احتساب

یہ کیسا سچ ہے؟

آج لوگ کہتے ہیں ’ صفوان النصر‘‘ ایک عالم با عمل ہے

ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں

لیکن جب میں خود کو ٹٹولتا ہوں تو اپنے اندر ایک عجیب سا سناٹا پاتا ہوں۔

ابھی ابھی ڈاکٹر نے مجھے پر سکون کرنے کے لئے دوائی دی ہے ، لیکن کیا دوائیاں انسان کو سکون دے سکتی ہیں جبکہ انسان کا ضمیر ہی بے سکون ہو……

زندگی کے یہ آخری ایام بہت عجیب سے ہیں، مجھے اپنی یاداشت کبھی اتنی مضبوط محسوس نہیں ہوئی۔ ہر ایک بات، ہر نیکی، ہر برائی، اک اک عمل صالح اور فعل بد،نگاہوں میں ہے ۔ لوگ مجھے نہایت عزت اور پرستائش نگاہوں سے دیکھتے ہیں‘ حیران ہوتے ہیں کہ ان دنوں جبکہ میں بیمار ہوں‘ آخری وقت آن لگا ہے اور پھر بھی میں روزانہ گشت پر نکلتا ہوں لیکن اگر وہ میرے اندر موجود بے سکونی و بے چینی کے محرک کو جان لیتے تو شاید حیران نہ ہوتے!۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ’صفوان النصر‘ کے الفاظ میں ایک عجیب تاثیر ہے۔ سیدھے دل پر اثر کرتے ہیں اوریہ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ وہ علم کے ساتھ ساتھ عمل بھی رکھتے ہیں اور یہ باتیں مجھے اک عذاب میں مبتلا کردیتی ہے۔ کوئی فخر کا لمحہ نہیں آتا میرے پاس اور آئے بھی کیسے۔۔۔؟؟ میں اپنے متعلق ایسی باتیں سن کر جاں کنی کے عالم میں چلا جاتا ہوں میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ …

٭٭

مجھے ایسا بنانے والا ‘ ایک راہِ راست سے بھٹکا ہوا شخص ہے۔

مجھے ’آگہی‘ سے گذارنے والا ایک ’گنہگار‘ انسان تھا۔

جو مایوسی کے عالم میں میرے پاس آیا تھا اور مزید مایوس ہو کر چلا گیا۔

پھر وہ مجھے کبھی نہ مل سکا۔…

ہر وقت یہ احساس میرے ساتھ ہوتا ہے کہ اگر اسے روشنی نہ ملی ہوگی ‘ وہ یونہی روشنی کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے جیسے لوگوںسے ملتا رہا ہو گا اور اسی حالت میں …نہیں…نہیں!! میں اس کے آگے سوچ ہی نہیں پاتا۔ دل خوف سے لرزجاتا ہے، روزِ محشر یاد آجاتا ہے…بڑی بے ربط کہانی ہے اس دل مضطر کی…

صفوان النصر نے نہایت بے بسی کے عالم میں اضطراب کے ساتھ اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں سختی کے ساتھ پیوست کردیں۔ ماضی کے سارے لمحے اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آکھڑے ہوئے تھے، ہر دن یہ لمحے میرے ساتھ ہوتے ہیں، مجھے لگتا ہے جیسے یہ بس کچھ پل پہلے کی بات ہو۔

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا اور مجھے پتھر کا بنا چھوڑ کر چلا گیا تھا!

’وہ لمحے‘ ہی ہیں جو فخر اور ریاکاری کو میرے قریب تک نہیں آنے دیتے۔

ان یادوں پر پہرہ باندھنا بھی چاہوں تو ممکن نہیں ہر پہرہ ٹوٹ جاتا ہے…

٭٭

میرا گھرانہ بہت مذہبی تھا میں نے حود بھی کالج کے زمانے سے داڑھی رکھ دی تھی ، میرا حلیہ ہی مذہب سے میری جذباتی وابستگی ظاہر کرنے کے لئے کافی تھا اور ساتھ ہی مجھے یہ زعم بھی تھا کہ مذہب کے بارے میں میرا علم بہت زیادہ ہے۔ میں کالج میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور میرا دل فخر سے بھرجاتا کہ میں آج کے مسلم نوجوانوں سے بہت اچھا ہوں… نیک ہوں!!

میں اپنے دوستوںکو اکثر نماز پڑھنے کی تاکید کرتا، کبھی انہیں زبردستی مسجد میں لے جاتا، کبھی کسی درس میں شریک کرواتا ، سب ہی کسی نہ کسی حد تک مجھ سے متاثر تھے لیکن وہ ایک ہی تھا جو مجھے زچ کردیتا تھا۔ ’شہاب انصاری‘… وہ خاموشی سے بڑی عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ میری باتیں سنتا اور اٹھ جاتا لیکن مجھے اس بات کا اعتراف تھا کہ میں ایک بار بھی اسے مسجد میں لے آنے یا کسی درس میں شریک کروانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ عجیب انسان تھا وہ مذہب کو آئوٹ ڈیٹ سمجھتا تھا، وہ بھٹکا ہوا تھا…

لیکن پھر مجھے یعنی ’صفوان النصر‘ کو اک موقع دیا گیا تھا… شاید وہ آزمائش تھی … نہیں … وہ تازیانہ تھا!!

بحر حال وہ جو کچھ بھی تھا مگر ایک افسوس ہے ‘ ایک ندامت ہے جو میرے اردگرد ہے ایک درد‘ چبھن خون کے ساتھ اب تک مجھ میں گردش کرتی ہے۔ اگر میرے قول و فعل میں تضاد نہ ہوتا تو شاید…

٭٭

کالج کے دن ختم ہوئے سب اپنی اپنی راہ نکل پڑے، میں نے بھی اپنا بزنس شروع کردیا… گذرتے وقت نے مجھے پر کچھ اثر نہیں کیا تھا۔ میں اب بھی مذہب پر بات کرتا تھا۔ دوسروںکو ان کی غلطیوں پر فوراً ٹوک دیتا تھا۔ خوب نصیحتیں کرتا، نمازوںکی سختی سے تاکید کرتا، صدقہ و خیرات کی فضیلت بتاتا اور اپنے آقا رسولؐ کی بات کرتے وقت جذباتی ہوجاتا… لیکن پھر اس ’شہاب انصاری‘نے مجھے ’اس راہ سے بھٹکادیا!!

٭٭

کئی لمحے گذرنے کے بعد بھی میں اسے پہچان نہیں پایا اورجب پہچان لیا تو حیرت نے آدبوچا۔ وہ ’شہاب انصاری‘ تھا!

آج بھی وہ ویل ڈریس تھا لیکن چہرے کی بشاشت غائب تھی،چہرے کی وہ مسکراہٹ بھی موجود نہیں تھی جو مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ابھرا کرتی تھی۔آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے، آنکھوں میں دوڑتے سرخ ڈورے، اس کی پریشانی و بے خوابی کو ظاہر کررہے تھے۔ وہ بہت ڈیپریس لگ رہا تھا۔

’’شہاب… تم !؟ کیسے ہو؟ کچھ خبر ہی نہیں اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی؟‘‘ میں اپنی حیرت چھپا نہیں سکا۔

جبکہ شہاب صرف مسکرا کر رہ گیا، میں حیران تو بہت ہوا لیکن کچھ کہا نہیں…

’’کہاں ہوتے ہو آج کل؟ ‘‘ میں نے موضوع بدلا۔

’’کولکتہ میں‘‘ مختصر سا جواب۔

’’یہاں ممبئی کیسے آنا ہوا؟‘‘

’’ایسے ہی کام کے سلسلہ میں آیا تھا سوچا تم سے بھی مل لوں۔‘‘ اس نے گول مول سا جواب دیا۔

’’ٹھہرے کہاں ہو؟‘‘

’’اپسرا میں‘‘ اس نے ایک مشہور ہوٹل کا نام لیا۔

’’کوئی ضرورت نہیں۔ میرے پاس آجائو، ان دنوں ویسے بھی امّی اور طوبی ‘ شبنم خالہ کے گھر گئی ہوئی ہیں۔ میں ہی ہوتا ہوں گھر پر ‘‘ میں نے اسے کنوینس کرنے کی کوشش کی اور خلافِ توقع اس نے اثبات میں گردن ہلادی۔

سر شام ہی وہ میرے گھر آگیا تھا۔ مجھے اتنی جلدی کی امید نہیں تھی لیکن میں نے اپنی حیرت کو چھپائے رکھا۔ ابھی ہم دونوں بس بیٹھے ہی تھے کہ میرا فون گنگنا اٹھا۔ دوسری جانب شاذیہ آنٹی کی آواز سن کر میرا چہرہ بگڑ گیا ۔ وہ ہماری دور کی رشتہ دار تھی اور مجھے سے کچھ مدد چاہ رہی تھی مگر میں ا نہیں مسلسل ٹال رہا تھا۔

’’نہیں ا ٓنٹی… دراصل میں بزنس کے سلسلے میں بنگلور کے لئے نکلا ہوں۔ ۱۰؍ سے ۱۵؍دن تو لگ ہی جائیں گے۔‘‘

’’ارے نہیں… کیسی بات کرتی ہیں اگرمیںکچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔‘‘

’’ہاں … کوشش کروں گا‘‘ میں نے بیزاری سے فون بند کیا لیکن شہاب کے بدلتے رنگ پر میرا دھیان نہیں تھا۔

’’تم نے جھوٹ کیوں کہا؟‘‘ اس نے عجیب لہجے میں پوچھا؟ اس بار بھی میں نے نوٹس نہیں لیا۔

’’عجیب لوگ ہوتے ہیں یار یہ… بس ایک بارمددکی تو سر پر سوار ہوگئے۔ ڈرامہ باز!! ہوں… خود ساختہ مسائل کا ڈھیر لگادیتے ہیں۔

’’لیکن بہت ممکن ہو کہ وہ سچ کہہ رہی ہو؟‘‘ شہاب شاید بحث کرنا چاہتا تھا۔

’’سچائی کا زمانہ ہے نہ نیکی کا ۔ اب کچھ دن پہلے ہی کا قصہ ہے وہ تنویر صاحب ٹریولنگ ایجنسی کے مالک…… ‘‘ اور پھر میں نے تنویر صاحب کے متعلق زور و شور سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی معلومات میں اضافہ کرنا چاہا۔ غیبت کے ساتھ ساتھ شاید بہتان بھی شامل ہوتا گیا میری گفتگو میں ! اور اس سارے عرصے میں شہاب بہت خاموشی سے سنتا رہا اور گہری نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔ مجھے لگا شاید وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہومگرکہا نہیں…!!

تبھی مغرب کی اذان فضائوں میں تھرتھرانے لگی۔ میں خاموش ہوگیا۔

’’نماز کے لئے چلو گے نا!‘‘ میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

لیکن شہاب کا ہر ا نداز چونکا دینے والا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

لیکن اس وقت میں بیک وقت غصہ اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا جب جماعت کھڑی ہونے پر شہاب خاموشی سے ایک کونے میں جا بیٹھا اور بے تاثر چہرہ کے ساتھ نماز کی ادائیگی دیکھتا رہا۔ شاید وہ میرے غصہ اور ناراضگی کی شدت تھی جو میں نے اس کی اس حرکت پر کچھ نہیں کہا۔ ایسے بے ہدایت شخص سے کچھ کہنا ہی فضول تھا جو مسجد میں تو آئے لیکن اسے نماز پڑھنے ہی کی توفیق نہ ہو۔

وہ مزید دو دن میرے ساتھ رہا… تقریباً ہر وقت… وہ کچھ کہتا نہیں تھا‘ زیادہ بات نہیں کرتا‘ صرف مجھے سنتا … اور کبھی کبھی مجھے دیکھتے ہوئے مجھے سنتے ہوئے اس کے تاثرات کچھ اتنے عجیب ہوتے کہ میں جھنجھلا جاتا … اور ساتھ ہی میں اندر ہی اندر حیران بھی ہوتا رہتا کہ یہ تو ’کسی کام‘ سے آیا تھا پھر… ؟ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ جس کام سے آیا تھا اسی کو کررہا تھا…ناکام ہورہا تھا…مایوس ہورہا تھا… حیران ہورہا تھا!!

اورپھر اس دن مجھے اپنے ہر سوال کا جواب مل گیا۔

اور تب ’صفوان النصر‘‘ نے خودکو ایک دلدل میں پھنسا دیکھا

اپنے چہرے پر سیاہی دیکھی…!!

اپنی ہی نظروں میںیوں بونا قد ہوگیا کہ پھر کبھی خود کے سامنے گردن نہ اٹھا سکا!

٭٭

اس رات میں گپ شپ کے ارادے سے اس کے کمرے میں گیا۔ گہرے اندھیرے اور سگریٹ کے دھویں نے میرا استقبال کیا۔ ایک ناگواری کی لہر میرے اندر اٹھی۔ شہاب اپنے اردگرد سے بے نیاز سگریٹ پیتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوبا تھا،مسلسل حرکت کرتے پیر اس کے اندرونی اضطراب کو ظاہر کررہے تھے…

’’شہاب‘‘ میں نے گھبرا کر اسے آواز دی۔

’’ہوں…‘‘ اس نے کسی حرکت کے بغیر صرف ہوں پر اکتفا کیا۔

’’ اس طرح کیوں بیٹھے ہو یار؟ کیا سوچ رہے ہو؟ کوئی پرابلم ؟‘‘ مجھے اس کے حلیے‘ اس کے انداز نے بری طرح الجھن میں ڈال رکھا تھا۔

لیکن اس مرتبہ بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ گمبھیر خاموشی…

اس کی یہ خاموشی مجھے بوجھل کررہی تھی، میں اس کے کمرے سے نکل آیا اورجب واپس لوٹا تو میرے ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے۔ میں نے شہاب کے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ لے لیا اور پھینک دیا اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ ایک کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے میں نے اسے لیونگ روم میں چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ میرے ساتھ چلنے لگا۔

لیونگ روم میں رکھے صوفے پر میںبیٹھ گیا جبکہ شہاب دیوارپر لگی خانہ کعبہ کی تصویر کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا جس میں زائرین نماز پڑھ رہے تھے۔

’’صفوان… یہ ‘ صراط مستقیم‘ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے نہایت بے بسی سے شہاب کو دیکھا۔ کم از کم میں اس سے ایسے کسی سوال کی امید نہیں رکھتا تھا…دفعتاً میرے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔ شاید اس مرتبہ میں کامیاب ہوجائوں اور پھر میں نہایت جوش و خروش سے میدان میں اتر پڑا۔

’’صراطِ مستقیم سیدھے راستے کو کہتے ہیں۔‘‘

’’سیدھا راستہ…؟‘‘

’’ہاں سیدھا راستہ… وہ راستہ جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہمیں بتایا ہے‘ نیکی کا راستہ۔‘‘

’’نیکی…نیکی کیا ہوتی ہے؟‘‘

’’نیکی… ‘‘ میں تھوڑا رک گیا۔’’ نیکی اس کام کو کہتے ہیں جسے کرنے کا حکم ملا ہو۔تم یو ںسمجھو اچھا کام کرنے کو نیکی کہتے ہیں۔‘‘

’’اچھا کام کیا ہوتا ہے؟ ‘‘ شاید وہ مجھے زچ کرنا چاہتاتھا۔

’’اچھاکام! اچھا کام مطلب کوئی بھی کام جو تم خدا کے لئے کرو۔ کسی کی مدد کرنا ، رحم کا معاملہ کرنا، ہر اچھا کام نیکی ہے۔‘‘

’’نیکی کیوں کرے؟‘‘ مجھے اس کے سوال پر تاسف ہوا تھا۔

’’ اللہ خوش ہوتا ہے‘ جنت ملتی ہے۔‘‘ میں نے آسان طریقے سے سمجھاناچاہا۔ اس جواب پر اوراس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر میراجی چاہا ایک زوردار گھونسا اس کے منہ پر ماردوں، وہ خاموش ہوگیا تھا۔ گہری و طویل خاموشی کے بعد اس نے بولنا شروع کر دیا۔ اس کا ایک ایک لفظ میری یاداشت میں پیوست ہے ، ایک ایک تاثر نگاہ میں ہے اور میں …اور میرے نہ الفاظ تھے اس وقت نہ کوئی تاثر… پتھر کا مجسمہ تھا میں !!

’’تم جانتے ہو صفوان میں ممبئی کیوں آیا تھا؟… صرف اورصرف تم سے ملنے۔‘‘ میں بری طرح چونک اٹھا تھا۔ ہمارے تعلقات ایسے تو نہ تھے کہ شہاب صرف صفوان النصرسے ملنے کے لئے کولکتہ سے ممبئی کا سفرکرتا۔

’’یہ شاید ایک سال پہلے کی بات ہے۔ زندگی کی بھاگ دوڑ،رونقوںمیں جیتے ہوئے اچانک مجھے یہ سب کچھ لا حاصل لگنے لگا۔ زندگی کی بے معنی ہوتی جارہی تھی۔ میرا بینک بیلنس ،سوشل اسٹیٹس ، میرے اطراف پھیلے رشتے،محبتیں کچھ بھی مجھے سکون نہ دیتے۔ میں سلیپنگ پِلس کے بغیر سو نہیں سکتا۔ تم نہیں جانتے کہ میں نے کہاں کہاں سکون کو تلاش کیا… اپنا پیسہ چیریٹی میں دینے لگا، مساجد، مدارس میں فنڈ دیا… مجھے سکون نہیں ملا۔ نائٹ کلبوںکا ہنگامہ بھی میرے اندر کے سکوت کو ختم نہیں کرسکا۔ سگریٹ کا سہارا لیا لیکن اس بے سکونی کو دھویں میں نہیں اڑاپایا۔ میں بے تحاشہ شراب پینے لگا… ‘‘ وہ خلاء میں دیکھتا ہوا اپنی بات کہے جارہا تھا۔

’’وہاٹ…تم ‘ تم شراب پیتے ہو بے تحاشہ؟‘‘ مجھے جیسے کسی بچھو نے ڈس لیا تھا۔

’’ہاں… سکون کی تلاش نے…‘‘ وہ کچھ اور کہنے ہی جارہا تھا لیکن… ’’شٹ اپ…‘‘ میں تقریباً چلا اٹھا۔ مجھ جیسا ‘نیک ‘ پارسا متقی شخص‘ اُم الخبائث سے تعلق رکھنے والے کسی انسان سے تعلق رکھنا اور اس کے ساتھ ا ٹھنا بیٹھنا بھی گناہ عظیم سمجھتا تھا۔ میرے لہجے میں ازخود کراہیت درآئی، میں مشتعل ہوگیا۔

٭٭

’’تم جیسا شخص… اف فو!!… تم شراب پینے لگے ہو‘ کلبوںمیں جاتے ہو‘ کبھی نماز نہیں پڑھی اور پھر مجھ سے پوچھتے ہو نیکی کیا ہے؟ صراط مستقیم کسے کہتے ہیں!؟ تم جیسا شخص صراط مستقیم کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی اس پر چل سکتا ہے۔‘‘ میرے اندر کا لاوا باہر نکلنے لگا۔

’’تمہارا مطلب ہے جو شراب پیتے ہیں‘ کلبوں میں جاتے ہیں مگر نماز سے بھاگتے نہیں‘ نماز بھی پڑھ لیتے ہیں وہ صراطِ مستقیم پر ہیں اور اس کا مطلب سمجھتے ہیں!!‘‘ اس نے سردلہجے میں پوچھا اور اس کے سوال پر میں اس کا چہرہ ہی دیکھتا رہ گیا۔

اس نے جواب کا انتظار کئے بغیر پھر اپنی بات شروع کی۔

’’… اور پھر بہت سے لوگوںکی طرح میں نے مذہب میں سکون تلاش کرنا چاہا… لوگ کہتے ہیں عبادت میں سکون ملتا ہے‘ مجھے نہیں ملتا… میں نے نماز پڑھنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن مجھے اس میں بھی سکون نہیں ملا۔ میں غلط کام بھی نہیں کرتا جو مجھے یوں اس طرح ڈیپریس کردے۔‘‘

’’نماز انسان کو برائیوںسے روکتی ہے۔ تم نماز پڑھنے لگ جائو۔ تم خود ہی غلط کاموں سے بچنے لگوگے تمہیں احساس ہوگا کہ تمہارا کونسا کام غلط ہے اور کونسا صحیح؟ تم خود تبدیلی محسوس کروگے‘‘ میںنے اسے راہ دکھانی چاہی۔ وہ خاموش نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔

’’تم توبڑی باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہو‘ بڑی عبادت کرتے ہو‘ نماز تمہاری زندگی میں کونسی تبدیلیاں لائی ہے؟‘‘

’’مجھے بے سکونی نہیں ہوتی‘‘ میں نے بلا کے اعتماد کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ’’حالانکہ تمہارے فارمولے کے مطابق تمہیں بے سکونی ہونی چاہئے… کیونکہ تم بھی بہت سے غلط کام کرتے ہو۔ ‘‘ وہ تلخی سے کہنے لگا۔

’’میں … اور غلط کام !!‘‘… صفوان النصر اور غلط کام؟؟

’’تم شراب نہیں پیتے‘ کلبوںمیں نہیں جاتے ‘ سود سے بچتے ہو‘ پورک نہیں کھاتے اور صرف یہ وہ حرام کام ہے جو تم نہیں کرتے‘ باقی سب تمہارے لئے جائز ہے۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، دوسروںکا مذاق اڑانا، امانت میں خیانت کرنا، بہتان لگانا سب کچھ تمہارے لئے جائز ہے۔ میں تمہارے پاس اس لئے آیا تھا کہ تم مذہب کا بڑا علم رکھتے ہو۔ تم میری مدد کروگے۔ مجھے لگا تھا تم بڑے نیک ہو، کالج کے زمانے سے داڑھی رکھ چھوڑی تھی، تم اس وقت بھی ہمارا دماغ کھالیتے تھے اسلام کی باتیں کر کر کے … زبردستی نماز پڑھانے پر تلے رہتے‘ ہر بات میں مذہب کا حوالہ دیتے ۔۔۔۔ آیتیں‘ حدیثیں سناتے رہتے… لیکن …!!جب میں تمہارے قریب آیا… میں نے تمہارا عمل دیکھا تو پھر میں تم سے ذرہ برابر بھی متاثر نہ ہوسکا… تم اس ظاہر کے ساتھ‘ عبادات کو لے کر اسلام اسلام کرتے ہوئے یہ سب کرتے ہو۔‘‘

میں پتھر کا ہوگیا، تھا اس وقت۔

’’بتائو عبادتوں نے کیا انقلاب برپا کیا ہے تمہاری زندگی میں؟

صرف یہ عبادتیں کرکے تمہیں یہ خوش فہمی ہوگئی ہے کہ تم سیدھے جنت میں جائوگے اور ہم جیسے سب دوزخ میں۔

تمہارے قول و فعل میں یہ تضادمیں نے ان دو دنوں میں بہت بری طرح محسوس کیا۔ اور اگریہ تضادنہ ہوتا تو شاید مجھے اپنے یہاں آنے پر اس درجہ افسوس نہ ہوتا اور نہ میں تم سے یہ سب کچھ کہتا… مگر اب میں تم سے التجا کرتا ہوںکہ تم دوسروں کو مذہب کی طرف راغب کرنے کی کوشش ہرگز مت کرو۔‘‘

یہ الفاظ … مجھ پر تازیانہ برسا رہے تھے۔ آج صفوان النصرکی زبان خاموش تھی!

’’ٹھیک ہے…یہ سچ ہے کہ مجھ سے غلطیاں ہوجاتی ہیں‘ میں بھی انسان ہوں‘ اللہ غفار ہے ‘ معاف کرنے والا ہے لیکن اگر میں اچھے کام کرتا ہوں اورلوگوںکو اس کی ہدایت کرتا ہوں تو یہ مجھ پر فرض ہے۔ میری ذمہ داری ہے‘‘۔ میں نے مدلل انداز میں نہیں بلکہ مدافعانہ ا نداز میں کہا۔

’’تم پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرلو اور پھر دوسرو ںکو ہدایت دو تاکہ کوئی تمہیں منافق نہ کہہ سکے۔ اورجہاں تک اللہ کے معاف کرنے کا سوال ہے تو اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ وہ تمہاری غلطیوں کے لئے تمہیں معاف کرسکتا ہے تو پھر وہ ہمیں بھی معاف کرسکتا ہے ہمارے گناہوں کے لئے۔ اور اگرتمہیں لگتا ہے کہ لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے سے تمہاری نیکیوںمیں اضافہ ہوجائے گا اور تم اپنے گناہوں سمیت اللہ کے قریب ہوجائوگے تو ایسا نہیں ہوگا۔ کیونکہ کئی ایسے لوگ بھی ہوںگے جو تمہاری منافقت، تمہارے قول و فعل کے تضاد کی بناء پر حق سے دور ہوگئے ہوں گے۔‘‘

اس کے الفاظ نے مجھے گونگا کردیا۔

’’میں جانتا ہوں میں بہت اچھا آدمی نہیں ہوں‘ مذہب کا زیادہ علم بھی نہیں رکھتا لیکن اتنا ضرورمحسوس کرتا ہوں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ؐ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہو یا لوگوںکو اس محبت کا امپریشن دیتا پھرتا ہو وہ کبھی مدد کے لئے پھیلے ہاتھوں کو محض اپنے گمانوںکی بناء پر نہیں جھٹک سکتا۔ وہ دھوکا اور فریب نہیں کرسکتا۔ ‘‘

میں سمجھ گیا کہ اس کا ریفرنس شاذیہ آنٹی کی طرف ہے۔

’’اور اب مجھے لگتا ہے جو اپنے آپ کو جتنا اچھا اور سچا مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا فراڈہوتا ہے۔‘‘

وہ یہ سب کہتا ہوا ایک جھٹکے سے اٹھ گیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ اس کے الفاظ میرے ارد گرد پھیلے ہوئے تھے‘ اس کی تلخی مجھے گھٹن میں مبتلا کررہی تھی۔ میںکہاں تھا…؟؟

کہیں بھی نہیں

صفوان النصر پاتال میںگر رہا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا ہے۔ لیکن اس کی گرفت تو بہت کمزور تھی… بہت زیادہ…

اورپھر میں نے ایمانداری سے اپنا احتساب کیا تو کانپ اٹھا۔

جھوٹ منافقت کی چار نشانیوں میں سے ایک ہے اور میں جھوٹا ہوں…

غیبت، بہتان، بد گمان سے میرے رب نے روکا ہے میں کھلے عام کرتا ہوں، ہر محفل کا حصہ ہے یہ۔

میرا جینا میرے لئے ہے …

میں عبادات کرکے، شراب، سود ، پورک حرام سے بچ کر خود کو مومنانہ صفت کا حامل سمجھ کر خوش ہوتا رہا … لیکن اب راز کھلا تھا…

میں کچھ نہیں تھا!! کچھ بھی نہیں‘ صفر تھی ابتداء میری صفر ہی اب تک میں ہوں!

اب مجھے احساس ہوا کہ میرے الفاظ میں تاثیر کیوں نہیں…

کیونکہ میرے قول و عمل میں تضاد تھا۔

لرزہ طاری ہوگیا مجھ پر اورآنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے…

احتساب کے لمحے بہت سخت جارہے تھے… وہ ساری رات میں اپنے گناہوں کا شمار کرتا رہا‘ اپنی نیکیاں گنتا رہا جن پر ریاکاری کا سایہ تھا اور آخر میں …

آخر میں صفوان النصر خالی ہاتھ تھا…میرا جی چاہا میں مٹی ہوجائوں۔

میں احسن تقویم تھا اور اسفل السافلین میں شمار ہونے پر بضد تھا!

اس رات میں نے اپنا چولا اتار پھینکا۔ پھر وہ خبیر‘ رشید ذات ‘ میرا رب جانتا ہے کہ میں نے اپنے قول و فعل کو ہم رنگ کردیا۔ اللہ کے رنگ میں رنگ دیا۔ تضاد کو مٹادیا۔ ’قاری نظر آتا ہے۔ حقیقت میں قرآن کی تفسیر سننے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن میں نے شہاب کو کھودیا۔ وہ صبح اپنے روم میں نہیں تھا۔ وہ پھر کبھی مجھے نہیں ملا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے لیکن وہ میری ہر دعا میں ہے!

٭٭

لیکن یہ احساس مجھے چین نہیں لینے دیتا کہ شہاب جیسے کتنے لوگ ہوں گے جو اس قول و عمل کے تضاد کے سبب حق سے دور ہوجاتے ہیں… اور مجھے سکون نہیں…

صفوان النصر نے تھکے تھکے انداز میں دیوار کو ٹیک لگادی۔ آنکھوں سے ا ٓنسو گررہے تھے۔

آج اسی لئے توہماری نگاہوں سے افلاک نہیں لرزتے ہیں‘ کیونکہ یہ مومنانہ نگاہ نہیں۔

یہ تو بس ایک مسلمان کی نگاہ ہے جس کے قول و عمل میں تضاد ہے…

اب تو ہرپل بس یہی ذہن پر چھایا رہتا ہے کہ:

’’تم دوسروںکو تو نیکی کا حکم دیتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے۔‘‘ (القرآن)۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم (اورنگ آباد)

Leave a Reply