے میری طرف دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے۔ ’’ارے! آپ! آپ کہاں تھے اب تک!‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
سلطان جمیل نسیم

Leave a Reply